سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) کے حالیہ بیان کے بعد بھارت کی عالمی ساکھ اور سفارتی پوزیشن ایک بار پھر شدید بحث کی زد میں آ گئی ہے، جبکہ بھارتی سیاسی حلقوں میں اس پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں بھارت کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے، جسے بھارتی اپوزیشن نے انتہائی توہین آمیز قرار دیا ہے۔ اس بیان کے بعد ملک کے اندر سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی کمزور خارجہ پالیسی اور سفارتی ناکامیوں کی وجہ سے بھارت کی عالمی سطح پر پوزیشن متاثر ہو رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں نے ملک کو تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
کانگریس کے مطابق مودی حکومت کی پالیسیوں، بالخصوص ہندوتوا نظریے پر مبنی طرزِ حکمرانی نے عالمی سطح پر بھارت کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ امریکی بیانات پر حکومت کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔
مزیدپڑھیں:’اپنا کھیت، اپنا روزگار اسکیم‘: ہر کامیاب امیدوار کو لاکھوں مالیت کی زرعی اراضی ملے گی
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے ملک کے بارے میں اس نوعیت کے سخت بیانات اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ اس کی داخلی صورتحال اور انسانی حقوق کے معاملات پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری کے آثار بھی نمایاں ہوئے ہیں، جو مستقبل میں دونوں ممالک کی سفارتی و معاشی شراکت داری پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی سفارتی حکمت عملی میں کمزوری بھارت کے لیے عالمی سطح پر مزید چیلنجز پیدا کر رہی ہے، جس کے اثرات اس کی بین الاقوامی حیثیت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔


