گزشتہ ایک نشست میں پاک ایران گیس پائپ لائن کی پاکستانی عوام کے مفاد میں جلد تعمیر و تکمیل کے حوالے سے کالم لکھ چکا ہوں مگر حیرت اور تعجب ہے کہ کانگرس کی ذیلی کمیٹی میں امریکی اسسٹنٹ وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کی طرح ہی امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کھل کر ہر ایک کو مشورہ دیا ہے کہ ایران سے کاروبار کرنے سے امریکی پابندیوں کا خطرہ ہوسکتا ہے‘ ایران سے کاروبار کرنے سے پہلے اس پر سوچیں۔
جب میں نے اپنا کالم لکھا تھا تب بھی توقع تھی کہ امریکی پاکستانی عوام کی شدید ضرورت‘ گیس پائپ لائن کا قتل عام کرکے نیتن یاہو کی جاری غزہ و فلسطین جنگ میں مددگار بنیں گے۔ گزشتہ کالم میں خاکسار نے امریکی اذہان کو شرم د لائی تھی کہ جس ایران پر آج دلچسپ الزامات لگاتے ہو‘ اگر امریکیو تم میں شرم و حیاء نام کی چیز یا احتساب نام کی کوئی صلاحیت ہے تو پہلے مجھے جواب دو کہ تم نے افغانستان پر ملاعمر کی حکومت منہدم کرنے سے پہلے اسی دہشت گردی کو فروغ دینے والے ایران سے کیوں دوستی و مفاہمت کرکے اس کا تعاون افغانستان کو تہہ و بالاکرکے نئی شمالی اتحاد کی بھارت نواز حکومت کی تشکیل میں تعاون لیا تھا اور کچھ تعاون ایران کو دیا تھا اور کچھ فائدہ بھی ایران کو دیا تھا‘ کیوں؟ پھر صدام حسین کی حکومت پر حملہ آور ہونے سے پہلے یعنی جھوٹ تخلیق کرنے‘ جھوٹ مسلط کرنے‘ جھوٹ کی بنیاد کہ صدام کا القاعدہ سے تعلق تھا‘ کا ڈھکوسلہ بنانے سے پہلے دشمن ایران سے کیوں مفاہمت کرکے مفتوحہ عراق میں سیاسی قبضہ ایران کو دینے کا اقدام کیا تھا؟ اس وقت کیا ایران دہشت گردی کا سرپرست نہ تھا جو آج پھر سے امریکہ کو ایران دہشت گردی کا سرپرست دکھائی دے گیا ہے جبکہ گیس پائپ لائن نہ بننا ایران کا تو صرف معاشی نقصان ہوگا جبکہ پاکستانی عوام کی گیس ضروریات کا قتل عام ہوگا اور انسانی ضروریات کا قتل عام بھی۔گویا امریکہ پاکستانی عوام کی شدید ضروریات کے حوالے سے ‘ پاکستان دشمن ہے۔
ساری دنیا کو پتہ ہے کہ صدام حسین کا عراق بعث پارٹی کی سیاست کا محور و مرکز تھا۔ بعث پارٹی کی تخلیق مسیحی اور مسلمان ملحدوں‘ زندیقوں کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ کہاں زندیق و ملحد بعث پارٹی کا عراق اور کہاں صدام حسین کا مذہبی القاعدہ سے قریبی تعلق؟ امریکی سمجھتے ہیں کہ دنیا کو وہ ہمیشہ ہی بے وقوف بنانے میں کامیاب رہیں گے۔ مگر وہ لالچ ‘ طمع‘ حرص میں مبتلا اذہان کو اپنا گرویدہ بنالیتے ہیں ۔ مگر مجھ جیسے مسلمان لبرل انداز فکر رکھنے والے مسلم لیگی کو نہیں۔ میں امریکی شاطر اذہان کے پاکستانیوں کو گریٹر بھارت اور کشمیر پر مکمل بھارتی قبضے کی تکمیل میں سیاسی طور پر ترقی و اقتدار دینے کے رویئے سے مکمل طور پر آگاہی کی بنیاد پر بلیو ایریا کے امریکن سینٹر میں چھ امریکی سفارت عہدے داروں کی تمام تر سیاسی و اقتدار ترقی کی پیشکش کو مسترد کرکے مکمل انکار کا پاکستانی قوم پرستانہ لیگی رویہ پیش کرکے امریکیوں کو اصل پاکستانی مسلم لیگی کیا ہوتاہے سے آگاہ کر آیا تھا۔
اصل بات یہ ہے کہ جس طرح چھ شعبوں کے سربراہ امریکی مجھے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے لالچی آلہ کار بناکر مجھے سیاسی اقتدار و حکومت میں حصہ دار بنانا چاہتے تھے اسی طرح افغانستان پھر عراق میں ایران کو کافی سیاسی فوائد دینے کے تجربے کے بعد توقع رکھتے تھے کہ دوست ہوکر ایران مشرق وسطیٰ میں عرب بادشاہتوں کے انہدام کے امریکی ایجنڈے کی تکمیل میں حصہ دار بن کر صیہونی اسرائیلی بھی مددگار اور ساتھی بن جائے گا ۔ اصل میں تو ابراہیمی صیہونی دوست معاہدے تو امریکہ ایران کے ساتھ نیتن یاہو جیسے صیہونیوں سے کرانے کا آرزو مند تھا مگر جواب میں امریکہ کو آیت اللہ علی خامنہ ای جیسا مرد درویش ایسا مل گیا جو ایرانی سرزمین تدبر و فراست‘ تہذیب و تمدن کا ‘ قوم پرست ترجمان ہے بلکہ وہ ایران کا عظیم تر سیاسی وجود بھی ثابت ہوتا رہاہے۔ اس نے یہودیت اور صیہونیت کو دو الگ الگ تہذیبیں‘ دو الگ الگ مذہبی سیاسی وجود ثابت کرکے یہودیت کو گلے سے لگایا ہوا ہے اور اس عمل کے ہمراہ صیہونیت کے اسرائیل کے جارحانہ عزائم کا رخ دنیا کو د کھاتا رہا ہے جس طرح عرب کامیاب ڈپلومیسی نے حال ہی میں 14 ممالک کی ووٹ سے سیکورٹی کونسل کی غزہ جنگ بندی قرارداد منظور کروالی ہے۔ اس عرب کامیاب ڈپلومیسی پر سعودیہ‘ امارات‘ خلیج‘ افریقی عربوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ چند دن پہلے امارات سفارت خانہ اسلام آباد میں سفیر حمد الزعابی نے فٹ بال ٹورنامنٹ منعقد کروایا ہے جس میں ایرانی سفیر اور ایرانی ٹیم کو بھی مدعو کیاہے۔ میرا یہ مطالبہ عرب بادشاہتوں کے سفیروں سے رہا ہے کہ جب مفاہمت بھی کرلی ہے تو خدارا آپس میں ملا جلنا تو شروع کریں۔
ذاتی مشاہدہ لکھ رہا ہوں کہ جب شاہ محمود قریشی‘ عمران حکومت میں وزیر خارجہ تھے تو حمد الزعابی نے پاکستان و امارات کو زیادہ قریب لانے کی بہت عمدہ کوششیں کی تھی مگر امارات سے یہ غلطی ہوگئی کہ وزرائے خارجہ اجلاس میں غیر ضروری طور پر بھارتی خاتون وزیر کو مہمان مبصر کے طور پر مدعو کرلیا جس پر شاہ محمود قریشی نے بائیکاٹ کو مناسب سمجھا۔ اس لمحے حمد الزعابی کی تمام تر عمدہ کوششیں امارات حکومت کی معمولی غلطی سے تباہ ہوگئی تھی۔
پاکستان کو آج بھی ایک بہت مخلص‘سچے‘ حسن نیت والی قوم پرست حکومت کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ حالیہ نئی حکومت اس اخلاقی‘ سیاسی‘ سخت معیار پر پوری نہیں اترتی جس معیار کا تقاضا ہمارے حالات کررہے ہیں۔ اگرچہ تباہ شدہ معیشت میں جنرل عاصم منیر کا عربوں سے زیادہ قرب درست راستہ ہے مگر وہ خود نہ چیف ایگزیکٹو ہیں نہ بن سکتے ہیں‘ نہ ہی بننا چاہیے۔ بلکہ اس کے لئے سچے ‘ مخلص‘ حسن نیت والے پندرہ بیس افراد کا قافلہ جرات و استقامت درکار ہے۔
پاکستان کو گیس پائپ لائن ضرور تعمیر کرنی چاہیے۔ امریکہ سے خوشامدانہ انداز میں ’’نرمی‘‘ طلب کرلینی چاہیے مگر میں پھر اصرار کروں گا کہ ولی عہد محمد بن سلمان آگے بڑھ کر پاک ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر میں سہولت کار بن جائیں اور ساتھ میں امارات کے محمد بن زاید النہیان کو بھی شامل کرلیں۔ دوسرے خلیجی ممالک اور قطر کو بھی۔کیا میرے ممدوح و معشوق عرب امراء و روساء و شیوخ پاکستانی عوام کے محسن بننا پسند کریں گے؟ یہ ایرانی معیشت کو مضبوط کرنے کا معاملہ بہت کم اور پاکستانی عوام کی توانائی کی شدید ضروریات پوری کرنے کا زیادہ معاملہ ہے۔