پاکستان میں فتنہ خوارج کی بڑھتی کارروائیاں
پاکستان میں طالبان یعنی فتنہ خوارج کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک بار پھر ملک کی سلامتی کے لئے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے شمالی اضلاع اس وقت اس لپیٹ میں آ چکے ہیں جہاں
پاکستان میں طالبان یعنی فتنہ خوارج کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی ایک بار پھر ملک کی سلامتی کے لئے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے شمالی اضلاع اس وقت اس لپیٹ میں آ چکے ہیں جہاں
نتھ فورس پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک متنازع اورطنزیہ اصطلاح ہےجو 1977ء کی تحریکِ نظامِ مصطفی کے دوران مشہور ہوئی۔ اس زمانے میں بھٹو حکومت پر یہ الزام لگایاجاتاتھاکہ احتجاجی مظاہروں کو دبانے اورخصوصاً خواتین مظاہرین کو ہراساں کرنے
پاکستان کی توانائی کی تاریخ میں ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسا باب ہے جسے صرف ایک بجلی گھر کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ منصوبہ دراصل اس سوچ کی علامت تھا جس میں فوری سیاسی کامیابی
کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد اس کا متوسط طبقہ یعنی مڈل کلاس ہوتا ہے جو نہ تو محلوں کی رنگینیوں میں گم ہوتا ہے اور نہ ہی خیرات کی لائنوں میں کھڑا نظر آتا ہے بلکہ یہ وہ طبقہ
قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں صرف مادی وسائل کی فراوانی یا عسکری قوت کے بل بوتے پر نہیں لکھی جاتیں بلکہ ان کے پیچھے وہ قومی غیرت اور خودمختاری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے جو کسی بھی جبر
وہ جن پہ تکیہ تھا وہی ہوا دینے لگے۔ یہ محض ایک مصرع نہیں یہ پاکستان کی سیاست کا وہ نوحہ ہے جو ہر دور میں نئے سروں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں
یہ ایک کہانی ہے ایک ایسے ملک کی ہے جو ہر دن اپنے اندر سے ٹوٹ رہا ہے اور پھر بھی خود کو مضبوط سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کہانی میں کوئی افسانہ نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو
روشنیوں سےجگمگاتا ہال دنیابھر کےسفارت کارکیمروں کی چکاچوند اور چہروں پر سجی وہ مسکراہٹیں جو اکثر دل کی کیفیت کا ساتھ نہیں دیتیں۔ یہ مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقد ہونےوالے ایک بین الاقوامی اجلاس کی بات ہے۔
میں نے اسے پہلی بار اسلام آباد کے ایک سادہ سے دفتر میں دیکھا تھا۔ کمرہ بڑا نہیں تھا نہ ہی وہاں کوئی غیر معمولی سجاوٹ تھی مگر اس شخص کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ اس کی
ملک کی روشن نسل ہمارے باصلاحیت نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں بیرونِ وطن جا رہے ہیں۔ ہر اڑان اپنے ساتھ ایک امید کو لے جاتی ہے اور ہر ہوائی اڈہ ایک ایسی خالی جگہ چھوڑ جاتا ہے