Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کی بندش پرتیل کی ترسیل کے لیے کون سے نئے راستے اپنا سکتے ہیں؟

آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں رکاوٹ نے عالمی توانائی نظام کی ایک بڑی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں متبادل راستوں کے باوجود اس اہم گزرگاہ کا مکمل متبادل فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔

بین الاقوامی توانائی اداروں کے مطابق Strait of Hormuz دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سمندری تیل کا تقریباً 20 سے 25 فیصد اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک بڑا حصہ روزانہ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں معمولی سی بھی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا سبب بن جاتی ہے۔

International Energy Agency کے مطابق موجودہ صورتحال توانائی سپلائی کے لیے اب تک کے سب سے بڑے تعطل میں سے ایک تصور کی جا رہی ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ متبادل پائپ لائن سسٹمز موجود ہیں، لیکن ان کی گنجائش آبنائے ہرمز کے مقابلے میں انتہائی محدود ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم یہ بھی مکمل طور پر خلیجی برآمدات کا متبادل نہیں بن سکتی، خاص طور پر اس کے بعد آنے والے خطرناک سمندری راستوں کی وجہ سے۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات کا حبشان-فجیرہ پائپ لائن سسٹم آبنائے ہرمز سے بچنے کا ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی گنجائش بھی محدود ہے اور یہ مجموعی عالمی طلب کا صرف ایک حصہ ہی پورا کر سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:’کلاڈ میتھوس‘ تک چند غیر متعلقہ افراد نے رسائی حاصل کر لی

عراق اور ایران جیسے ممالک بھی متبادل راستوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن مختلف تکنیکی، مالی اور سیاسی مسائل کے باعث یہ منصوبے مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ متبادل راستوں کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان کی ناکافی صلاحیت ہے، کیونکہ روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات اس خطے سے گزرتی ہیں، جو موجودہ تمام متبادل نظاموں کی مجموعی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔

مزید یہ کہ مائع قدرتی گیس کے لیے تو عالمی سطح پر تقریباً کوئی موثر متبادل راستہ موجود ہی نہیں، جس سے صورتحال مزید حساس ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک Strait of Hormuz مکمل طور پر فعال اور محفوظ نہیں رہتا، عالمی توانائی مارکیٹ میں رسد کا دباؤ اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا خدشہ موجود رہے گا، کیونکہ فی الحال دنیا کے پاس اس “توانائی کی شہ رگ” کا کوئی مکمل نعم البدل موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں