علم کے میناروں پر زوال کے سائے
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ برین ڈرین پاکستان کی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جب ہمارے باصلاحیت دماغ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں تو مقامی یونیورسٹیوں کا معیار مزید گرتا جا رہا ہے
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ برین ڈرین پاکستان کی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جب ہمارے باصلاحیت دماغ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں تو مقامی یونیورسٹیوں کا معیار مزید گرتا جا رہا ہے
دیگر شعبوں کی طرح پاکستانی تعلیمی نظام کی حالت زار آج انتہائی تشویش ناک ہے۔ عالمی سطح پر یونیورسٹیوں کی تازہ ترین درجہ بندیوں میں پاکستانی ادارے ایک بار پھر نیچے گرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام
بجٹ پیش ہو گیا۔ قومی اسمبلی کی میزوں پر دستکیں بھی بجیں، سرکاری بنچوں سے کامیابی کے دعوے بھی گونجے اور اعداد و شمار کے ایسے انبار لگائے گئے جیسے پاکستان معاشی ترقی کی شاہراہ پر دوڑ رہا ہو۔ مگر
پاکستان ماحولیاتی تباہی کے ایک بھاری طوفان کا شکار ہے۔ پچھلے سال پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ ملک قرار پایا۔ یہ آلودگی ہوا پانی مٹی اور جنگلات سب کو نگل رہا ہے۔ ہماری موجودہ نسلیں تو متاثر ہو
پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے ایک کلیدی رکن عمر دین عرف جذبہ کو گرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاری کے بعد ملزم کے اعترافی بیانات نے نہ صرف اس خونی گروہ
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سبق نہ صرف بیان کیے بلکہ ان سبقوں کو ایسے عظیم واقعات اور عظیم ترین شخصیات کے ذریعے پیش کیا کہ آج بھی
پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ یہاں ہر حکومت آتے وقت خزانہ خالی پاتی ہے اور جاتے وقت مزید خالی چھوڑ جاتی ہے۔ مگر اب تو معاملہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ خزانہ
ضلع قصور کے سرحدی علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے گاں کا غریب کسان گرمی کی ایک حبس زدہ رات اپنے گھر کے باہر بچھی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ کئی گھنٹوں سے بجلی غائب تھی۔ پنکھے بند تھے۔ اس کے
حکومتی ایوانوں میں غیر معمولی ہلچل ہے۔ سیاسی راہداریوں میں غیر واضح سرگوشیاں گونج رہی ہیں اور بند کمروں کے اندر جاری ملاقاتیں اس تاثر کو مزید گہرا کر رہی ہیں کہ کچھ بڑا پک رہا ہے مگر کوئی بھی
میں یملاجٹ ہوں۔ وہ جٹ جس کی داڑھی میں اب بھی گندم کے بالوں جیسا سنہرا رنگ ہے۔ جس کے ہاتھوں میں مٹی کی مہک آج بھی بسیرا کیے ہوئے ہےاور جس کی زبان کڑوی سہی مگرسیدھی ہے۔میں نےاس دھرتی