Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

انسانی معاشرت اور باہمی حقوق کا تصور

(گزشتہ سے پیوستہ)
”سب لوگ ایک دین پر تھے، پھر اللہ نے انبیاء ؑ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے، اور ان کے ساتھ سچی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کریں جس میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہی لوگوں نے جنہیں وہ (کتاب) دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس روشن دلیلیں آچکی تھیں، آپس کی ضد کی وجہ سے، پھر اللہ نے اپنے حکم سے ہدایت کی ان کو جو ایمان والے ہیں اس حق بات کی جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے، اور اللہ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے۔“ (البقرہ ۲۱۳)
قرآن کریم نے یہ بات واضح کی ہے کہ انسان کو چند چیزیں وہبی طور پر عطا کی گئی ہیں اور ان کے استعمال اور ان میں ارتقاء اور کمال کے لیے اسے عقل کی نعمت سے نوازا گیا ہے۔ مثلاً:
علم وہبی ہے:”اور اللہ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر ان سب چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔“ (البقرہ ۳۱)
حیا وہبی ہے:”پھر انہیں دھوکے سے مائل کر لیا، پھر جب ان دونوں نے درخت کو چکھا تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں اور اپنے اوپر بہشت کے پتے جوڑنے لگے “ (الاعراف ۲۲)
حکم و قانون وہبی ہے کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل و قابیل میں جو جھگڑا ہوا اس کی بنیاد ایک حکم و ضابطہ کی پابندی یا خلاف ورزی پر تھی۔
مکان و سکونت کا شعور وہبی ہے کہ زمین پر پہلا گھر آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا:
”بے شک لوگوں کے واسطے جو سب سے پہلا گھر مقرر ہوا یہی ہے جو مکہ میں برکت والا ہے اور جہان کے لوگوں کے لیے راہنما ہے۔“ (آل عمران ۹۶)
آج کا فلسفہ یہ کہتا ہے کہ انسان نے معاشرت کے اسباب اور بنیادیں عقل کی وجہ سے ارتقاء کے عمل کے نتیجے میں حاصل کی ہیں، جبکہ اسلام کہتا ہے کہ معاشرت کی بنیادیں وہبی ہیں البتہ اس میں ارتقاء اور ان کا بہتر سے بہتر استعمال کسبی ہے جس کا ذریعہ عقل و تجربہ ہے۔ اس طرح انسانی معاشرت کے اصول اور قواعد و ضوابط طے کرنے میں وحی کو بنیاد کا درجہ حاصل ہے اور عقل اس کی معاون ہے، چنانچہ وحی اور عقل کے درمیان یہی متوازن رشتہ اور تعلق ہے، اس لیے عقل اگر وحی کے تابع رہے تو وہ اس کی بہترین معاون اور مددگار ہے، لیکن اگر وحی کی پابندی کے بغیر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ انسان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، جیسے ایک طاقت ور اور منہ زور گھوڑے کی لگام کھلی چھوڑ دی جائے تو گھوڑے کی وہی قوت اس کے سوار کے لیے ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔
قرآن کریم نے وحی کے تابع عقل کی تعریف کی ہے اور اسے نعمتِ خداوندی قرار دیتے ہوئے اس کے مسلسل استعمال کی تلقین فرمائی ہے، مگر وحی کی پابندی سے آزاد عقل کو محض ظن قرار دیا ہے اور ظن و ہویٰ کے جوڑ کو انسان کی تباہی، ناکامی اور بربادی کا سبب بتایا ہے۔ وحی انسان کی راہنما ہے جبکہ عقل ایک بہترین آلہ ہے جسے استعمال کر کے انسان بہتر سے بہتر نتائج حاصل کر سکتا ہے۔ جس طرح کمپیوٹر ایک بہترین آلہ ہے مگر وہ کام اس پروگرام کے تحت ہی کرے گا جو اس میں فیڈ کیا جائے گا، اس کے بغیر وہ کسی کام کا نہیں ہے۔ عقل کے کمپیوٹر میں اگر آسمانی تعلیمات کا پروگرام فیڈ کر دیا جائے گا تو وہ اس کے مطابق کام کرے گا، لیکن اگر اس میں انسانی خواہشات اور ماحول کے اثرات و کیفیات کے وائرس کے لیے جگہ چھوڑ دی جائے گی تو وہ عقل کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کریں گی۔
اسلام نے ہر پیدا ہونے والے بچے کو سلیم الفطرت قرار دیا ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے کمپیوٹر میں پہلے سے کوئی پروگرام فیڈ نہیں ہے اورا س میں ہر پروگرام قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اسے جو ماحول ملتا ہے وہی اس کے کمپیوٹر میں فیڈ ہو جاتا ہے اور اس کی صلاحیتیں اور نفسیات اسی کے مطابق ڈھلتی اور استعمال ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لیے ہر علاقے اور قوم کے لوگوں کی نفسیات اور ذہنی سطح دوسرے علاقوں کے لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح اجتماعی عقل اور عقلِ عام یا عقلِ مشترک (کامن سینس) بھی اپنے دور کے ماحول، مشاہدات، تجربات اور میسر معلومات سے تشکیل پاتی ہے اور اس کے تابع ہوتی ہے اور ان امور میں تغیر و تبدل کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ جبکہ ماحول، مشاہدات، تجربات اور معلومات نہ زمانے کے لحاظ سے یکساں رہتے ہیں اور نہ ہی علاقہ کے اعتبار سے یکساں ہوتے ہیں۔ اس لیے فرد کی عقل کی طرح سوسائٹی کی عقل بھی کبھی ایک معیار پر اور ایک دائرے میں نہیں رہی اور ان مذکورہ امور میں مسلسل ارتقاء کے باعث آئندہ بھی اس کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ اس لیے عقل کے ذریعے حاصل ہونے والے علمی و فکری نتائج کو کبھی حتمی اور یقینی درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے عقل کا آخری درجہ ”ظنِ غالب‘‘ ہے، یقین کا درجہ صرف اور صرف وحی سے حاصل ہوتا ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں