Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

رمضان المبارک کی شان

(گزشتے سےپیوستہ)
12 اگر کسی نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا، خواہ وہ ساری زندگی روزہ رکھتا رہے، وہ اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔-13 رمضان میں چار کام کثرت سے کیے جائیں،دو کام جن سے اللہ راضی ہوتے ہیں: ۔-1 لا لہ لا اللہ کی کثرت، -2استغفار زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے اور دو کام جو ہر انسان کی ضرورت ہیں:-1 اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کیا جائے، -2جہنم سے پناہ مانگی جائے۔-14 تراویح کے بارہ میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے ایمان کے جذبے سے اور ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اور جس نے رمضان(کی راتوں) میں قیام کیا، ایمان کے جذبے اور ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔-15 اعتکاف کے بارہ میں آپﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان میں (آخری) دس دن کا اعتکاف کیا، اس کو دو حج اور دو عمرے کا ثواب ہوگا، دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے اللہ تعالی کی رضا جوئی کی خاطر ایک دن کا بھی اعتکاف کیا، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایسی تین خندقیں بنادیں گے کہ ہر خندق کا فاصلہ مشرق ومغرب سے زیادہ ہوگا۔-16 رمضان میں قرآن کریم کا دور اور جود وسخاوت کی جائے، اس لیے کہ آپ ﷺ جود وسخا میں تمام انسانوں سے بڑھ کر تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی، حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آکر آپ ﷺ سے قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے۔-17روزہ کی حالت میں بے ہودہ باتوں مثلاً غیبت، بہتان، گالی گلوچ، لعن طعن، غلط بیانی، تمام گناہوں سے پرہیز کیا جائے، ورنہ سوائے بھوکا پیاسا رہنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا، اگر کوئی دوسرا آکر ناشائستہ بات کرے تو یہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں، کیونکہ روزہ ڈھال ہے، جب تک کوئی اس کو پھاڑے نہیں اور یہ ڈھال جھوٹ اور غیبت سے پھٹ جاتی ہے۔
یہ مہینہ گویا ایمان اور اعمال کو ریچارج کرنے کے لیے آتا ہے، رمضان عربی کا لفظ ہے، جس کا اردو میں معنی ہی شدتِ حرارت کے ہیں، یعنی اس ماہ میں اللہ رب العزت روزہ کی برکت اور اپنی رحمتِ خاصہ کے ذریعہ اہلِ ایمان کے گناہوں کو جلا دیتے اور ان کی بخشش فرما دیتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرمﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں۔
(ترجمہ) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں بجائے ابوابِ جنت کے ابوابِ رحمت کھول دیئے جانے کا ذکر ہے۔(متفق علیہ، بحوالہ مشکوۃ، کتاب الصوم : ص 173)
قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ظاہری معنوں پر بھی محمول ہوسکتی ہے، لہٰذا جنت کے دروازوں کا کھلنا، دوزخ کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہونا اس مہینے کی آمد کی اطلاع اور اس کی عظمت اور حرمت وفضیلت کی وجہ سے ہے، شیاطین کا بند ہونا اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ اہلِ ایمان کو وسوسوں میں مبتلا کرکے ایمانی وروحانی اعتبار سے ایذا نہ پہنچا سکیں، جیسا کہ دستورِ زمانہ بھی ہے کہ جب کوئی اہم موقع ہوتا ہے تو خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، تمام شرپسندوں کو قید کردیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس موقع پر کوئی رخنہ وفتنہ پیدا نہ کریں، اور حکومت اپنے حفاظتی دستوں کو ہر طرف پھیلا دیتی ہے، یہی حال رمضان المبارک میں بھی ہوتا ہے کہ شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے اور اس سے مجازی معنی بھی مراد لیے جاسکتے ہیں کیونکہ شیاطین کا اکسانا اس ماہ میں کم ہوجاتا ہے، اس لیے گویا وہ قید ہوجاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ جنت کے دروازے کھولنے سے مراد یہ ہو کہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر طاعات اور عبادات کے دروازے اس ماہ میں کھول دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جو عبادتیں کسی اورمہینے میں عام طور پر واقع نہیں ہوسکتیں، وہ عموما ً رمضان میں باآسانی ادا ہوجاتی ہیں‘ اسی وجہ سے کہا گیا کہ اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی ساری فضیلتوں اور برکتوں کا پتہ چل جائے تووہ تمنائیں کریں کہ کاش! سارا سال رمضان ہوجائے۔
اس ماہ میں غریبوں، یتیموں ، بیوائوں اور مسکینوں کے ساتھ ایثار اور ہمدردی کا معاملہ کیا جائے، ان پر سخاوت کی جائے، یہ اس لیے کہ ایک تو ان کا حق ہے اور دوسرا اس لیے کہ صدقہ وخیرات کرنے سے ممکن ہے کہ اللہ کے کسی بندے کا دل خوش ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور ہمارا مقصد پورا ہوجائے، یا ہوسکتا ہے ہماری عبادت، ہماری تلاوت، ہماری نمازوں میں کوئی کمی رہ گئی ہو یا اس قابل نہ ہوں کہ وہ قبولیت کامقام حاصل کرسکیں تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمالیں، اس لیے اس ماہ میں ہمیں پوری طرح خیرات وصدقات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
بہرحال اس کی عظمتوں، برکتوں اور خصوصیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی حرمت کا پورا لحاظ رکھے کہ رمضان اللہ تعالیٰ کا شاہی مہمان ہے، جو ہمارے پاس بوجھ بن کر نہیں، رحمت کی موج بن کر آتا ہے، اس لیے اس کے منافی کوئی کام نہ کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری تمام عبادات کو قبول فرمائے اور آخرت میں حضور اکرم ﷺ کی شفاعت کے طفیل جنت الفردوس نصیب فرمائے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں