Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

میدان جنگ سے سفارت کاری تک، پاکستان کی فتح

فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ غیر معمولی ملاقات نے عالمی مبصرین، تجزیہ کاروں اور حکومتوں کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ یہ محض دو اہم شخصیات کی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات نہ تھی، بلکہ ایک تاریخی علامت تھی—پاکستان کو ایک پُرامن، ذمہ دار اور عسکری لحاظ سے قابل ملک کے طور

تاریخ کی کروٹ،وقت کی کڑواہٹ

(گزشتہ سے پیوستہ) پاکستانی طیارے،جن کی پروازیں پاک سرزمین پرمحدودرہیں،مگرجن کے میزائلوں نے سرحدپاردشمن کونشانِ عبرت بنایا،صرف عسکری مہارت کامظہرنہیں تھے،بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ،پاک چین حکمت عملی کاغیرعلانیہ تجربہ تھا۔ پاکستان کی فتح دراصل چین کی کامیاب عسکری مارکیٹنگ تھی۔اسی تجربے کے بعد چنگڈو ایئر کرافٹ کمپنی کے حصص میں40 فیصداضافہ محض اقتصادی اشاریہ نہیں،بلکہ اس بات کابین

قرآن مجید صرف ماضی کی نہیں مستقبل کی بھی کتاب ہے

ایک بات جو ہم روا روی میں بسا اوقات کہہ دیتے ہیں، یہ ہے کہ مدارس میں قدیم تعلیم ہوتی ہے اور سکول کالج یونیورسٹی میں جدید تعلیم ہوتی ہے۔ بظاہر تناظر یہی ہے۔ مجھے جدید تعلیم سے انکار نہیں ہے، کالج یونیورسٹی کی تعلیم کا میں بھی قائل ہوں اور اسے قوم اور سوسائٹی کی ضرورت سمجھتا ہوں، لیکن

ایران کے بعد پاکستان ؟

(گزشتہ سے پیوستہ) ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے نے امریکاکو ’’بے ایمان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران جوہری مذاکرات میں مصروف ہیں۔ایرانی ایوان صدر کے مطابق، پیزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا، ’’مذاکرات کے درمیان صہیونی حکومت کی ایرانی سرزمین کے خلاف جارحیت

کب جاگے گی امت؟

میں نے زندگی کے کئی منظر دیکھے۔ عراق کی بربادی، افغانستان کی خاک، شام کا خوں رنگ پانی، برما اور ہندوستان میں خون کی ہولی اور لیبیا کی بکھری ہوئی ریاستیں۔ مگر ایک چیز ہر جگہ مشترک دیکھی …! مسلمان کا لاشہ، مسلمان کی آہ اور مسلمان کی تنہائی، اور آج جب ایران نے اسرائیل کے قلب پر خیبر شکن

ایران ،اسرائیل جنگ،عرب و عجم ، تقسیم ،نیا شاخسانہ

مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو مصر اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کی حامل دکھائی دیتی ہے ۔اسرائیلی ریاست کے قیام عمل میں آجانے کے بعد سے ابتک دونوں ممالک کے تعلقات میں نشیب وفراز کی صورت دکھائی دیتی ہے ،جن میں شدید مبازرتیں ،سفارتی معاہدے

کالم پروفائل