ترقی یافتہ ممالک کےفلڈمینجمنٹ ماڈل اورہماری بےحسی
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں کلائوڈ برسٹ پلان کے نام سے ایک منفرد نظام ہے۔ اس منصوبے کے تحت سڑکیں، پارک اور مخصوص راستے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ جب اچانک تیز بارش ہو تو پانی ان ہی
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں کلائوڈ برسٹ پلان کے نام سے ایک منفرد نظام ہے۔ اس منصوبے کے تحت سڑکیں، پارک اور مخصوص راستے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ جب اچانک تیز بارش ہو تو پانی ان ہی
دنیا کے مختلف خطے زبانیں ثقافتیں اور قومیں جب آپس میں ملتی ہیں تو صرف فاصلے کم نہیں ہوتے بلکہ دل بھی قریب آتے ہیں۔ تہذیبوں کا تصادم اگر انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے تو تہذیبوں کا تبادلہ امید
دنیا محض واقعات کا مجموعہ نہیں یہ اقوام کے عقائد، رویوں اور انجام کی شہادت ہے۔ کچھ قومیں ہدایت کی روشنی میں آگے بڑھیں اور کچھ نے روشنی پا کر بھی اندھیرے کو چنا۔ ان میں سب سے عبرتناک مثال
کبھی کبھی سیاست کے صحرا میں جب دھوپ تیز ہو جائے منظر دھندلا جائے اور امیدیں سوکھنے لگیں تو کچھ آوازیں ابھرتی ہیں کچھ نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ ایسے نعرے جو برسوں سے سننے کو ملتے رہے ہیں اور جن
کہتے ہیں زمین پر ظلم کا چراغ جتنا بھی روشن ہو وقت کی آندھی اسے بجھا کر رہتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں تکبر کی چھت پر چڑھ کر دوسروں کی قبریں کھودتی ہیں وہ بالآخر خود انہی
تاریخ کے اوراق پر اگر کسی قوم نے خلوصِ نیت کے ساتھ امن کا پرچم بلند کیا تو وہ پاکستان ہے۔ وہ پاکستان جو خود خاک و خون کی نہروں سے گزرا، اپنے ہزاروں سپوتوں کی قربانی دے کر بھی
تاریخ کا اصول بڑا سیدھا ہے۔ جو اقوام اپنے دشمن کو پہچاننے میں تاخیر کرتی ہیں وہ صفحہ ہستی پر محض ایک نوٹ بن کر رہ جاتی ہیں۔ وہ فقط دردناک یادیں چھوڑ جاتی ہیں جن پر بعد میں نسلیں
1947 ء کا موسمِ بہار تھا جب یورپ سے آئے اجنبی چہروں والے قافلے فلسطین کی سرزمین پر اترے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں دنیا اشکنازی یہودیوں کے نام سے جانتی ہے۔ ان کے چہروں پر مظلومیت کی جھوٹی پرچھائیاں
کچھ لوگ شخصیت سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ عہدے سے، اور کچھ کردار سے۔ راجہ پرویز اشرف ان معدودے چند سیاسی شخصیات میں سے ہیں جنہیں ان کے وقار، متانت، گفتگو کی شائستگی اور قومی اداروں کے احترام کے باعث
ایک وقت ہوتا ہے جب طاقتور کی للکار سے زمین کانپنے لگتی ہے اور ایک وقت آتا ہے جب کسی مظلوم کی خاموشی گرج میں بدل جاتی ہے۔ اور جب یہ گرج کسی قوم کے صبر، غیرت، تاریخ اور نظریے