ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز(Strait of Hormuz) سے متعلق صورتحال میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران نے تین سخت شرائط کے تحت اس اہم بحری راستے کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سے قریبی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم خطے میں دیگر کشیدگیوں کے باعث یہ عمل عارضی طور پر معطل ہوا اور اب دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔
ایران کی پہلی شرط کے مطابق آبنائے ہرمز سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جبکہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ اس کے علاوہ دشمن ممالک کے جہاز یا ان کا سامان لے جانے والے جہازوں کو بھی راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہازوں کو ایران کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص روٹ سے گزرنا ہوگا، جبکہ تیسری شرط کے تحت جہازوں کو پاسدارانِ انقلاب سے رابطے میں رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:ایران دشمن کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے تیار ہے، سپریم لیڈر
ذرائع کے مطابق اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رہی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے بھی عندیہ دیا تھا کہ یہ راستہ صرف جنگ بندی کے دوران تجارتی جہازوں کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ناکہ بندی برقرار رہے گی جب تک مکمل معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
ایرانی صدر کے ترجمان نے بھی امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔


