خود سے ملاقات کا سال
زندگی، وقت، فرض، غفلت اور انجام سب ایک ہی لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ وقت کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ دن مہینے اور سال یوں ہاتھ سے پھسلتے ہیں جیسے ریت۔ ہم سمجھتے ہیں ابھی بہت
زندگی، وقت، فرض، غفلت اور انجام سب ایک ہی لڑی میں پرو دیے گئے ہیں۔ وقت کی رفتار تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ دن مہینے اور سال یوں ہاتھ سے پھسلتے ہیں جیسے ریت۔ ہم سمجھتے ہیں ابھی بہت
نئے سال کے آغاز پر جب پوری قوم امیدوں اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی آرزو کرتی ہے تو پاکستانی سیاست میں بھی ایک اہم تبدیلی کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم
اگر تاریخ کے کسی باب کو ایک سطر میں سمیٹا جائے تو شائد لکھا جائے گا کہ سال2025 ء جنگوں کا سال تھا۔ جب دنیا کے نقشے پر سرخ نشان بڑھتے گئے۔ امن کی لکیریں مٹتی گئیں اور انسان ایک
یہ سوال اب کسی ماہرِ معیشت کا نہیں رہا یہ سوال اب گلی کے نکڑ پر بیٹھے چائے فروش کا بھی ہے بس کے کنڈکٹر کا بھی اور اس ماں کا بھی جو بجلی کے بل کو دیکھ کر بچوں
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز پہلے بڑے فخر اور اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ ہم نے روزانہ ستر کے قریب مسافروں کو آف لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت
ہماری سڑکیں آج کل ایک عجیب شور سے گونج رہی ہیں۔ کہیں کیمرے ٹمٹما رہے ہیں کہیں گاڑیاں اچانک رک کر ڈرائیور کا دل حلق تک لے آتی ہیں اور کہیں ڈیجیٹل چالان کا نوٹیفکیشن فون پر ایسے آتا ہے
قومیں یکدم برباد نہیں ہوتیں۔ زوال آہستہ آہستہ قدم بہ قدم اترتا ہے۔ پہلے انصاف کمزور پڑتا ہے پھر ادارے لڑکھڑانے لگتے ہیں پھر معیشت دم توڑنے لگتی ہے اور آخر میں عوام امید چھوڑ دیتے ہیں۔ پاکستان آج اسی
محلے کی نکڑ پر ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان ہے۔ اس کا لکڑی کا پرانا تھڑا برسوں کی دھوپ اور بارش سے رنگین ہو چکا ہے۔ اوپر ٹین کی چھت ہر بارش میں ٹپ ٹپ کی آواز نکالتی ہے۔
بازار میں ایک چپ سی طاری ہے لیکن یہ خاموشی شور مچاتی ہے۔ اس چیخ کی مانند جو اندر سے گونجتی ہے مگر باہر سنائی نہیں دیتی۔ عالمی منڈی میں پام آئل اور سویابین آئل کی قیمتیں زمین بوس ہوئیں
ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی 2025 ء کی رول آف لا انڈیکس رپورٹ نے دنیا کے ضمیر کو ایک بار پھر جھنجھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ دنیا کے 68 فیصد ممالک میں قانون کی حکمرانی میں کمی آئی