Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

کیا ملک میں اقتصادی ترقی ہورہی ہے؟

اس وقت سب سے ہم سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں اقتصادی ترقی ہورہی ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر غربت کا عفریت ہرسو کیوں نظرآرہاہے؟ بعض معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ دولت چند افراد کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر سرمایہ کاری ہوبھی رہی ہے تو فی الحال اس کے نتائج مثبت انداز میں سامنے نظرنہیں

ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا

(گزشتہ سے پیوستہ) ایک کلپ دکھایا جس میں بس کے اندر سے دو بچے اپنے باپ کو الوداع کر رہے تھے اور روتے جا رہے تھے،کیونکہ عورتوں اور بچوں کے انخلا کو فوقیت دیتے ہوئے مردوں کو رکنا تھااور باہر کھڑا باپ اپنے آپ پر کنٹرول کر کے ان کو ہاتھ ہلا کر رخصت کر رہا تھا،یہ کلپ دکھاتے ہوئے

وقت اور زندگی کی حقیقت

کیا یہ سوال منطقی طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ وقت کو روک کر زندگی کا دورانیہ یا عمر بڑھا لی جائے؟ یہ سوال بہت دلچسپ ہی نہیں علمی اور دانشورانہ بھی ہے کہ جس سے البرٹ آئنسٹائن جیسے دنیا کے عظیم ترین سائنس دان کو بھی واسطہ پڑا تھا۔ دنیا کا کون سا انسان ہے کہ جو زیادہ

حقیقی محبت کا مقام، عرشِ رحمان کے سائے تلے

حقیقی محبت وہ ہے جو اللہ کے لئے ہو، اللہ کی رضا کے لئے ہو اور اسی کی خاطر دلوں میں جاگزیں ہو۔ حدیث مبارکہ کے مطابق، قیامت کے دن، جب ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا، سات خوش نصیب گروہ ایسے ہوں گے جو اللہ کے عرش کے سائے میں جگہ پائیں گے اور ان میں سے ایک وہ

برمنگھم میں صدر آزاد کشمیر کے خلاف مظاہرہ

یہ الزام کہ صدر آزاد کشمیر کے خلاف مظاہرہ انڈین لابی یا مودی نے کروایا ہے سرا سر محض الزام ہے خدا کا خوف کریں یہ مظاہرہ برٹش کشمیریوں نے آزادکشمیر کے لوگوں کے حقوق کے لئے سخت یخ بستہ سردی اور بارش میں کھڑے رہ کر کیا ہے جو برطانیہ میں آباد ہیں مظاہرہ کرنا یا احتجاج کرنا اور

’’سیاسی عدمِ استحکام‘‘ کا تصوراتی بیانیہ!

اپریل2022ء سے اَب تک، پی۔ٹی۔آئی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار ہوا نہ روایتی عدمِ استحکام کا کوئی ایسا بھونچال آیا کہ دَرودِیوار لرز اٹھتے اور نظمِ حکومت کو سنبھالے رکھنا مشکل ہوجاتا۔ البتہ پی۔ٹی۔آئی کی اپنی کشتی بَرمودا تکون کے خونیں جبڑوں تک آن پہنچی ہے۔ چوبی تختے چرچرا رہے ہیں، بادبان دھجیاں ہو

کالم پروفائل