(گزشتہ سے پیوستہ)
oاور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں o تو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا کیونکہ جو اس کا نام بے فائدہ لیتا ہے خداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا o یاد کر کے تو سبت کا دن پاک منانا o چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا o لیکن ساتویں دن جو خداوند تیرا خدا کا سبت ہے اس میں نہ تو کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو o کیونکہ خداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ ان میں ہے وہ سب بنایا اور ساتویں دن آرام کیا اس لیے خداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا o تو اپنے ماں باپ کی عزت کرنا تا کہ تیری عمر اس ملک میں، جو خداوند تیرا تجھے دیتا ہے، دراز ہو o تو خون نہ کرنا o تو زنا نہ کرنا o تو چوری نہ کرنا o تو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا o تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا o تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اس کے غلام اور اس کی لونڈی اور اس کے بیل اور اس کے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا۔“
توراۃ کی یہ تعلیمات اسلام نے بھی اسی طرح بیان کی ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ ہمارے ہاں ہفتے کا مقدس دن ہفتہ کی بجائے جمعہ ہے، اور کام کاج سے ممانعت کا دورانیہ پورے دن کی بجائے جمعہ کی اذان سے نماز کے اختتام تک محدود ہوگیا ہے۔ جبکہ ”خداوند نے ساتویں دن آرام کیا“ کا مطلب ہمارے ہاں یہ ہوگا کہ اگر یہ ترتیب اسی طرح ہے تو ساتویں دن اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض و سماء کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا۔ بائبل کی ان آیات کو سامنے رکھ کر اگر قرآن کریم کی سورۃ بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع کا مطالعہ کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے حوالہ سے قرآن کریم اور تورات کی تعلیمات کس حد تک مشترک اور ملتی جلتی ہیں۔
قرآن کریم میں ”حق“ کا لفظ مختلف معانی کے لیے استعمال ہوا ہے:
اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء گرامی میں ایک اسم مبارک ”الحق“ ہے۔اس آیت میں حق کو باطل کے مقابلہ میں بیان کیا گیا ہے:
”اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا ہے، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔“ (الاسراء ۸۱)
ایک آیت میں قیامت کو حق کا عنوان دیا گیا ہے:
”یہ یقینی دن ہے پس جو چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنا لے۔“ (النباء ۳۹)
ایک آیت میں حق کو باہمی حقوق کے زمرہ میں شمار کیا گیا ہے، وغیر ذلک۔
”اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو۔“ (الاسراء ۲۶)
باہمی حقوق کا تذکرہ قرآن کریم اور احادیث میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، مثال کے طور پر ایک آیت کریمہ اور ایک حدیث نبویؐ کا حوالہ دیا جارہا ہے:
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: ”اور اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں،مسکینوں، قریبی ہمسایہ، اجنبی ہمسایہ، پاس بیٹھنے والے، مسافر اور اپنے ما تحتوں کے ساتھ بھی نیکی کرو، بے شک اللہ اترانے والے، بڑائی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔“ (النساء ۳۶)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے حق کے بعد انسانوں میں سے نو قسم کے لوگوں کا حق بیان کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ ان حقوق کی مزید وضاحت کے لیے سورۃ الانعام کی آیات قل تعالوا اتل ما حرم ربکم (۱۵۱)…… اور سورۃ بنی اسرائیل کا رکوع ۳ اور ۴ کا مطالعہ کر لیا جائے۔
جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کی تفصیل بخاری شریف میں یوں ہے کہ حضرت سلمان فارسیؓ جب یہودی خاندان کی غلامی سے آزادی حاصل کر کے جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں مہاجر کے طور پر حاضر ہوئے تو نبی اکرمؐ نے انہیں ”مواخاۃ“ کے تحت حضرت ابوالدرداءؓ کا بھائی بنا دیا اور وہ انہیں اپنے گھر لے گئے۔ دوسرے روز انہوں نے فجر کے بعد جناب نبی اکرمؐ کو یہ رپورٹ پیش کی کہ حضرت سلمانؓ نے کل دوپہر کو مہمان کے ساتھ کھانے کے لیے ان کا روزہ تڑوا دیا اور ساری رات نوافل پڑھنے کا موقع نہیں دیا بلکہ زبردستی سونے کا کہہ کر سحری کے وقت نفل پڑھنے دیے اور اب یہ نصیحت کر کے ساتھ لائے ہیں کہ:
”بے شک تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیری جان کا تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے اور پس ہر حق والے کو اس کا حق ادا کر۔“ (بخاری شریف)
جناب نبی اکرمؐ نے یہ سن کر فرمایا کہ ’’صدق سلمان‘‘ اور حضرت سلمان فارسیؓ کے اس عمل اور قول کی تصدیق فرما دی۔ اس کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کی شادی کے بعد ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ کی تفصیلی گفتگو کو ملاحظہ کر لیا جائے جو امام بخاریؒ نے مختلف مقامات پر بیان فرمائی ہے۔ اور ان صحابہ کرامؓ کو جناب نبی اکرمؐ کی طرف سے کی جانے والی تنبیہ بھی شامل کر لی جائے جنہوں نے آپس میں ساری عمر شادی نہ کرنے اور زندگی بھر روزے رکھنے اور ساری ساری رات عبادت کرنے کا وعدہ کر لیا تھا اور نبی اکرمؐ نے ’’النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی‘‘ فرما کر انہیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
میری طالب علمانہ رائے میں قرآن کریم کی مذکورہ آیاتِ مبارکہ اور جناب نبی اکرمؐ کے یہ ارشاداتِ مقدسہ اسلام میں انسانی حقوق کی اساس ہیں اور ان کے ساتھ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں اس حوالہ سے پھیلے ہوئے متنوع ذخیرہ کے ذریعہ انسانی حقوق کا ایک مکمل نظام مرتب کیا جا سکتا ہے۔
حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور آج کے عالمی فلسفہ کے درمیان دو اصولی فرق سطور بالا میں مذکور ہوئے ہیں: ایک یہ کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی بات کرتا ہے، جبکہ مغربی فلسفہ صرف حقوق العباد پر بحث کرتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اسلام دنیا کی زندگی کے ساتھ آخرت کی زندگی کو سامنے رکھ کر حقوق کا تعین کرتا ہے، جبکہ مغربی فلسفہ دنیاوی زندگی کو ہی حتمی اور آخری سمجھ کر اس کے دائرہ میں حقوق کی بات کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان دونوں کے مابین تین فرق اور بھی ہیں جن کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
ایک یہ کہ آج کا عالمی فلسفہ چونکہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی سے منحرف ہو کر اس سے معاشرتی زندگی میں مکمل دستبرداری اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس کے نزدیک حقوق کا تعین اور ان کی وضاحت سوسائٹی کی سوچ اور خواہش کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ جبکہ اسلام میں حقوق کے تعین کی بنیاد وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر ہے، اور جو حقوق وحی الٰہی میں طے ہو چکے ہیں ان میں رد و بدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے برعکس مغربی فلسفہ میں حقوق کے تعین کی بنیاد سوسائٹی کی سوچ اور خواہش پر ہے اس لیے حقوق کی فہرست میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ہم جنس پرستی کو بائبل نے گناہ قرار دیا ہے اور اس پر سنگسار کر دینے کی سزا بیان کی ہے، اور مغربی ممالک میں اب سے ایک صدی قبل تک اسے جرائم کی فہرست میں شمار کیا جاتا تھا، لیکن سوسائٹی کی خواہش اور سوچ میں تبدیلی ہو جانے کے باعث اب اسے جرائم کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح آسمانی مذاہب اور انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین اس سے قبل جرائم میں شمار ہوتی تھی مگر اب اس کا حوالہ حقوق کے عنوان سے سامنے آرہا ہے۔ اسی طرح شراب نوشی اب سے پون صدی قبل خود امریکہ کے قانون میں قابلِ سزا جرم تھی مگر اب وہ بھی حقوق کا حصہ بن گئی ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ مغربی دنیا میں عوامی حقوق کا دور انقلابِ فرانس سے شروع ہوتا ہے، اس سے قبل کے دور کو جبر، تاریکی اور جہالت کا دور تصور کیا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس اٹھارویں صدی عیسوی کے آخری عشرہ میں مکمل ہوا تھا، اس لحاظ سے مغربی دنیا میں حقوق کی تاریخ کم و بیش سوا دو صدیوں پر مشتمل ہے۔ جبکہ اسلام میں جناب نبی اکرمؐ سے قبل کے دور کو ”دورِ جاہلیت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور روشن خیالی، علم اور حقوق کا دور جناب نبی اکرمؐ سے شروع ہوتا ہے۔ اور اس کی تاریخ سوا چودہ سو سال کو محیط نظر آتی ہے، بلکہ اگر بنی اسرائیل کے اس دور کو ساتھ شامل کر لیا جائے جب تورات عملاً نافذ تھی اور اس کے مطابق بنی اسرائیل کا معاشرتی نظام چل رہا تھا، تو انسانی حقوق کی تاریخ کا یہ پس منظر ہزاروں سال پر محیط ہو جاتا ہے۔
( جاری ہے )