حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ کا علم و حکمت
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سبق نہ صرف بیان کیے بلکہ ان سبقوں کو ایسے عظیم واقعات اور عظیم ترین شخصیات کے ذریعے پیش کیا کہ آج بھی
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جس نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سبق نہ صرف بیان کیے بلکہ ان سبقوں کو ایسے عظیم واقعات اور عظیم ترین شخصیات کے ذریعے پیش کیا کہ آج بھی
پاکستان کی معیشت کے بارے میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ یہاں ہر حکومت آتے وقت خزانہ خالی پاتی ہے اور جاتے وقت مزید خالی چھوڑ جاتی ہے۔ مگر اب تو معاملہ اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ خزانہ
ضلع قصور کے سرحدی علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے گاں کا غریب کسان گرمی کی ایک حبس زدہ رات اپنے گھر کے باہر بچھی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ کئی گھنٹوں سے بجلی غائب تھی۔ پنکھے بند تھے۔ اس کے
حکومتی ایوانوں میں غیر معمولی ہلچل ہے۔ سیاسی راہداریوں میں غیر واضح سرگوشیاں گونج رہی ہیں اور بند کمروں کے اندر جاری ملاقاتیں اس تاثر کو مزید گہرا کر رہی ہیں کہ کچھ بڑا پک رہا ہے مگر کوئی بھی
میں یملاجٹ ہوں۔ وہ جٹ جس کی داڑھی میں اب بھی گندم کے بالوں جیسا سنہرا رنگ ہے۔ جس کے ہاتھوں میں مٹی کی مہک آج بھی بسیرا کیے ہوئے ہےاور جس کی زبان کڑوی سہی مگرسیدھی ہے۔میں نےاس دھرتی
پاکستان میں طالبان یعنی فتنہ خوارج کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک بار پھر ملک کی سلامتی کے لئے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے شمالی اضلاع اس وقت اس لپیٹ میں آ چکے ہیں جہاں
نتھ فورس پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک متنازع اورطنزیہ اصطلاح ہےجو 1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی کے دوران مشہور ہوئی۔ اس زمانے میں بھٹو حکومت پر یہ الزام لگایاجاتاتھاکہ احتجاجی مظاہروں کو دبانے اورخصوصاً خواتین مظاہرین کو ہراساں کرنے
پاکستان کی توانائی کی تاریخ میں ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسا باب ہے جسے صرف ایک بجلی گھر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ منصوبہ دراصل اس سوچ کی علامت تھا جس میں فوری سیاسی کامیابی
کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد اس کا متوسط طبقہ یعنی مڈل کلاس ہوتا ہے جو نہ تو محلوں کی رنگینیوں میں گم ہوتا ہے اور نہ ہی خیرات کی لائنوں میں کھڑا نظر آتا ہے بلکہ یہ وہ طبقہ
قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں صرف مادی وسائل کی فراوانی یا عسکری قوت کے بل بوتے پر نہیں لکھی جاتیں بلکہ ان کے پیچھے وہ قومی غیرت اور خودمختاری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے جو کسی بھی جبر