میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور اس پروگرام کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ اہل دانش و اہل فکر کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیالات کا موقع فراہم کیا۔ سب سے پہلے میں اس بات پر خوشی اور مسرت کا اظہار کروں گا کہ اس پروگرام کا عنوان ”مروجہ قوانین :اسلام کی نظر میں “بہت اہم عنوان ہے اور اس پر وکلاء اور علماء کا مل بیٹھ کر غور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں ایک عرصہ سے یہ آواز لگا رہا ہوں کہ ہمیں مل بیٹھنا چاہیے اور میرے نزدیک اس وقت ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون کے جو دو دائرے ہیں: ایک دائرہ قانونی نظام کا ، اور ایک دائرہ لوگوں کے عقیدے، ایمان، محبت و عقیدت کا ،یہ دونوں دائرے مختلف ہیں، جب تک یہ دائرے اکٹھے نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک کا قانونی اور معاشرتی نظام صحیح رخ پر نہیں آئے گا۔ میں تقریباً چالیس سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ دونوں دائروں میں ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے۔ جب تک علماء اور وکلاء مل کر معاشرتی اور قانونی مسائل کا حل نہیں نکالیں گے اور باہمی مشاورت سے اس خلا کو کم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، بات نہیں بنے گی اور ہم ٹریک پر نہیں آئیں گے۔ اس لیے میں خوشی کا اظہار کروں گا کہ ایک اچھی سوچ پیدا ہوئی ہے ۔ اللہ رب العزت ہمیں مل بیٹھ کر باہمی مشاورت سے قانون اور شریعت کے دونوں سرچشموں سے استفادہ کرنے کی توفیق دیں تاکہ ہم مل جل کر قوم کو صحیح راہ فراہم کر سکیں۔
مجھے گفتگو کا عنوان دیا گیا ہے ” سود اور منافع کا تقابلی جائزہ“ اس پر میں دو تین حوالوں سے بات کروں گا:
پہلی گزارش یہ ہے قرآن مجید نے بھی اس پر دو تین جگہ بحث کی ہے لیکن قرآن مجید سود اور منافع کا تقابل نہیں کرتا بلکہ قرآن مجید نے سود کا تقابل صدقہ سے کیا ہے۔ منافع کا تقابل قرآن پاک نے ماپ پول میں کمی اور تجارتی بد دیانتی سے کیا ہے، میں اس پر چند آیات کا حوالہ دینا چاہوں گا۔
قرآن میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ”یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات“ (البقرہ ۲۷۶) اللہ تعالیٰ سود سے بے برکتی بڑھاتے ہیں اور صدقہ سے برکت بڑھاتے ہیں۔ یہاں سود اور صدقے کا باہمی تقابل کیا ہے کہ سود سے برکت اٹھ جاتی ہے اور صدقہ سے برکت بڑھ جاتی ہے۔ میں اس کی چھوٹی سی مثال دوں گا۔ دیکھیے بظاہر ایسا ہے کہ سود سے رقم بڑھتی ہے اور صدقہ سے کم ہوتی ہے۔ اگر سود کی شرح دس فیصد ہے تو سو سے ایک سو دس ہو جائیں گے، اور صدقہ سے کم از کم اڑھائی فیصد تو کمی ہوتی ہے، لہٰذا سو سے ساڑھے ستانوے رہ جائیں گے۔ تو ظاہری منظر یہ ہے کہ سود سے رقم بڑھتی ہے اور صدقے سے کم ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ سود سے رقم کم ہوتی ہے اور صدقہ سے بڑھتی ہے۔ یہ قرآن مجید کا واضح اور دوٹوک ارشاد ہے۔
اس پر اشارہ کے طور پر یہ بات عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک ہے گنتی اور ایک ہے ویلیو۔ گنتی اور چیز ہے، ویلیو اور چیز ہے۔ سود سے گنتی بڑھتی ہے، ویلیو کم ہوتی ہے ۔ جبکہ صدقہ سے ویلیو بڑھتی ہے، گنتی کم ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر دیکھیں کہ میری شادی ۱۹۷۰ء میں ہوئی تھی ، میں نے تھوڑا سا زیور بنوایا اور گوجرانوالہ کے صرافہ بازار سے ایک سو ستر روپے تولہ سونا خریدا تھا ، لیکن آج ایک تولہ سونے کا بھاؤ سوا دو لاکھ ہے۔ گنتی ایک سو ستر سے سوا دو لاکھ تک چلی گئی ہے، جبکہ ویلیو وہی ایک تولہ سونا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی دیکھ لیں کہ ویلیو کا بڑھنا یا کم ہونا اس آدمی کے اختیار میں نہیں ہے جس کی جیب میں رقم ہے، بلکہ اس کا اختیار کسی اور قوت کے پاس ہے۔ کچھ قوتیں ہیں جو ویلیو کو کم زیادہ کرتی رہتی ہیں۔ مثلاً میری جیب میں پانچ ہزار کا نوٹ ہے، اس کا کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ یہ پانچ ہزار کل سات ہزار ہو جائے یا تین ہزار رہ جائے ، اس میں میرا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح مال میں برکت پیدا کرنا یا بے برکتی ڈالنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا کہ ”یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات“ (البقرہ ۲۷۶) اللہ تعالیٰ سود سے رقم میں بے برکتی پیدا کرتے ہیں اور صدقہ سے برکت پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسے زیادہ وسیع انداز میں بیان فرمایا ہے ”وما اٰتیتم من ربا لیربو فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ وما اٰتیتم من زکوٰۃ تریدون وجہ اللہ فاولئک ھم المضعفون“ کہ جو تم سود لیتے ہو اس نیت سے کہ رقم بڑھے گی، اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتی، اور جو تم اللہ کی رضا کے لیے زکوٰۃ دیتے ہو درحقیقت وہ بڑھتی ہے۔ یہاں بھی اللہ رب العزت نے سود کا نفع سے تقابل نہیں کیا، بلکہ سود کا تقابل صدقہ اور زکوٰۃ سے کیا ہے۔
(جار ی ہے)