مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل
غرب نے اب سے کم و بیش تین سو برس قبل جمہوریت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس سے قبل کی صدیوں میں اسے جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ وہ
غرب نے اب سے کم و بیش تین سو برس قبل جمہوریت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس سے قبل کی صدیوں میں اسے جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ وہ
ایک نوجوان نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خبرِ واحد‘‘ کی حفاظت کا اہتمام کیا تھا؟ میں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کی تعلیم کیا ہے؟ بتایا کہ تھرڈ ایئر کا
(گزشتہ سے پیوستہ) oاور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں o تو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اس کا نام بے فائدہ لیتا
(گزشتہ سے پیوستہ) چنانچہ عقل اگر وحی کے دائرے میں استعمال ہوتی ہے تو وہ نعمتِ خداوندی ہے اور انسان کا سب سے کامیاب ہتھیار ہے، لیکن اگر یہ عقل انسانی خواہشات کے ہتھے چڑھ جائے تو بہت بڑا فتنہ
(گزشتہ سے پیوستہ) ”سب لوگ ایک دین پر تھے، پھر اللہ نے انبیاء ؑ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے، اور ان کے ساتھ سچی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کریں جس میں وہ
(گزشتہ سے پیوستہ) جب وفاقی شرعی عدالت نے سود کے بارے میں فیصلہ دیا تو آپ کے علم میں ہے کہ نظر ثانی کی اپیل وہی بینچ سنتا ہے جس نے سماعت کی ہوتی ہے۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت میں
(گزشتہ سے پیوستہ) امام غزالی ؒ نے اس پر بڑی مزے کی مثال دی ہے۔ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں دولت کی مثال ایسے ہے جیسے جسم میں خون ہوتا ہے۔ خون پورے جسم میں حرکت کرے گا، ہر جگہ
(گزشتہ سے پیوستہ) البتہ قرآن مجید میں ایک مقام پر نفع سے تقابل بھی کیا ہے جو تجارتی بددیانتی اور ماپ تول میں کمی کے ساتھ ہے۔ لیکن یہ بات کہنے سے پہلے ایک بات عرض کروں گا کہ انبیاء
میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور اس پروگرام کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ اہل دانش و اہل فکر کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیالات کا موقع فراہم کیا۔ سب سے پہلے میں اس بات پر خوشی اور مسرت کا
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک یہ تھا کہ جب کسی دشمن پر حملہ آور ہوتے تو آخر وقت تک اپنے ہدف کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کو تیاری کا حکم ملتا، تیاری ہوتی،