نماز، عبادت یا مکمل طرزِ زندگی؟
(گزشتہ سےپیوستہ) اب سوال یہ ہے کہ اگر نمازبرائیوں سے روکتی ہے،توپھرکچھ نمازی کیوں گناہ کرتے ہیں؟ اس کاجواب خودجرنل آف ریلیجیس سائیکالوجی (2022)کے مطابق یہ بتایاگیاہے کہ رسمی نمازیعنی بغیرسمجھے نمازپڑھنے سے دماغی مراکزمتحرک نہیں ہوتے جبکہ’’مڈیٹیونماز‘‘توجہ کے ساتھ)(اخلاقی فیصلے کرنے والادماغی حصے)کوفعال کرتی ہے۔ اورتھیراپیوٹک ماڈل ماہرین کاکہناہے کہ ’’نمازکوروزانہ مراقبہ کی طرح استعمال کیاجائے تویہ نشہ، جھوٹ،اورتشددجیسے