نیویارک(نیوز ڈیسک)قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا: کہ اسرائیلی جارحیت، جس نے ان کے ملک کو بطور امن قائم کرنے والی ثالثی ریاست نشانہ بنایا، دراصل ریاستی دہشت گردی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ جارحیت قطر کو مصر اور امریکا کے ساتھ ثالثی جاری رکھنے سے نہیں روک سکتی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گمراہ کن مہمات بھی ثالثی کے دائرے میں قطر کے کردار پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔
سات اکتوبر 2023 کو غزہ پر حملے کے آغاز سے ہی قطر مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔ رواں ماہ نو ستمبر کو دوحہ ایک اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا، جس میں حماس کے مذاکراتی وفد کو ٹارگٹ کیا گیا، اور اس دوران ایک قطری فوجی سمیت تقریباً چھ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے کی نمایاں سطح پر مذمت کی گئی اور خلیجی و عرب ممالک نے اسے بزدلانہ اور وحشیانہ قرار دیا۔
أمير #قطر: حملات التضليل لن تمنعنا عن مواصلة الوساطة مع مصر وأميركا#غزة#فلسطين#قناة_العربية pic.twitter.com/3IVqYtSvzZ
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 23, 2025
قطر 2012 سے دارالحکومت دوحہ میں فلسطینی مزاحمتی تحریک (حماس) کے سیاسی دفتر کی میزبانی کر رہا ہے، اور اسی دوران قطری سرزمین پر مذاکرات کے لیے اسرائیلی وفود کی بھی میزبانی کی گئی، کیونکہ قطر کے تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ امیرِ قطر نے کہا کہ حماس اور اسرائیل کے وفود کی میزبانی سب کے علم میں تھی۔
اسی حوالے سے قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا کہ اسرائیلی وفود دوحہ آتے ہیں اور پھر اس پر بمباری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اسرائیلی حکومت یرغمالیوں کی رہائی سے دستبردار ہو جاتی ہے اور اس کا اصل مقصد غزہ کی تباہی ہے۔
أمير #قطر: استضافة وفود حماس وإسرائيل كان بعلم الجميع#غزة#قناة_العربية pic.twitter.com/YRI0yMsJ4E
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 23, 2025
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کوئی جمہوری ریاست نہیں بلکہ حقیقت میں اپنے گرد ونواح کی دشمن ریاست ہے، اور نیتن یاہو فخر سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم ہونے سے روک رکھا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں رہنماؤں کی تقریروں کے ہفتے کے موقع پر، شیخ تمیم بن حمد نے کہا کہ جو بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر اعتراض کرتا ہے، اسےدہشت گرد یا یہود مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ امیرِ قطر کی تقریر میں ان ممالک کے کردار کو سراہا گیا، جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، اور باقی ممالک سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ ریاستِ فلسطین کی قانونی حیثیت کو تسلیم کریں۔
أمير #قطر: وفود إسرائيل تزور الدوحة ثم تخطط لقصفها وحكومة إسرائيل تتخلى عن تحرير الرهائن وهدفها تدمير #غزة#قناة_العربية pic.twitter.com/hbK9WPoR69
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 23, 2025
اسی تناظر میں شیخ تمیم بن حمد نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس شخص کے طور پر بیان کیا جو یہ خواب دیکھتا ہے کہ عرب خطہ اسرائیلی اثر و رسوخ کا علاقہ بن جائے، وہ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے اور نام نہاد ”گریٹر اسرائیل کے نظریے”’پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ تل ابیب شام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امیرِ قطر نے امید ظاہر کی کہ شام عبوری مرحلے کو کامیابی کے ساتھ عبور کرے گا، کیونکہ شام ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جو اس کے عوام کی امنگوں کی تکمیل کی ابتدا ہو گا۔
مزیدپڑھیں:میں ٹرمپ کے سر پر سوار ہوں وہ بھی بغیر کرائے کے، میئر لندن

