Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

رمضان المبارک کی شان

تقوی و پرہیزگاری روزہ کا مقصدِ اصلی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:(ترجمہ) اے ایمان والو! فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجائو، چند روز ہیں گنتی کے۔
(سورۃ البقرہ: 183، 184 )
تقوی کا معنی ہے نفس کو برائیوں سے روکنا اور اس کا سب سے بڑا ذریعہ روزہ ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس سے حق تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی بالصوم، فنہ لامثل لہ(سنن نسائی : 140/1) یعنی روزہ رکھا کرو، اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔
اب رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات کے لیے موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے، اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنی رضا، محبت وعطا، اپنی ضمانت والفت اور اپنے انوارات سے نوازتے ہیں، اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب رات کو قیام(تراویح) اسی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔
رمضان کا روزہ فرض اور تراویح کو نفل (سنت موکدہ) بنایا ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے، اس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اس میں روزہ افطار کرنے والے کی مغفرت، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی کے پروانے کے علاوہ روزہ دار کے برابر ثواب دیا جاتا ہے، چاہے وہ افطار ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے ہی کیوں نہ کرائے، ہاں! اگر روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا یا پلایا تو اللہ تعالیٰ اسے حوضِ کوثر سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا، اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے، جس نے اس ماہ میں اپنے ماتحتوں کے کام میں تخفیف کی تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ اس کی مغفرت اور اسے جہنم سے آزادی کا پروانہ دیں گے، پورا سال جنت کو رمضان المبارک کے لیے آراستہ کیا جاتا ہے، عام قانون یہ ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک دیا جاتا ہے، مگر روزہ اس قانون سے مستثنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: روزہ صرف میرے لیے ہے اور اس کا اجر میں خود دوں گا، روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں، ایک افطار کے وقت کہ اس کا روزہ مکمل ہوا اور دعا قبول ہوئی، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے روزہ افطار کیا اور دوسری خوشی جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوگی، روزہ دار کے منہ کی بو(جو معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے آتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، روزہ اور قرآن کریم دونوں بندے کی شفاعت کریں گے اور بندے کے حق میں دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
اب چند وہ باتیں عرض کی جاتی ہیں، جن کا حضور اکرم ﷺ خود بھی اہتمام کیا کرتے تھے اور امت کو بھی اس کی تعلیم اور تلقین فرماتے تھے:-1 حضور اکرم ﷺ شعبان کی تاریخوں کی جس قدر نگہداشت فرماتے تھے اتنا دوسرے مہینوں کی نہیں فرماتے تھے۔ -2حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رمضان کی خاطر شعبان کے چاند کا اہتمام کیا کرو۔-3آپ ﷺ نے سحری کھانے کا حکم فرمایا کہ سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے، اور فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے، یعنی اہلِ کتاب کو سوجانے کے بعد کھانا پینا ممنوع تھا اور ہمیں صبح صادق کے طلوع ہونے سے پہلے تک اس کی اجازت ہے۔-4 آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ ہمیشہ خیر پر رہیں گے جب تک کہ (غروب آفتاب کے بعد) افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
افطار کی دعا: ذھب الظما وابتلتِ العروق وثبت الاجر ان شا اللہ۔یعنی پیاس جاتی رہی، انتڑیاں تربتر ہوگئیں اور اجر انشاء اللہ ثابت ہوگیا۔
اسی طرح اللھم لک صمت وعلی رِزقِ افطرت ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے افطار کیا۔-5 رمضان میں ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے اور اس ماہ میں مانگنے والا بے مراد نہیں رہتا۔-6 روزہ دار کی روزانہ ایک دعا قبول ہوتی ہے۔-7 رمضان میں روزانہ بہت سے لوگ دوزخ سے آزاد کیے جاتے ہیں۔-8 حضور اکرم ﷺ رمضان کے اخیر عشرہ میں خود بھی شب بیدار رہتے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی بیدار رکھتے۔-9 حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے اخیر عشرہ میں تلاش کرو۔-10 جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی معیت میں نازل ہوتے ہیں اور ہر بندہ جو کھڑا یا بیٹھا اللہ تعالیٰ کا ذکر کررہا ہو(اس میں تلاوت، تسبیح و تہلیل اور نوافل سب شامل ہیں، الغرض کسی طریقے سے ذکر وعبادت میں مشغول ہو) اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔-11 لیلۃ القدر کی دعا: اللھم اِنک عفو تحِب العفو فاعف عنِی۔ اے اللہ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں، پس مجھے بھی معاف فرما دیجیئے۔ –
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں