بھارت کی ریاست راجستھان(Rajasthan) میں ایک بڑے صنعتی منصوبے کو اس وقت دھچکا لگا جب افتتاح سے محض 24 گھنٹے قبل ریفائنری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ضلع بالوترا کے علاقے پچپدرا میں پیش آیا، جہاں قائم اس جدید ریفائنری(oil refienry) سے آگ لگنے کے بعد سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔
🇮🇳🔸A major fire broke out at the Pachpadra oil refinery in Rajasthan, India, a day before its inauguration by Prime Minister Modi. pic.twitter.com/jN9j4EziKX
— Argonaut (@FapeFop90614) April 20, 2026
خوش قسمتی سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی، تاہم واقعے نے سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ منصوبہ انڈین آئل کارپوریشن اور حکومتِ راجستھان کا مشترکہ پراجیکٹ ہے، جسے بھارت کا پہلا گرین فیلڈ انٹیگریٹڈ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا سنگ بنیاد 2013 میں رکھا گیا تھا جبکہ بعد ازاں اس کی لاگت میں نمایاں اضافہ بھی ہوا۔
بعد میں نریندر مودی نے 2018 میں اس منصوبے کو دوبارہ شروع کیا تھا اور اب اس کا باضابطہ افتتاح متوقع تھا، تاہم حالیہ آتشزدگی کے باعث افتتاحی تقریب کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ریفائنری نہ صرف ایندھن کی پیداوار کے لیے اہم ہے بلکہ اس میں پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تیاری کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے، جس سے صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا ہونے کی توقع تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب منصوبہ قومی سطح پر ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، جس کے باعث اس حادثے نے حکام اور عوام دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
