پاکستانی وہ قوم ہے جو ہر مشکل وقت میں اپنے ملک کے ساتھ کھڑی رہی۔ مہنگائی ہو یا بے روزگاری بجلی کے بل ہوں یا ٹیکسوں کا بوجھ پاکستانی عوام نے ہمیشہ برداشت کا مظاہرہ کیا۔ مگر ہر صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو برداشت چیخ میں بدل جاتی ہے۔ آج پٹرول کی قیمت میں یک دم پچپن روپے اضافے نے اسی چیخ کو جنم دیا ہے۔ عام آدمی حیران ہے اور پریشان بھی کہ آخر یہ بوجھ کب تک اسی کے کندھوں پر ڈالا جاتا رہے گا۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ محض ایک حکومتی اعلان نہیں ہوتا۔ یہ اعلان دراصل ہر گھر کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ سبزی، پھل اور آٹا مہنگا ہو جاتا ہے۔ روزمرہ کی ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے پٹرول کی قیمت میں پچپن روپے اضافہ دراصل عوام کی زندگی میں ایک نئے طوفان کے برابر ہے۔اس فیصلے نے اس لیے بھی لوگوں کو زیادہ پریشان کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا وقت ابھی آٹھ دن بعد آنا تھا۔ عام اصول یہ ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل مقررہ تاریخ پر کیا جاتا ہے۔ مگر اس بار حکومت نے اچانک فیصلہ کیا اور پٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا۔اس معاملے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ جو پٹرول پہلے ہی پرانی قیمتوں پر خریدا جا چکا تھا اسی پر نئی قیمت نافذ کر دی گئی۔ یعنی جو اسٹاک پہلے سے موجود تھا اس پر بھی پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔
معاشی اصولوں کے مطابق ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ نئی قیمتیں عام طور پر نئے اسٹاک پر لاگو ہوتی ہیں۔ مگر یہاں پرانے پٹرول کو یکدم مہنگا کر کے عوام سے مزید پیسے وصول کیے گئے۔یہی وہ بات ہے جس نے لوگوں کے دلوں میں شدید غصہ پیدا کیا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کیا حکومت نے واقعی معاشی مجبوری میں یہ قدم اٹھایا ہے یا پھر جنگ اور بحران کی فضا کا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ کیونکہ جب قوم کا دھیان سرحدوں کی طرف ہوتا ہے تو ایسے فیصلے خاموشی سے نافذ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ 1965 ء کی جنگ ہو ، زلزلہ ، سیلاب، کورونا بیماری کی وبا یا دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد اس قوم نے ہمیشہ مشکلات کا سامنا کیا۔ مگر قربانی اور ظلم میں فرق ہوتا ہے۔ قربانی وہ ہوتی ہے جو قوم اپنی مرضی سے دیتی ہے۔ ظلم وہ ہوتا ہے جو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے۔آج ایک مزدور جو صبح گھر سے نکلتا ہے تاکہ اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما سکے وہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ جب پٹرول کی قیمت اچانک پچپن روپے بڑھتی ہے تو اس مزدور کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا کرایہ بڑھ جاتا ہے۔ اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یوں اس کی روزانہ کی کمائی کا بڑا حصہ مہنگائی کی نذر ہو جاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ یہی حکمران جب اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھے ہوتے تھے تو پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی انہیں ناقابل برداشت لگتا تھا۔ اس وقت ان کے بیانات گونجتے تھے کہ جب پٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لیں حکمران چور ہے۔ وہ عوام کو یہی سبق دیتے تھے اور اسی نعرے کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ مگر آج جب اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے تو وہی پٹرول یک دم پچپن روپے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ اب سوال عوام کے ذہن میں نہیں بلکہ خود ان حکمرانوں کے سامنے کھڑا ہے کہ اپنے ہی معیار کے مطابق فیصلہ کر لیں کہ چور کون ہے۔اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران شائد یہ محسوس نہیں کرتے کہ ایک عام آدمی کی زندگی کتنی مشکل ہو چکی ہے۔ ایک ملازم جس کی تنخواہ محدود ہے وہ ہر ماہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹا دکاندار بھی اسی مہنگائی کی مار سہتا ہے۔اس ساری صورتحال میں سب سے بڑا سوال انصاف کا ہے۔ اگر واقعی ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے تو پھر قربانی صرف عوام سے ہی کیوں لی جا رہی ہے۔ کیا حکمران طبقہ بھی کوئی قربانی دینے کو تیار ہے۔کیا وزیروں کے قافلے کم ہوئے ہیں۔ کیا سرکاری گاڑیوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ کیا حکمرانوں کی مراعات میں کمی آئی ہے۔ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں نظر آتا ہے۔
عوام کے لئے کفایت شعاری کے پیغامات ضرور آتے ہیں مگر حکمرانوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔بلکہ انکے ٹھاٹھ باٹھ تو پہلے سے بھی زیادہ بڑھتے جاتے ہیں۔یہی تضاد عوام کے دلوں میں مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف عوام کو صبر کا درس دیا جاتا ہے اور دوسری طرف حکمرانوں کی زندگی ویسی ہی شاہانہ رہتی ہے۔ جب عوام یہ فرق دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید اس ملک میں قربانی صرف کمزور طبقے کے لیے ہی ہے۔پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ دراصل اسی احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی مشکلات کو سننے والا کوئی نہیں۔ حکومت کے فیصلے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ جب لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے لگیں تو معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی مل کر معاشرتی استحکام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں اور مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں پٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ لوگوں کی مایوسی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ایک ذمہ دار حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ عوام کے دکھ درد کو سمجھے۔ فیصلے کرتے وقت یہ دیکھا جائے کہ اس کا اثر عام آدمی پر کیا پڑے گا۔ مگر جب فیصلے عوام کی برداشت سے باہر ہو جائیں تو پھر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔پاکستانی عوام کی موجودہ چیخ دراصل اسی بے بسی کا اظہار ہے۔ یہ چیخ صرف پٹرول کی قیمتوں کے خلاف نہیں بلکہ اس پورے نظام کے خلاف ہے جس میں طاقتور ہمیشہ محفوظ رہتا ہے اور کمزور ہمیشہ بوجھ اٹھاتا ہے۔اگر حکمران واقعی اس ملک کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ اعتماد صرف بیانات سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔ جب عوام دیکھیں گے کہ حکمران بھی انہی کی طرح قربانی دے رہے ہیں تو شاید ان کے دل میں صبر پیدا ہو جائے۔پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور اس کے عوام بھی عظیم ہیں۔ مگر کسی بھی قوم کی طاقت اس کے عوام کی خوشحالی میں ہوتی ہے۔ جب عوام ہی پریشان ہوں تو ترقی کے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔آج پاکستان کے گلی کوچوں میں جو بے چینی نظر آ رہی ہے وہ دراصل ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام حکمرانوں کے لیے ہے کہ عوام کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر فیصلے اسی طرح ہوتے رہے تو یہ بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔اقتدار دراصل ایک امانت ہے۔ اس امانت کا تقاضا ہے کہ حکمران سب سے پہلے عوام کے مفاد کو مقدم رکھیں۔ اگر حکمران یہ بات سمجھ جائیں تو شاید عوام کی چیخیں آہستہ آہستہ دعاں میں بدل جائیں۔مگر اگر عوام کی آواز کو نظر انداز کیا گیا تو تاریخ ہمیشہ کی طرح اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ عوام کے حق میں ہوتا ہے۔