(گزشتہ سے پیوستہ)
سلسلہ غزوات میں سب سے پہلے غزوہ بدر واقعہ ہوا اس غزوہ میں آنحضرتؐ اپنے تین سو تیرہ جان نثاروں کیساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے آگے آگے سیاہ رنگ کے دو علم تھے ان میں ایک حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ جب باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا تو عرب کے اس وقت کے دستور کے مطابق کافروں کے تین نامی گرامی بہادر آگے آئے اور انہوں نے ھل من مبارز کا نعرہ لگایا۔ آپؐ نے اپنے خاندان کے تین جوانوں کے نام لئے، حمزہؓ ، علیؓ اور عبیدؓ تینوں اپنے اپنے حریفوں کے مقابلے کیلئے میدان میں نکلے۔ حضرت علیؓ نے پہلے ہی وار میں اپنے حریف ’’ ولید‘‘ کو خاک و خون میں تڑپا دیا دوسری طرف لپک کر عبیدہؓ کی مدد کی اور ان کے مدمقابل شیبہ کو بھی واصل جہنم کر دیا۔ مشرکین نے طیش میں آکر عام حملہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر مجاہدین نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور کفار کی صفوں میں گھس گئے ، علی المرتضیٰؓ نے دشمنوں کی صفوں کی صفیں الٹ دیںاور شمشیر و سنان کے وہ جو ہر دکھائے کہ مشرکین کے پائوں اکھڑ گئے اور خدا نے مسلمانوں کو فتح و کامرانی عطا کی آپؓ کو مال غنیمت میں ایک زرہ ایک اونٹ اور ایک تلوار ملی۔
7 ہجری میں خیبر پر حملہ ہوا۔ یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے قلعے تھے جنکا فتح کرنا آسان کام نہ تھا۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ اس کی تسخیر پر مامور ہوئے اسکے بعد حضرت عمر فاروقؓ مگر کامیابی نہ ہو سکی۔ سرور کائناتؐ نے فرمایا کل میں ایک ایسے بہادر کو علم دونگا جو خدا اور اسکے رسول کا محبوب ہے اور خیبر اسی کے ہاتھ پر فتح ہو گا۔ صبح ہوئی تو بڑے بڑے جانباز اپنا نام سننے کے منتظر تھے ہر شخص کی تمنا تھی کہ اس فخر کا تاج اسکے سر پر رکھا جائے۔ دفعتہ حضورؐ نے علیؓ کا نام لیا۔ یہ انتخاب غیر متوقع تھا کیونکہ حضرت علیؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔
حضورؐ نے ان کو بلا کر انکی آنکھوں پر لعاب دھن لگایا اور دعا فرمائی۔ آپؓ کی یہ شکایت جاتی رہی اسکے بعد علم دیا حضرت علیؓ نے پوچھا یا رسول اللہؐ ، کیا میں لڑ کر ان کو مسلمان بنا لوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں پہلے اسلام کے فرائض سے آگاہ کرنا اگر تمہاری کوشش سے ایک آدمی بھی مسلمان ہو گیا تو وہ تمہارے لئے بڑی سے بڑی نعمت سے بہتر ہے لیکن یہودیوں کی قسمت میں اسلام کی عزت و سرفرازی کے بجائے شکست و محکومیت کی رسوائی لکھی تھی۔ انہوں نے آنحضرتؐ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا نامور سردار ’’ مرحب‘‘ بڑے جوش سے یہ رجز پڑھتا ہوا نکلا ۔
ترجمہ: خیبر تو جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیاروں سے لیس ہوں بہادر ہوں تجربہ کار ہوں۔ اس وقت جبکہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے۔
فاتح خیبر نے اس متکبرانہ رجز کایوں جواب دیا۔ ترجمہ ۔ میں وہ ہوں جسکا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے۔ جھاڑی کے شیر کی طرح مہیب اور ڈرائونا ہوں میں دشمنوں کو انتہائی سرعت اور تیزی کیساتھ موت کے گھاٹ اتارتا ہوں۔ آپؓ بجلی کی طرح کو ندے اور ایک ہی وار میں مرحب کا کام تمام کر دیا۔
غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں نبی علیہ السلام کے ساتھ رہے اور بے مثال بہادری اور شجاعت کے جوہر دکھائے ۔ نبی علیہ السلام کی قیادت میں کئی اسلامی جنگیں آپؓ کی سرکردگی میں لڑی گئیں جنہیں پوری کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا۔
نبی علیہ السلام کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بالترتیب حضرت ابوبکرصدیقؓ‘ حضرت عمر فاروؓق‘ حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ مقرر ہوئے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد تین دن مسند خلافت خالی رہی۔ صحابہ نے علیؓ سے منصب خلافت قبول کرنے کی درخواست کی۔ حضرت علیؓ نے ابتداء اس بار گراں کو اٹھانے سے معذوری کا اظہار کیا لیکن صحابہؓ کے شدید اصرار کے بعد بالآخر21ذی الحجہ35ہجری بروز دو شنبہ مسجد نبوی میں ان لوگوں نے جنہوں نے ابوبکرؓ‘ عمرؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا متفقہ طور پر حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کی۔
مسند خلافت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو سزا دینا تھا مگر بعض پیچیدہ اسباب کی بنا پر اس میں کامیابی نہ ہوئی لیکن یہ قطعاً نہیں کہا جاسکتا کہ حضرت علیؓ کی طرف سے کوتاہی کی گئی۔ اس مسئلہ کا دشوار تر پہلو یہ تھا کہ کسی معین شخص کے خلاف شہادت موجود نہ تھی حادثہ کے وقت زوجہ عثمانؓ نے صرف محمد بن ابی بکرؓ کو پہچانا تھا اور وہ حضرت عثمانؓ کے اس جملے سے نادم ہو کر لوٹ گئے تھے کہ ’’اگر تیرا باپ زندہ ہوتا تو وہ تیرے اس عمل سے کبھی خوش نہ ہوتا‘‘ جب حضرت علیؓ نے محمد بن ابی بکرؓ کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے قسم کھا کر اپنی برات کا اظہار کیا۔ دوسری مشکل اور پیچیدگی یہ تھی کہ قتل کسی ایک یا دو فرد کا عمل نہ تھا دو اڑھائی ہزار شرپسندوں کا ایک گروہ تھا جس کی سازش اور پشت پناہی سے تاریخ اسلام میں اس الم ناک باب کا اضافہ ہوگیا۔ حضرت علیؓ ملک کی بعض داخلی اور سیاسی مصلحتوں کی بنا پر مجبور تھے کہ منصب خلافت سنبھالتے ہی اس منظم اور سرکش گروہ کے خلاف کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں۔ لوگ صرف قصاص چاہتے تھے حضرت علیؓ کی مجبوریوں پر ان کی نظر نہ تھی۔
بدقسمتی سے ایک مشکل یہ پیدا ہوگئی کہ جس جماعت سے یہ لوگ تعلق رکھتے تھے اس نے حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اس لئے بعض کو خود اپنے طور پر اس جماعت سے قصاص لینے کا خیال پید اہوا جس کے نتیجے میں جنگ جمل واقع ہوئی۔ جنگ جمل کے نام سے مسلمانوں میں جو باہمی تصادم ہوا اس کا ام المومنینؓ اور حضرت علیؓ دونوں کو بے حد ملال تھا۔ مسلمانوں کے لئے یہ بڑی آزمائش کی گھڑی تھی یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تلواریں مسلمانوں کے مقابلے میں بے نیام ہوئیں۔ نہرواں کے معرکہ میں خارجیوں کو سخت نقصان پہنچا تھا۔ امیرالمومنینؓ کی فوجوں نے ان کی وحدت اور جمعیت کو پارہ پارہ کر دیا تھا۔ بچے کھچے لوگ میدان جنگ میں تو اپنی شکست کا انتقام لے نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے وہی راہ اختیار کی جو شکست خوردہ ذہن کرتا ہے۔ اس جماعت کے تین آدمیوں‘ عبدالرحمان بن ملجم‘ برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر نے آپس میں مشورہ کیا کہ نہروان کی شکست کے بعد زندگی بے کار ہے حضرت معاویہؓ اورحضرت علیؓ دونوں میں سے کوئی بھی حکومت کا اہل نہیں۔ انہیں ختم کئے بغیر امن و سکون قائم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ابن ملجم نے حضرت علیؓ کو برک بن عبداللہ نے امیر معاویہؓ کو اور عمر وبن بکرنے عمروبن العاصؓ کو شہید کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اور تینوں نے ایک ہی دن 18رمضان 40ہجری کو صبح کی نماز میں تینوں بزرگوں پر حملہ کیا۔ اتفاق سے عمروبن العاصؓ کے بجائے اس روز ایک اور شخص صبح کی نماز پڑھانے آیا تھا ان کے دھوکے میں وہ شہید ہو گیا۔
حضرت امیر معاویہؓ پر واراو چھا پڑا اور وہ علاج معالجہ کے بعد ٹھیک ہوگئے۔ بدبخت ابن ملجم حضرت علیؓ کی گزرگاہ میں چھپا ہوا تھا جب آپ نماز صبح کے لئے نکلے تو اس نے حملہ کیا۔ حضرت علیؓ کو کاری زخم آیا آپؓ نے آواز دی لوگ دوڑ پڑے اور ابن ملجم کو گرفتار کرلیا گیا۔ امیرالمومنین نے اس سے چند سوالات کرنے کے بعد حضرت امام حسنؓ اور دوسرے لوگوں سے فرمایا۔ ’’اس کی خاطر تواضع کرو۔ نرم بچھونا دو اگر میں زندہ رہ گیا تو اپنے خون کا سب سے زیادہ دعویدار بنوں گا اور قصاص لوں گا یا معاف کردوں گا اگر مر جائوں تو اسے بھی میرے پیچھے روانہ کر دینا۔ رب العالمین کے حضور اس سے جواب طلب کروں گا۔
جندب بن عبداللہ نے پوچھا۔ اگر خدانخواستہ ہم آپ کو کھو دیں تو کیا امام حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں؟ امیرالمومنین نے فرمایا میں تمہیں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔ اپنی مصلحت تم بہتر سمجھتے ہو۔
اس کے بعد آپؓ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو کچھ نصیحتیں فرمائیں اور 20رمضان شب یک شنبہ40ہجری کو لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا ورد کرتے ہوئے آپ معبود حقیقی سے جا ملے(اناللہ واناالیہ راجعون)