واشنگٹن(ویب ڈیسک ) امریکا کی جانب سے ایک مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی مرض میں مبتلا افراد کو اب ویزا نہیں ملے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں کو نیا مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں داخلے، مستقل رہائش کے خواہشمند افراد کو بیماری کی بنیاد پر ویزا جاری نا کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ذیا بیطس، موٹاپے اور دیگر طبی مسائل کے شکار افراد کا ‘پبلک چارج’ کے تحت ویزا مسترد کیا جاسکتا ہے۔
مراسلے کے مطابق عمر، صحت اور ممکنہ طور پر سرکاری وسائل پر انحصار کے خدشے کی بنیاد پر ویزا مسترد کیا جاسکتا ہے جب کہ کینسر، دل کے امراض میں مبتلا افراد کو بھی امریکا کا ویزا نہیں دیا جائے گا۔
پبلک چارج رُول کے تحت امریکی حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ ایسے لوگ یہاں آکر امریکی حکومت پر بوجھ بنیں گےکیونکہ ان کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے تاہم ایسے افراد یہ ثابت کردیں کے وہ اپنی بیماری کے اخراجات خود اٹھا سکتے ہیں تو انہیں ویزا جاری کرنے کا سوچا جا سکتا ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ امریکا میں 10 کروڑ سے زائد افراد موٹاپے اور 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد ذیا بیطس کا شکار ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں فی تولہ سونا مزید 8300 روپے مہنگا، نئی قیمت نے ہوش اُڑا دیے


