(گزشتہ سےپیوستہ)
اس کے علاوہ کوئی دوسرا معاملہ جب عدالت کے سامنے آئے گا تو اس وقت ہی اسے دیکھا جائے گا۔دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت خان نے شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کو عدالتی معاون مقرر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر اس بینچ کے دیگر دو معزز ارکان اتفاق کریں تو میری تجویز ہے کہ جسثس(ر)مفتی تقی عثمانی کو اس کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا جائے۔اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم مفتی تقی عثمانی سے اس کیس کے حوالے سے رائے حاصل کر چکے ہیں۔
مدعی مقدمہ حسن معاویہ کے وکیل رائو شاہد نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ سینئر وکیل برہان معظم ملک لاہور سے وڈیو لنک کے ذریعے دلائل پیش کرنا چاہتے ہیں۔لہٰذا انہیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے وڈیو لنک کے ذریعے دلائل پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم وڈیو لنک پر کسی کو نہیں سنیں گے۔وڈیو لنک میں آواز وغیرہ کا مسئلہ ہوتا ہے۔اگر کوئی اس کیس میں پیش ہونا چاہتا ہے اور اس کے نزدیک اس کیس کی اہمیت بھی ہے تو وہ اسلام آباد آجائے۔بعدازاں فاضل عدالت عظمیٰ نے مذکورہ نظر ثانی پٹیشنز کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کو اپنے تحریری دلائل دو ہفتوں کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ جتنا وقت ہم تحریری دلائل جمع کرانے کے لئے دے رہے ہیں،اتنا ہی وقت ہم اسے پڑھنے کے لئے بھی لیں گے۔ اس کے بعد مذکورہ نظر ثانی پٹیشنز کو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے گا۔28مارچ کو ہونے والی مذکورہ سماعت کے احوال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شائد سپریم کورٹ مذکورہ نظر ثانی پٹیشنز پر فیصلہ جلدی نہیں کرنا چاہتی۔ بادی النظر میں سپریم کورٹ چاہتی ہے کہ مذکورہ معاملے کو طول دیا جائے تاکہ چھ فروری کے متنازع فیصلے کے خلاف جو فضا عوام میں بنی ہوئی ہے،اسے ختم کیا جاسکے۔یہ خدشہ اس لئے پیدا ہو رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے مذکورہ نظر ثانی پٹیشنر کی پہلی سماعت کے موقع پر خود اسلامی نظریاتی کونسل سمیت دس دینی اداروں سے چھ فروری کے متنازع فیصلے کے متعلق رائے طلب کی تھی۔
مذکورہ دس اداروں میں شامل المورد،جو کہ جاوید احمد غامدی کا ادارہ ہے،کے علاوہ دیگر تمام نو اداروں نے تقریبا ًاپنی مشترکہ رائے سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔اصولی طور پر چاہیے تھا کہ سپریم کورٹ اس رائے کی روشنی میں فریقین کے وکلا ء کے دلائل سن کر اپنا فیصلہ سنا دیتی۔مگر ایسا کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کی جانب سے یہ موقع دیا گیا کہ مزید جو بھی اس متعلق اپنی رائے دینا چاہتا ہے،وہ آئندہ دو ہفتوں میں تحریری طور پر جمع کروا سکتا ہے۔آخر اسلامی نظریاتی کونسل سمیت نو جید دینی اداروں کی جانب سے رائے موصول ہو جانے کے بعد مزید کسی سے رائے لینے کی کیا ضرورت تھی؟خاکسار سمجھتا ہے کہ مذکورہ معاملے کو طول دینے کے لئے سپریم کورٹ کو کوئی موقع فراہم نہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام فریقین اسلامی نظریاتی کونسل سمیت نو جید دینی اداروں کی ہی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے مزید کوئی بھی اپنی ذاتی رائے سپریم کورٹ میں جمع کرانے سے گریز کریں۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن اور مفتی محمد یاسین ظفر اپنے اپنے مسلک کے جید علمائے کرام ہیں۔ان کا علم ہمارے علم سے بہت زیادہ ہے۔ان اکابرین نے دیگر دینی اداروں کی مشاورت سے اپنی مشترکہ رائے سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا علم شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمن اور مفتی محمد یاسین ظفر سے زیادہ ہے تو وہ بے شک اپنی رائے بھی سپریم کورٹ کو دے دے۔لیکن اگر ہم ان اکابر علمائے کرام و مفتیان عظام کو اپنا بڑا مانتے ہیں تو ہمیں ان کی رائے سے ہی اتفاق کرنا چاہیے،ان اکابرین نے دس صفحات پر مشتمل اپنی متفقہ رائے سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے،جس کی کاپی اس خاکسار کے پاس بھی موجود ہے،لیکن ،چونکہ انہوں نے یہ رائے سپریم کورٹ کی جانب سے طلبی پر دی ہے اور اس رائے کو مذکورہ اکابرین کی جانب سے بھی تاحال پبلک نہیں کیا گیا۔مزید یہ کہ مذکورہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے،اس لئے جب تک سپریم کورٹ اس متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہ کر لے،اس وقت تک ان اکابرین کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رائے کواس خاکسار کی جانب سے زیر بحث لانا مناسب نہیں ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چھ فروری کے متنازع فیصلے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک استفسار کے جواب میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے 23 فروری کو جاری کئے گئے اپنے تفصیلی جواب میں قادیانیوں کے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو غیر قانونی اور غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمی کے اس فیصلے کے دو حصے ہیں۔پہلے حصے میں قادیانی ملزم کی سزا اور ضمانت پر بحث کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مذہبی آزادی پر بات کی گئی ہے۔فیصلے کے پہلے حصے میں عدالت عظمیٰ نے ملزم کو کیس سے بری کرنے کے لئے جن بنیادوں کا سہارا لیا ہے وہ کمزور ہیں،عدالت نے پنجاب ہولی قرآن ایکٹ کے تحت ملزم کی سزا پر جرح کرتے ہوئے اسے اس ایکٹ میں 2021ء ہونے والی ترمیم سے جوڑ کر بری کر دیا ہے۔۔ عدالت نے یہاں اسی ایکٹ کو جو 2011 ء میں منظور ہوا اور کیس کی بنیاد بھی اسی قانون پر ہے،کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور اس کی کوئی توجیہ فیصلے سے ظاہر نہیں ہوتی، بتایا گیا ہے کہ جرم 2019 ء میں ہوا اور قانون 2021ء میں منظور ہوا، حالانکہ 2011 کے قانون کے تحت ملزم مستوجب سزا تھا۔فیصلے کے دوسرے حصے میں مذہبی آزادی کے متعلق بحث کی گئی ہے،اس حصے میں اگر چہ قادیانیوں کا ذکر نہیں ہے،مگر عدالتی فیصلہ کبھی غیر متعلقہ بحثوں پر مشتمل مضمون نگاری نہیں ہوتا،سیاق و سباق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بحث قادیانیوں سے متعلق ہی ہے اور لوگوں نے بھی اسے درست طور پر قادیانیوں سے متعلق سمجھا ہے۔اس دوسرے حصے میں مذہبی آزادی کی عمومی بحث کو قادیانیوں کے باب میں زیر بحث لانا درست نہیں ہے،کیونکہ 1993 ء کے عدالت عظمی کے ظہیر الدین بنام سرکار مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں یہ قرار دیا جا چکا ہے کہ قادیانیت عیسائیت،ہندو مت وغیرہ کی طرح کوئی مذہب نہیں ہے۔اس لئے قادیانیوں کو مذہبی آزادی کے قوانین کے تحت اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔عدالتی فیصلہ پڑھنے والوں کا یہ سمجھنے میں کوئی قصور نہیں کہ فیصلے میں قادیانیوں کو تحریف شدہ قرآن شائع کرنے اور اپنے عقیدے کی تبلیغ کی اجازت دی گئی ہے اور اس کی وجہ سے مسلمانان پاکستان میں جو بے چینی پیدا ہوئی وہ اظہر من الشمس ہے۔