نیا پاکستان پرانے اوزار
وہ جن پہ تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگے۔ یہ محض ایک مصرع نہیں یہ پاکستان کی سیاست کا وہ نوحہ ہے جو ہر دور میں نئے سروں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں
وہ جن پہ تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگے۔ یہ محض ایک مصرع نہیں یہ پاکستان کی سیاست کا وہ نوحہ ہے جو ہر دور میں نئے سروں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں
یہ ایک کہانی ہے ایک ایسے ملک کی ہے جو ہر دن اپنے اندر سے ٹوٹ رہا ہے اور پھر بھی خود کو مضبوط سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کہانی میں کوئی افسانہ نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو
روشنیوں سےجگمگاتا ہال دنیابھر کےسفارت کارکیمروں کی چکاچوند اور چہروں پر سجی وہ مسکراہٹیں جو اکثر دل کی کیفیت کا ساتھ نہیں دیتیں۔ یہ مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقد ہونےوالے ایک بین الاقوامی اجلاس کی بات ہے۔
میں نے اسے پہلی بار اسلام آباد کے ایک سادہ سے دفتر میں دیکھا تھا۔ کمرہ بڑا نہیں تھا نہ ہی وہاں کوئی غیر معمولی سجاوٹ تھی مگر اس شخص کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ اس کی
ملک کی روشن نسل ہمارے باصلاحیت نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں بیرونِ وطن جا رہے ہیں۔ ہر اڑان اپنے ساتھ ایک امید کو لے جاتی ہے اور ہر ہوائی اڈہ ایک ایسی خالی جگہ چھوڑ جاتا ہے
پاکستان کےعام شہری آج کل بجلی کےبل دیکھ کر کانپ اٹھتے ہیں۔ ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ بل کھاجاتا ہےاور یہ حد برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ نہ صرف فی یونٹ ریٹ بڑھ گئے ہیں بلکہ نئے کنکشن کی
قریباً چھیالیس سینتالیس برس قبل کی بات ہے جب کینیڈا کے ایک ٹی وی کی خاتون صحافی نے ایرانی شاہ محمد رضا شاہ پہلوی کا انٹرویو کیا تھا۔ اس نے شاہ سے سوال کیا کہ ایران میں آپ کو ریت
ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو یہ دو نام آج کی عالمی سیاست کے سب سے متنازعہ اور خطرناک کردار ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ ہیں جن کی خارجہ پالیسی کا محور ہمیشہ سے امریکہ اول رہا ہے مگر عملاً جن
پاکستانی وہ قوم ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنے ملک کے ساتھ کھڑی رہی۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری بجلی کے بل ہوں یا ٹیکسوں کا بوجھ پاکستانی عوام نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا۔ مگر ہر صبر کی
پاکستانی وہ قوم ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنے ملک کے ساتھ کھڑی رہی۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری بجلی کے بل ہوں یا ٹیکسوں کا بوجھ پاکستانی عوام نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا۔ مگر ہر صبر کی