Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

برطانیہ میں نئے رہائشی قوانین: تارکین وطن کے لیے سخت فیصلے

لندن : برطانیہ میں امیگریشن قوانین میں تبدیلیاں لاتے ہوئے حکومت نے تارکین وطن کے لیے مستقل سکونت کے اصول مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس نئی پالیسی کے تحت، حکومت نے تارکین وطن کے لیے سکونت کی شرائط اور ضوابط میں اضافی پابندیاں عائد کی ہیں۔

اس حوالے سے برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے لیبر پارٹی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مستقل رہائش کے لیے سخت شرائط متعارف کرانے کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کے قواعد وضوابط کو سخت کیا جارہا ہے تاکہ درخواست گزاروں کو یہاں رہائش کے لیے یہ ثابت کرنا ہو کہ وہ معاشرے کے لیے ایک مفید فرد ہیں۔

برطانوی ہوم سیکریٹری نے کہا کہ فی الحال تارکینِ وطن 5 سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم لیبر پارٹی نے اس مدت کو بڑھا کر 10 سال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جس کے بعد انہیں برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ امیدواروں کو اعلیٰ معیار کی انگریزی سیکھنا ہوگی، جرائم سے پاک ریکارڈ رکھنا ہوگا اور کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات انجام دینی ہوں گی تاکہ مستقل سکونت کا درجہ حاصل کیا جاسکے۔

شبانہ محمود نے مزید کہا کہ فی الحال تارکینِ وطن 5 سال مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔

ہوم سیکریٹری کے مطابق حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اہلیت صرف ان افراد کو دی جائے جو اپنی کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات کا ریکارڈ رکھتے ہوں۔ ان تجاویز پر با ضابطہ مشاورت رواں سال کے آخر میں شروع کی جائے گی۔

شبانہ محمود نے بتایا کہ مائیگریشن آبزرویٹری کے اندازے کے مطابق برطانیہ میں اس وقت تقریباً 45 لاکھ افراد مستقل رہائش رکھتے ہیں، جن میں لگ بھگ 4 لاکھ 30 ہزار غیر یورپی شہری شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کی امریکہ کو پسنی کے مقام پر نئی بندرگاہ بنانے اور چلانے کی پیشکش، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ

یہ بھی پڑھیں