ایران اور امریکا(Iran and united states) کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ بندی سے متعلق سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا باضابطہ ردعمل ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کے ذریعے ارسال کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے امریکی تجاویز کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد جواب اسلام آباد کے ذریعے بھجوایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکرات میں ابتدائی توجہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور دشمنی کم کرنے پر مرکوز ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کئی بار کہا تھا کہ امریکا کی تجاویز پر ایران اپنا مؤقف اور تحفظات مکمل جائزے کے بعد پیش کرے گا۔
اسلام آباد میں موجود سفارتی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو ایران کا باضابطہ ردعمل موصول ہو چکا ہے، جبکہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ پیغام واشنگٹن تک کب پہنچایا جاتا ہے اور امریکا کی جانب سے اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA
کے مطابق ایران کے جواب میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جنگ کے خاتمے اور سمندری سلامتی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کو کمزوری یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ جنگ کے بعد بحالی سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور عوامی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تہران کا مقصد ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع ہے، جبکہ سفارت کاری اور مذاکرات کو مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ پسپائی کا اشارہ۔


