Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

آپی عائشہ خان کا اخلاقی قتل

یہ خبر پڑھ کر پاکستان کے قابل فخر خاندانی نظام سے دل اچاٹ ہو گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں اپنی جائیداد زندگی ہی میں بچوں کے نام منتقل کر دینی چاہیے، انہیں انتظار کروانا چاہیے یا وصیت لکھنی چاہیے کہ اس کے مطابق وہ خود ہی پراپرٹی اور نقدی وغیرہ کا بٹوارا کر لیں؟ اس

کیا اگلاہدف۔۔۔۔پاکستان؟

دنیاکی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جوصرف خبریں نہیں ہوتے،وہ آنے والے زمانوں کی پیش گوئیاں،تہذیبی موڑاورفکری دنگل کے تمہیدی اشارے بن جاتے ہیں۔ دنیا کی سیاسی افق پروہ لمحے باربارنمودارہوتے ہیں جب تاریخ کی سانسیں رکتی محسوس ہوتی ہیں،اورطاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی آوازیں گویا حشر کا نقارہ بن جاتی ہیں۔بعض اوقات دنیاکی تاریخ میں کچھ

جھوٹے دیو قامتوں کا زوال

جنگ دراصل انسانیت کی ناکامی کا اندوہناک اظہار ہے— مکالمے سے اختلافات حل نہ کر سکنا، حدود و قیود کا احترام نہ کرنا، اور انصاف کے اصولوں کو پامال کرنا۔ جنگ معصوموں پر ہولناکیاں مسلط کرتی ہے اور تہذیبوں کو بے گناہوں کے خون سے داغدار کر دیتی ہے۔ مگر تاریخ میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب جنگ

موجودہ امریکہ سابق صدر جمی کارٹر کی نظر میں

آج سے دو عشرے قبل سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے ’’امریکہ کا اخلاقی بحران‘‘ کے عنوان سے بدلتے ہوئے امریکہ کی اس وقت کی صورتحال کا نقشہ کھینچا تھا جس کا خلاصہ ہم نے ستمبر ۲۰۰۶ء کے دوران اپنے کالم میں قسط وار پیش کیا تھا، آج کے ماحول میں اس پر ایک بار پھر نظر ڈالنے کی محسوس

ایران پر جارحیت کے بدلے نوبل پرائز

گزشتہ روز امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے تین ایرانی نیوکلیئر سائٹس فردو، نتانز اور اصفہان کو حملہ کر کے تباہ کر دیا. اس سے اسرائیل کو فیس سیونگ تو مل گئی، لیکن جنگ بندی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں جس کے لئے اسرائیل نے خود کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے امریکی صدر کا ترلا کیا تھا۔

ایران پر امریکی حملے کے بعد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ’’امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے ۔جس کے بعد امریکہ باقاعدہ طور پر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ میں شامل ہوگیا ہے ‘‘۔ اتوار کی صبح اپنے ایک ٹی وی خطاب میں بھی امریکی صدر نے کہاتھا کہ’’آج کی رات اب تک کی سب سے سے مشکل

کالم پروفائل