Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

تنویر اقبال

کیا ہم کوئی غلام ہیں ؟

یاایبسولیوٹلی ناٹ سے برائے مہربانی امریکہ تکیہ دنیا عبرت کا گھر ہے۔ یہاں ہر نعرہ ہر دعوی ہر للکار وقت کی چھلنی سے گزرتا ہے۔ کوئی سچ ثابت ہوتا ہے تو کوئی رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ اور یہ

مزید پڑھیں »

رفیقِ محفل نے رسوا کر دیا

کہنے کو وہی تھا جسے برسوں سے اسٹرٹیجک پارٹنر کہا جاتا رہا۔ جس کے ساتھ جلسوں میں ہاتھ تھام کر نعرے لگائے گئے جس کے لیے دلی کی سڑکیں سجائی گئیں اور جس کے نام پر ہندوستانی غرور کا مینار

مزید پڑھیں »

فیلڈ مارشل کا مشن بیجنگ

کبھی کبھی تاریخ خاموشی سے اپنے فیصلے سنا دیتی ہے۔ نہ ڈھول پیٹے جاتے ہیں نہ بین بجائی جاتی ہے۔ مگر وہ لمحے تاریخ کے تاج پر اپنی مہر چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی لمحات حال ہی میں بیجنگ

مزید پڑھیں »

سیاسی لیبارٹری

کبھی کبھی سیاست کے صحرا میں جب دھوپ تیز ہو جائے منظر دھندلا جائے اور امیدیں سوکھنے لگیں تو کچھ آوازیں ابھرتی ہیں کچھ نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ ایسے نعرے جو برسوں سے سننے کو ملتے رہے ہیں اور جن

مزید پڑھیں »

ایک فاشسٹ خواب کا جنازہ

کہتے ہیں زمین پر ظلم کا چراغ جتنا بھی روشن ہو وقت کی آندھی اسے بجھا کر رہتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں تکبر کی چھت پر چڑھ کر دوسروں کی قبریں کھودتی ہیں وہ بالآخر خود انہی

مزید پڑھیں »