ٹوکیو(انٹرنیشنل ڈیسک)جاپان کے وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا کے استعفے کے اعلان کے بعد دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کی باگ ڈور سنبھالنے والے اگلے رہنما پر سب کی نظریں مرکوز ہو گئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ عمل اب پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ شیگرو ایشیبا کی حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی)، جو زیادہ تر جنگ عظیم کے بعد کے دور میں اقتدار میں رہی ہے، اور اس کی اتحادی جماعت نے ان کے دور حکومت میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو دی ہے۔
جماعتی قیادت کا انتخاب
سب سے پہلے ایل ڈی پی کو ایک نیا صدر منتخب کرنا ہوگا جو شیگرو ایشیبا کی جگہ لے۔ اس کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔
پارٹی کے صدر کے لیے ستمبر 2024 میں ہونے والے گزشتہ انتخاب میں امیدواروں کے لیے شرط تھی کہ وہ پارٹی کے 20 قانون سازوں کی نامزدگی حاصل کریں تاکہ مقابلے میں حصہ لے سکیں۔
امیدوار ملک بھر میں مباحثوں اور مہمات کے ایک دور سے گزرتے ہیں جو ارکان پارلیمان اور عام پارٹی اراکین کے ووٹ کے ذریعے مکمل ہوتا ہے۔ پچھلی بار نو امیدوار سامنے آئے تھے جن میں سے شیگرو ایشیبا نے رن آف میں کامیابی حاصل کی تھی۔
ایل ڈی پی کا ووٹ
گزشتہ انتخاب کے طریقہ کار کی بنیاد پر، پہلے مرحلے میں ہر قانون ساز کا ایک ووٹ ہوتا ہے، اور اتنی ہی تعداد میں ووٹ عام پارٹی اراکین کے درمیان تقسیم کیے جاتے ہیں۔
جو امیدوار اس مرحلے میں سادہ اکثریت لے لے، وہ پارٹی لیڈر بن جاتا ہے۔ اگر کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہ کرے تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان دوسرا مرحلہ یعنی رن آف ہوتا ہے۔
دوسرا مرحلہ
دوسرے مرحلے میں پھر ہر قانون ساز کو ایک ووٹ ملتا ہے لیکن عام پارٹی اراکین کے ووٹ کم ہو کر صرف 47 رہ جاتے ہیں، یعنی جاپان کے ہر صوبے (prefecture) کے لیے ایک ووٹ۔
اگر کسی وجہ سے ووٹ برابر ہو جائیں تو پھر قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ قیادت کے انتخاب میں ایسا کبھی نہیں ہوا، لیکن 2010 میں ایل ڈی پی کے ایوانِ بالا کے کاکس کی چیئرمین شپ کے لیے یہ طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔
پارلیمانی ووٹ
چونکہ جماعت کے پاس اب کسی بھی ایوان میں اکثریت نہیں ہے، اس لیے یہ لازمی نہیں کہ ایل ڈی پی کا صدر خود بخود وزیراعظم بنے۔
1994 میں ایل ڈی پی نے اپنی روایتی حریف جاپان سوشلسٹ پارٹی اور ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ تین طرفہ اتحاد بنایا تھا تاکہ اقتدار میں واپس آئے، اور سوشلسٹ رہنما تومئیچی مرایاما کو وزیراعظم منتخب کروایا گیا تھا۔
روایات کے مطابق، زیادہ بااختیار ایوان زیریں (لوئر ہاؤس) سب سے پہلے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالتا ہے۔ ارکان کسی بھی امیدوار کو نامزد کر سکتے ہیں اور تاریخ میں اکثر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی امیدوار بنائے گئے ہیں۔
جو امیدوار پہلے مرحلے میں سادہ اکثریت حاصل کرے، اسے منظوری مل جاتی ہے۔ اگر کوئی اکثریت حاصل نہ کرے تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان رن آف ہوتا ہے۔
ایوان بالا کا کردار
اس کے بعد ووٹنگ ایوان بالا میں جاتی ہے، جہاں اسی طرح کا عمل ہوتا ہے، تاہم صرف ایوان زیریں کے اراکین ہی وزیراعظم بننے کے اہل ہوتے ہیں۔ اگر دونوں ایوانوں کے فیصلے مختلف ہوں تو ایوان زیریں کی رائے کو فوقیت دی جاتی ہے۔
ایسا 2008 میں ہوا تھا جب ایوان زیریں نے ایل ڈی پی کے امیدوار کو چُنا جبکہ ایوان بالا نے اپوزیشن امیدوار کا انتخاب کیا تھا۔
نیا وزیرِاعظم قومی مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے فوری عام انتخابات (snap election) کرانے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔
مزیدپڑھیں:کیمرے پر سب لڑکیاں اچھی نظر آتی ہیں، عبدالرزاق کا تمنا بھاٹیا سے متعلق پوچھے گئے سوال پر جواب
