ڈونلڈ ٹرمپ (Donald trump)نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ایک بڑی ڈیل کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاملات کو مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہے اور مذاکرات میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، تاہم جنگ بندی میں مزید توسیع کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اب مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہر ممکن آپشن کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، تاہم وہ کسی بھی فیصلے میں جلد بازی نہیں کریں گے۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ تہران نے کئی مواقع پر معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال کے حوالے سے واضح کیا تھا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ کسی معاہدے سے مشروط ہوگا، بصورت دیگر ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:ٹرمپ کی اسلام آباد مذاکرات میں شرکت متوقع: برطانوی میڈیا
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل عارضی جنگ بندی 8 اپریل سے شروع ہوئی تھی جو بدھ کی رات ختم ہونے والی ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ ان مذاکرات میں ذاتی یا ورچوئل طور پر شرکت بھی کر سکتے ہیں۔
