المیہ یہ ہے کہ بھارت دہشت گردی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے ، پوری دنیا میں تھو تھو ہو رہی ہے ، یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے ، جب مودی اور اس کا خونی ٹولہ الیکشن کا ڈرامہ رچانے کی کوشش میں ہے ۔ہمیں چونکہ موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ایک دوسرے کا گریبان تار تار کرنے سے فرصت نہیں لہذا دنیا بھر میں لعنتیں سمیٹتی بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اپنےووٹر کو دھوکہ دینے کی خاطر تھوتھنی اوپر اٹھائے پاکستان کی جانب منہ کئے کھڑی ہے ۔ بھارتی وزیردفاع جسےوزیردہشت گردی کہنا زیادہ موزوں رہے گا ، راج ناتھ نے تازہ درفتنی چھوڑی ہےکہ پاکستان اگر دہشت گردوں سے نہیں نمٹ سکتا تو بھارت اس کی مددکرسکتا ہے ۔ باسی ہنڈیا میں ابال کی طرح دھمکی بھی دی ہے کہ ’’پاکستان کامقصد دہشت گردی کا استعمال کرکے ہندوستان کو غیر مستحکم کرنا ہے تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گےـ‘‘ حیرت کی بات نہیں کہ خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سہولت کاربھارت ، کس دیدہ دلیری سے پاکستان کو دہشت گردی ختم کرنے کی آفر پیش کر رہا ہے۔جس کی اپنی 16ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ،ریڈ کاریڈور یعنی سیون سسٹر قرار دی جانےوالی ریاستوں میں بھارتی ٹرین کےداخلے سےپہلے بھارتی ترنگا چھپانا پڑتاہے۔ راج ناتھ کی یہ پیشکش چھاج تو بولے چھلنی بھی بولے کی بہترین مثال ہے ۔ راج ناتھ کی یہ ہفوات بھارت کی منفی اور خطرناک سوچ کی عکاسی ہے، جو اس وقت اپنے ملک میں منافرت کی انتہاکررہاہے اورملک سےباہردہشت گردی پھیلانے کی داستانیں زمانے بھر میں زبان زد عام ہیں ۔بھارتی حکام جو سکھوں، مسلمانوں، عیسائیوں اور کسانوں پر ظلم کےپہاڑ توڑ رہےہیں اب پاکستان کو مفت مشورے دینے لگے ہیں ۔جہاں ذات پات کے نظام میں امتیازی سلوک کی حدیں روزانہ پار ہوتی ہیں، عالمی ادارےروزانہ کی بنیاد پرجس بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام،سکھوں کےانسانی ومذہبی حقوق کی پامالی ، مسیحیوں پرحملوں کی داستانیں سناتے ہیں ،وہ کسی صورت بھی پاکستان کو مشورے دینے کے لائق نہیں۔ وزارت خارجہ میں اگر کوئی ذی شعور ہوتاتو راج ناتھ کے اس بیان کو اس کے گلے پھندا بناڈالتا، راج ناتھ کی اس پیشکش پرسرکاری سطح پراس سےمطالبہ کیا جانا چاہئے کہ ہمیں اس کی پیشکش قبول ہےلہذا اپنی اس پیشکش پر عمل کرتے ہوئے راج ناتھ بی ایل اے ،بی ایل ایف ،براس،ٹی ٹی پی ، ایس ایل ایل اے اور ایس آر اے سمیت تمام پراکسیز کو لگام ڈالے، بھارتی دہشت گرد ایجنسی راکو دبئی ، ایران اور افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کے آپریشن ختم کرنے کا حکم دےاور خطے میں دہشت گردی کی حمایت بند کرے۔جہاں تک صلاحیتوں کا تعلق ہے تو آئے روز کتے کی موت مارے جانے والے بھارتی دہشت گردوں کی لاشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اپنے بجٹ کا وافر حصہ خرچ کرکے جن دہشت گردوں کو بھیج رہا ہے،ان کے ساتھ کیاسلوک کیاجاتا ہے ۔ رہی بات سرحد پار آنے کی تو ہم ہمیشہ تیار بھی ہیں اور منتظر بھی ،فروری 2019 میں اس کا ثبوت بھی دے چکے ہیں ۔ دنیا میں دہشت گردی کون پھیلا رہاہےاور کس کی سرزمین پر غیرملکی افواج کے آپریشن کرکے دہشت گردی کے اڈےختم کرنے کی ضرورت ہے ، یہ ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ، دنیا بھر کامیڈیا ،ادارے اور حکومتیں روزانہ گواہی دےرہے ہیں ۔ راج ناتھ میں دم ہےتو جائے ، برطانیہ میں گارڈین پر ازالہ عرفی کا مقدمہ ٹھوکےاور اربوں ڈالر ہرجانہ کمائے، جس نے ایک ہفتہ قبل بھارت کا مکروہ چہرہ دنیاکےسامنے بےنقاب کرتے ہوئےانکشاف کیا کہ’’ بھارتی دہشت گرد ایجنسی را نے 2020 سے لےکر اب تک پاکستان میں 20افراد کو اجرتی قاتلوں کےذریعے قتل کروایاجس کی منصوبہ بندی بھارتی انٹیلی جنس را کے سلیپرسیلزنےکی۔ بھارت نے بیرون ملک اپنے مخالفین کو قتل کروانے کی حکمت عملی 2019 میں کے بعد اپنائی جس کے لئے بھارتی ایجنسی را کے اہلکاروں نے اسرائیل کی موساد اور روس کی kgb جیسی خفیہ ایجنسیوں سے خصوصی تربیت حاصل کی۔ بھارتی ایجنسیاں بیرون ملک قتل کی کارروائیاں دبئی، ماریشس اور نیپال سے آپریٹ کرتی ہیں جہاں ان کے سیف ہائوسز ہیں ۔پاکستان وہ واحد ملک نہیں جس نے بھارت پر اس طرح کےالزامات لگائے۔ بھارت یہی گھنائونا کھیل کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں بھی کھیل رہا ہے اور پاکستان کی طرح ان ممالک میں بھی اپنے مخالفین کے قتل میں ملوث رہا ہے۔اب تو زمبابوے جیسے چھوٹے ملک میں بھی را کے دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں ۔ تازہ ترین خبر یہ بھی ہے کہ جس دہشت گرد نیٹ ورک کا بھانڈا گارڈین نے پھوڑا ہے ، اس کا ایک رکن اور را کااہلکار اشوک کمارآنند پاکستان کی جانب سے بے نقاب کئے جانے اور پاکستان کی قانونی کارروائی کے خوف سے فرار ہو کر بھارت پہنچ چکا ہے اور اب دہائیاں دے رہا ہے کہ ’’میں تو ایک تاجر ہوں۔‘‘ اشوک کا فرار راج ناتھ کی اس بکواس کا جواب ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت کتنی ہے ۔ (جاری ہے )