پیانگ یانگ(نیوز ڈیسک) شمالی کوریا نے رواں ہفتے دو نئے میزائل تجربات کر کے ایک بار پھر عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میزائلوں نے طویل فاصلے تک پرواز کی اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک فضا میں رہے، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان کی رینج ہزاروں کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔
دفاعی ذرائع کے مطابق ان تجربات میں ایک زمین سے زمین تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل جبکہ دوسرا سمندر سے زمین تک ہدف کو نشانہ بنانے والا میزائل شامل تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات سے شمالی کوریا کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی و عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما Kim Jong Un طویل عرصے سے میزائل اور جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ شمالی کوریا پہلے ہی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) کے کئی تجربات کر چکا ہے، جو نظریاتی طور پر امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خطے میں تشویش
شمالی کوریا کے حالیہ اقدامات کے بعد Japan اور South Korea سمیت خطے کے دیگر ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل تجربات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر میزائل واقعی اتنی طویل مدت تک پرواز میں رہے ہیں تو یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ شمالی کوریا اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے۔ اس پیش رفت سے بحرالکاہل کے خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
عالمی صورتحال اور ممکنہ اثرات
ادھر مشرق وسطیٰ میں Iran اور United States کے درمیان جاری کشیدگی نے بھی عالمی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربات کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا اور عالمی طاقتوں کو پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ پیانگ یانگ کسی بھی دباؤ میں آنے کے لیے تیار نہیں۔
مزیدپڑھیں:سونا اچانک سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، نئی قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے


