سیرۃ النبیﷺ اور غیر مسلموں کے حقوق
(گزشتہ سے پیوستہ) کافروں کی تیسری قسم منافقین مدینہ کی تھی جن کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے ’’ومن الناس من یقول اٰمنّا باللہ وبالیوم الاٰخر وما ھم بمؤمنین‘‘ (سورہ البقرہ ۸) بعض لوگ ایمان کا دعوٰی تو
(گزشتہ سے پیوستہ) کافروں کی تیسری قسم منافقین مدینہ کی تھی جن کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے ’’ومن الناس من یقول اٰمنّا باللہ وبالیوم الاٰخر وما ھم بمؤمنین‘‘ (سورہ البقرہ ۸) بعض لوگ ایمان کا دعوٰی تو
(گزشتہ سےپیوستہ) حرم کی حدود میں کچھ حصہ مِنٰی کا بھی ہے اور کچھ حصہ مزدلفہ کا بھی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ عرفات تک وہ لوگ جائیں جو باہر سے آئے ہیں اور جو غیر قریش ہیں۔ اس لیے
الشریعہ اکادمی گوجرانولہ میں حج بیت اللہ کے موضوع پر ایک نشست سے خطاب- بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ذی الحج کا مہینہ ہمارے اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مہینے میں حج اور قربانی کی
(گزشتہ سےپیوستہ) عہد نبویؐ میں تجارتی بائیکاٹ کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ مسلمانوں کا بائیکاٹ بھی ہوا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی کئی مواقع پر کفار کا بائیکاٹ کیا ہے۔ میں ایک چھوٹا
(گزشتہ سےپیوستہ) میں یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ موجودہ حالات میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پہلا کام تو حکومتوں کا ہے کہ حکمران مل بیٹھ کر سوچیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں ہماری اس
اس وقت عالم اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے اہم فلسطین، بیت المقدس اور فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت پوری دنیا میں زیر بحث بھی ہے اور تمام لوگ اپنے اپنے دائرے میں اس کے
دینی مدارس کو درپیش چیلنجوں پر گفتگو سے پہلے مدارس کے موجودہ معاشرتی کردار اور دائرہ کار پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہم ان چیلنجوں کا صحیح طور پر ادراک کر سکیں گے جو
(گزشتہ سےپیوستہ) اقوام متحدہ کی صورتحال یہ ہے کہ اس میں فیصلوں کی اصل قوت سلامتی کونسل کے پاس ہے اور سلامتی کونسل کی چابی ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کے ہاتھ میں ہے اور عملاً ان پانچ ممالک
پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر
مولانا حافظ عبد الصمدؒ میرے بزرگ ساتھی اور بڑے بھائی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل تھے، مجھ سے چند سال قبل فراغت حاصل کی مگر تین چار سال ہمارے اکٹھے جامعہ میں گزرے اور کچھ اسباق میں رفاقت