بھارت میں ایک انوکھا اور توجہ حاصل کرنے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے براہ راست پولیس سے شادی(Merriage) کروانے کی درخواست دے دی، جس نے مقامی سطح پر بھی حیرت اور بحث کو جنم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریاست اتر پردیش کے علاقے سرائے عنایت کی رہائشی مادھوری پٹیل نے مقامی تھانے میں تحریری شکایت جمع کروائی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کے گھر والے ان کی شادی کے عمل میں مسلسل رکاوٹ بن رہے ہیں اور انہیں مناسب رشتہ تلاش کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
درخواست میں مادھوری پٹیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھائی اور بھابی کئی رشتوں کو ذاتی وجوہات کی بنا پر مسترد کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق گھر والے شادی کے اخراجات سے بچنے کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ کئی سال سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
مزید برآں خاتون نے اپنے بھائی پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ انہوں نے خاندانی زمین اپنے نام منتقل کر لی ہے، اور اب وہ نہ صرف ذمہ داری سے گریز کر رہے ہیں بلکہ ان کی شادی کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کر رہے۔ درخواست میں والد، والدہ، بھائی اور بھابی کو فریق بنایا گیا ہے۔
مادھوری پٹیل نے پولیس سے واضح طور پر استدعا کی ہے کہ ان کے لیے کوئی مناسب اور اچھا رشتہ تلاش کیا جائے اور ان کی شادی کروا دی جائے تاکہ وہ ایک باعزت اور پُرسکون زندگی گزار سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً 20 سال سے اکیلی زندگی گزار رہی ہیں اور اپنے تمام اخراجات خود اٹھا رہی ہیں، تاہم خاندانی حالات نے ان کی ذاتی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
خوشخبری!صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
خاتون نے اپنی شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہیں گھر میں ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور بعض مواقع پر مبینہ طور پر جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی چھان بین کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سماجی سطح پر بھی بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے گھریلو مسائل کی شدت قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے غیر معمولی اندازِ شکایت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔


