اسلام آباد (نیوز ڈیسک) شہادت کا عظیم جذبہ، ایمان کی پختگی اور مقصدِ حیات کی واضح تصویر اُس وقت سامنے آئی جب عثمان ہادی شہید کے الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔ عثمان ہادی شہید نے کہا تھا کہ ہر انسان موت سے خوفزدہ ہوتا ہے، مگر میری خواہش ہے کہ میں مسکراتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہوں۔
انہوں نے اپنے خیالات میں زندگی کے مقصد کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص پچاس برس زندہ رہے مگر اپنے ملک، اپنی قوم اور امت کے لیے کوئی مثبت اثر نہ چھوڑ سکے تو ایسی زندگی کی کوئی وقعت نہیں۔ ان کے مطابق اصل کامیابی لمبی عمر نہیں بلکہ وہ اثر ہے جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔
عثمان ہادی شہید کا کہنا تھا کہ اگر کوئی صرف پانچ برس زندہ رہے لیکن پچاس برسوں کے برابر اثر چھوڑ جائے تو یہی اس کی حقیقی کامیابی ہے۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی نوجوانوں کے لیے حوصلے، قربانی اور مقصدیت کا پیغام بن چکے ہیں۔
عثمان ہادی شہید کی سوچ اور نظریہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہادت محض جان قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی گزارنے کا عہد ہے جو قوم، ملک اور امت کے لیے مشعلِ راہ بن جائے۔ ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے کردار اور اثر سے تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔
ہر بندہ موت سے خوفزدہ ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ مسکراتے ہوئے اللہ کے حضور پہنچوں
اگر میں 50 برس زندہ رہوں مگر اپنے ملک، اپنی قوم اور امت کے لیے کوئی اثر نہ ڈال سکوں تو وہ کیسی زندگی ہوگی۔ اگر میں صرف 5 برس زندہ رہوں اور 50 برسوں کا اثر چھوڑوں تو یہ میری کامیابی ہے۔ عثمان ہادی شہید pic.twitter.com/B4v2Ozizp2— Bangla Urdu | بنگلہ اردو (@BanglaUrdu_) December 20, 2025
مزیدپڑھیں:نادرا نے شناختی کارڈ بنوانے والوں کیلئے نئی ہدایات جاری کردیں

