واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کا جارحانہ رویہ اور صحافیوں کے سوالات پر غصہ انٹرنیٹ پر ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں صارفین ان کے انداز پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر میڈیا کو اعتماد میں لینے کے لیے پریس بریفنگ منعقد کی۔
بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگسیتھ کا چہرہ مسلسل اترا ہوا تھا اور جب انہیں صحافیوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو جواب میں وہ ضبط کھو بیٹھے اور جارحانہ رویہ اختیار کرلیا۔
ایک صحافی نے پیٹ ہیگسیتھ سے امریکی جنگی طیارے کی ایران میں تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ جب صدر ٹرمپ اور آپ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے، توپھر ہمارا جدید ترین طیارہ کیسے گرا؟ کیا آپ امریکی عوام کو نقصانات کی اصل تصویر دکھانے سے ڈر رہے ہیں؟
ہیگستھ نے انتہائی غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سوال بدنیتی پر مبنی ہے‘۔ انہوں نے چینل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نیٹ ورک کو اپنی رپورٹنگ کا معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور صحافی نے پوچھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی محفوظ آمد روفت کیسے یقینی بنائے گا؟
صحافی نے جنرل ڈین کین سے سوال پوچھنے کی کوشش کی تو پیٹ ہیگسیتھ نے انہیں جواب دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ ’یہ سوال نہیں بلکہ فردِ جرم ہے‘۔
Caine: There's a lot in that question. I'd love to take that offline and answer it, but it was I'm struggling to find exactly what your question was. And that's probably me, not you.
Hegseth: It was an indictment framed as a question. pic.twitter.com/xCRAaaKTVx
— Acyn (@Acyn) April 8, 2026
بریفنگ کے دوران این بی سی نیوز کی خاتون صحافی کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں سوال پر پیٹ ہیگسیتھ بھڑک گئے اور انہیں روک دیا۔
خاتون صحافی نے سوال کیا کہ ’ایران کی جانب سے اب بھی میزائل فائر کیے جارہے ہیں‘۔ جس پر امریکی وزیرِ جنگ کو غصہ آگیا۔ انہوں نے جواب دیا ’آپ اتنی بدتمیز کیوں ہیں؟ بس انتظار کریں، ابھی میں کسی اور کا سوال لے رہا ہوں‘۔
🚨 WOW! Sec. Pete Hegseth SMACKS DOWN rude reporter YELLING at him
"They're still firing ballistic missiles!!"
HEGSETH: "EXCUSE ME. Why are you so RUDE? Just WAIT. I'm calling on people."
*Under his breath* "So NASTY." 🤣🔥 pic.twitter.com/vH7Xweo1iI
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) April 8, 2026
پریس بریفنگ کے دوران سخت سوالات کے جواب دیتے ہوئے وہ اس میڈیا نیٹ ورک پر بھی دبے لفظوں میں اپنا غصہ نکالتے رہے۔
دوسری جانب جنرل ڈین کین بریفنگ کے دوران خوش گوار انداز میں گفتگو کرتے رہے۔ ایک موقع پر انہوں نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکی فوج کے کھانے پینے کی تفصیلات بتانا شروع کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس آپریشن کے دوران ہماری اہلکاروں نے 6 لاکھ سے زائد کھانے استعمال کیے، اور تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار گیلن سے زائد کافی، 2 ملین توانائی کے مشروبات اور کافی بڑی مقدار میں نکوٹین کا استعمال کیا۔
JUST NOW: General Dan Caine jokes about the amount of food and resources that have kept Operation Epic Fury up and running:
"Along the way, we consumed more than 6 million meals, and by my estimate, more than 950,000 gallons of coffee, 2 million energy drinks, and a lot of… pic.twitter.com/DXwqkJ2sz3
— Fox News (@FoxNews) April 8, 2026
واضح رہے کہ امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پیٹ ہیگسیتھ عہدہ چھن جانے کے خوف سے وزیرِ جنگ کے لیے موزوں افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ کے عین دوران انہوں نے فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد سینیئر افسران کو برطرف یا جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا۔ جس میں کئی افسران وہ ہیں جو عراق، افغانستان اور خلیجی جنگوں میں برسوں خدمات انجام دیتے رہے۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو اپنی نوکری چھن جانے کا خوف لاحق ہے۔ اس لیے وہ ہر اس شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کی جگہ لے سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکا ایران مذاکرات کیے لیے اسلام آباد میں تیاریاں؛ جے ڈی وینس کی آمد مشکوک


