ڈونلڈ ٹرمپ(donald trump) نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں اور وہ کل شام تک پاکستان کے دارالحکومت پہنچ جائیں گے، جہاں اہم سفارتی بات چیت متوقع ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کر کے جنگ بندی (سیزفائر) کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان “عجیب” ہے، کیونکہ ان کے بقول امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ راستہ پہلے ہی مؤثر طور پر بند ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران خود اس صورتحال میں امریکا کی مدد کر رہا ہے، تاہم اسے اس بات کا ادراک نہیں۔
امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکا کو اس صورتحال میں کوئی مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دباؤ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بیٹا لائم لائٹ سے دور رہنا پسند کرتا ہے،اکشے کمار
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکی نمائندے اسلام آباد پہنچ کر ممکنہ طور پر علاقائی کشیدگی، جنگ بندی اور بحری راستوں کی بحالی سے متعلق اہم مذاکرات کریں گے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شامل ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا بندش عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


