(گزشتہ سے پیوستہ)
چنانچہ عقل اگر وحی کے دائرے میں استعمال ہوتی ہے تو وہ نعمتِ خداوندی ہے اور انسان کا سب سے کامیاب ہتھیار ہے، لیکن اگر یہ عقل انسانی خواہشات کے ہتھے چڑھ جائے تو بہت بڑا فتنہ اور عذاب ہے جو انسانی سوسائٹی کو شر و فساد سے بھر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے انسانی معاشرت کے اصول اور اقدار و روایات کے یقین میں وحی اور آسمانی تعلیمات کو بنیاد قرار دیا ہے، اور انسانی عقل کو خواہ وہ فرد کی ہو یا سوسائٹی کی، ایک اچھے معاون اور مددگار کی حیثیت دی ہے، جس کے ذریعے انسان اپنی معاشرت، تمدن اور تہذیب و ثقافت کو بہتر سے بہتر شکل دے سکتا ہے اور دنیا و آخرت کی دونوں زندگیوں کے لیے خوشیوں اور راحتوں کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔
انسانی معاشرہ اور تمدن انسان کے چند امتیازات پر مبنی ہے جو اسے دوسرے حیوانات سے الگ کرتے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے لکھا ہے کہ کھانے، پینے، جنسی تعلق، گرمی سردی سے بچاؤ اور دشمن سے اپنے تحفظ وغیرہ کی حد تک انسان باقی حیوانات کے ساتھ شریک ہے، لیکن انسان کے کچھ امتیازات ہیں جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتے ہیں اور انہی پر اس کی معاشرت اور تمدن کی بنیاد ہے:
* ایک یہ ہے کہ انسانی زندگی میں ٹھہراؤ نہیں ہے بلکہ آگے بڑھتے رہنے اور بہتر سے بہتر کیفیت حاصل کرنے کا جذبہ اس میں موجود ہے، مثلاً شیر کی خوراک گوشت ہے اور وہ اسے ہمیشہ ایک ہی طریقہ سے حاصل کرتا ہے اور ایک ہی طریقہ سے استعمال کرتا آرہا ہے، یہی گوشت انسانی خوراک کا حصہ ہے لیکن گوشت کے بہتر سے بہتر استعمال کے لیے انسان نے سینکڑوں صورتیں اختیار کر رکھی ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
* سردی گرمی اور بارش دھوپ سے بچاؤ کم و بیش سبھی جانوروں کی ضرورت ہے لیکن باقی جانوروں کے پاس اس کا جو طریقہ صدیوں پہلے تھا، آج بھی وہی ہے اور ان کے اپنے اختیار سے اس طریقہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مگر انسان نے اس کے سینکڑوں طریقے اختیار کیے ہیں اور مکانات، بلڈنگوں اور کوٹھیوں وغیرہ کی نئی سے نئی شکلیں اور اپنی رہائش گاہوں کو صاف رکھنے اور گرم اور ٹھنڈا کرنے کی بیسیوں صورتیں اس کے تجربات کا حصہ ہیں۔
* جنسی خواہش کی تکمیل اور نسل کے ارتقاء میں بھی انسان باقی حیوانات کے ساتھ شریک ہے لیکن باقی جانوروں کو اس مقصد کیلئے صرف ایک مادہ ساتھی درکار ہے، جبکہ انسان کی ضرورت صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ شادی اور خاندان کی تشکیل کیلئے اس نے اپنی ضروریات میں تنوع اور وسعت کو جس انتہا تک پہنچا دیا ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔
* مسابقت کا جذبہ بھی انسان کو دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتا ہے، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش اور اس کے لیے تگ و دو انسانی معاشرت اور تمدن میں ارتقاء کا بہت بڑا سبب ہے۔
* انسانی معاشرہ میں مفکرین، دانش وروں اور سائنس دانوں کی صورت میں ہر دور میں ایسے افراد موجود رہے ہیں جو انسان کو سہولتیں فراہم کرنے، اس کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے اور اسے زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کی صورتیں سوچتے رہتے ہیں، تجربات کرتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں نئی سے نئی سہولتوں سے انسانی معاشرہ کو روشناس کرتے رہتے ہیں۔
* سلیم الفطرت انسان کی سوچ اور محنت کا دائرہ صرف اس دنیا کی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اپنی آئندہ اور اصل زندگی کو ہر وقت سامنے رکھتا ہے اور دنیا کی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی کے لیے ذریعہ اور سبب بنانے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔
انسانی معاشرت باہمی تعاون و اشتراک اور ایک دوسرے کے حقوق پر مبنی ہے کیونکہ کوئی بھی انسان اپنی ساری ضروریات تنہا پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، کچھ لوگ خوراک کی ضروریات مہیا کرنے میں مصروف رہتے ہیں، کچھ لوگ لباس کی ضروریات کی فراہمی میں مشغول ہیں، کچھ حضرات مکانات وغیرہ کی تیاری کا کام کرتے ہیں، کچھ لوگ انسانی زندگی کی باقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے دائرہ میں محنت کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ ان تیار شدہ اشیاء کو مارکیٹ میں لا کر تجارت کی صورت میں لوگوں تک پہنچانے کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
زراعت، تجارت، مال مویشی پالنا، صنعت و حرفت، ملازمت، مزدوری، فوجی خدمات، قیامِ امن کی خدمات اور دیگر بیسیوں شعبے انسانی معاشرہ کی ضروریات ہیں، جن میں الگ الگ طور پر لاکھوں نہیں کروڑوں انسان کام کر رہے ہیں جو ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی سے تمدن اور شہریت وجود میں آتی ہے۔ اس باہمی تعاون و اشتراک کو ضروریات کے دائرے میں محدود رکھنے، اور تنازعات و اختلافات سے بچانے یا جھگڑے فساد کی صورت میں انصاف فراہم کرنے، اور امن قائم کرنے کے لیے باہمی حقوق و فرائض اور قواعد و ضوابط کا تعین ضروری ہے۔ کیونکہ ایک دوسرے کے حقوق صحیح طریقہ سے ادا کیے جائیں گے تو باہمی تعاون و اشتراک سے صحیح فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ اپنے اپنے فرائض پورے طریقہ سے ادا کیے جائیں گے تو معاشرہ امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔ اور حقوق و فرائض کے صحیح تعین اور ادائیگی کے لیے قواعد و ضوابط ضروری ہیں، اس لیے اسلام نے ایک سوسائٹی میں رہنے والے انسانوں کے باہمی حقوق کا تعین کیا ہے، فرائض کی نشاندہی کی ہے، اور فرائض و حقوق کی ادائیگی پر یکساں زور دیا ہے۔ آج کا عالمی فلسفہ بھی حقوق کی بات کرتا ہے اور اسلام نے بھی حقوق کی بات کی ہے لیکن ان دونوں میں دو اصولی باتوں کا فرق ہے جس کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی بات کرتا ہے مگر آج کا عالمی فلسفہ صرف انسانی حقوق کی بات کرتا ہے اور حقوق اللہ پر سرے سے بحث ہی نہیں کرتا۔ جبکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ جس خدا نے تمہیں پیدا کیا ہے اور روزی دے رہا ہے اس کے بھی تم پر حقوق ہیں، اور جن انسانوں کے ساتھ تم دنیا میں اکٹھے رہتے ہو ان کے بھی تم پر حقوق ہیں۔
آج کا عالمی فلسفہ اس دنیا کی عارضی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے صرف اس کے دائرے میں حقوق کا نظام طے کرتا ہے۔ مگر اسلام موت کے بعد کی زندگی کو انسان کی اصل زندگی قرار دے کر دونوں زندگیوں کو سامنے رکھتے ہوئے حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو بنیاد بناتے ہوئے سابقہ آسمانی تعلیمات میں حقوق کی تعلیم دی گئی تھی اور قرآن کریم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا اعادہ کیا ہے۔ چنانچہ بائبل کی کتاب خروج باب ۲۰ آیات ۱ تا ۱۷ میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور سے اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات لے کر قوم کے پاس آئے تو بنی اسرائیل کے سامنے یہ خطبہ ارشاد فرمایا کہ:
”اور خداوند نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ o خداوند تیرا خدا، جو تجھے ملک مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا، میں ہوں o میرے حضور تو غیر معبودوں کو نہ ماننا o تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی صورت نہ بنانا، نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے o تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی عبادت کرنا کیونکہ میرا خداوند تیرا خدا غیور ہے اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں ان کی اولاد کو تیسری پشت اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں۔ ( جاری ہے )