امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ(Donald trump) پاکستان میں متوقع امن مذاکرات میں شرکت کر سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے پر ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں امریکی صدر کی ذاتی یا ورچوئل شرکت زیر غور ہے، اور یہ مذاکرات ممکنہ طور پر رواں ہفتے منعقد ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے، جبکہ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اس میں توسیع کے امکانات کم ہیں۔ ایسے میں خطے کی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:پاسپورٹ وصولی کے اوقات تبدیل ، نئی فیسوں کا اعلان
امریکی حکام کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پاکستان میں طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے، تاہم ایران نے حالیہ پیش رفت کے بعد شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز کو امریکی تحویل میں لیے جانے کے واقعے کے بعد تہران نے مذاکرات سے دور رہنے کا عندیہ دیا تھا۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تہران اس معاملے پر مثبت انداز میں غور کر رہا ہے، لیکن صورتحال تاحال غیر یقینی ہے اور حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
