Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

صاحب اختیار ہو آگ لگادیاکرو
شکر ہے ، وزارت داخلہ کو بھی سچ بولنے کا خیال آگیا ،تین ماہ سے میڈیا اور عدالتوں میں جھوٹ بول کر، سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس کی بندش سے انکار کرکے اپنی مٹی پلید کروانے اور ملک کی جگ ہنسائی کاسامان پیدا کرنے کا شوق ختم ہوا ۔ سوشل میڈیا پر سیاسی وغیر سیاسی ملک دشمن عناصر کا پروپیگنڈہ یقینی طور پر ایک سنگین مسئلہ ہے ، لیکن اس کے خلاف کسی ٹھوس لائحہ اور قانون سازی سے مسلسل گریز اور اوپر سے مسلسل جھوٹ بولتےچلےجانا کہ ایسا کوئی مسئلہ ہی نہیں ،ہم نے تو سوشل میڈیا بند کیا ہی نہیں ، اک الگ طرز کی حماقت ہے،جو ہماری بیوروکریسی کا ہی طرہ امتیاز ہو سکتا ہے ۔ سمجھ سے باہر ہے کہ نا معلوم کس عقل کے پہاڑ نے ان لال بجھکڑوں کو یہ بات سمجھادی ہے کہ معمولی معاملہ بھی جب تک عفریت نہ بن جائے حل کی جانب قدم نہیں اٹھانا ۔ کون نہیں جانتا کہ سوشل میڈیا پرملک دشمن سیاسی کلٹ سے لے کر دہشت گرد ، بھارتی تخریب کار اور رنگ رنگ کے شرپسند موجود ہیں ، جو اس عوامی پلیٹ فارم کو ملکی سلامتی اور امن وامان کے خلاف مسلسل استعمال کر رہے ہیں، بلکہ داعش، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بلوچ دہشت گردوں سے لے کر بھاری را کے آپریٹر تک سوشل میڈیا خصوصاً ٹویٹر کے ذریعہ سے پاکستان سےبھرتیاں کرتے ہیں،فنڈنگ حاصل کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو ٹارگٹ دیتے ہیں۔ دوسال قبل اسلام آباد میں ماڈرن انگلش میڈیم سکولوں کے بچوں کو داعش میں بھرتی کرنے کا سیکنڈل ابھی پرانا تو نہیں ہوا،وزارت داخلہ کی فائلوں میں موجود ہے کہ کس طرح سے داعش نے سوشل میڈیا پر ان بچوں کو گھیرااوران کے ذریعہ سے دہشت گردی کا منصوبہ بنایا۔ وہ تو اللہ کا کرم ہوا کہ معمولی غلطی سے یہ لوگ بےنقاب ہوئے اور ملکی اداروں نےہفتوں کی محنت کے بعد پورا گروپ پکڑ لیا، ورنہ کتنی تباہی ہوتی کسے معلوم؟ ابھی کل کی بات ہے، اسی جنوری میں ملک بھر میں بھارتی را کا’’ٹارگٹ کلنگ نیٹ ورک‘‘ پکڑا گیا ،جو دبئی سے سوشل میڈیا کے ذریعہ سے آپریٹ کیا گیااور2019 سے دہشت گردی کررہا ہے، سوشل میڈیا پربھرتیاں کی گئیں ، سوشل میڈیا پر ہی ٹارگٹ دئیے گئے،اس نیٹ ورک کےتوبعض مجرم پکڑےبھی جاچکے ہیں۔ سانحہ 9مئی ، کیا تنہا سیاسی کلٹ ملوث تھا ؟ ٹی ٹی پی کاسوشل میڈیا ونگ استعمال نہیں ہوا؟ بھارت سے سوشل میڈیا اکائونٹس نےلوگوں کو مشتعل کرنے اہداف کی نشاندہی کرنے میں کردار ادا نہیں کیا ؟ شہداء کی توہین کی مہم جتنی بار بھی چلائی گئی ، کیا اس میں اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے دہشت گرد عناصر شریک نہیں ہوئے ؟عدالتوں میں بدترین نوعیت کی شرمناک توہین رسالت کے مجرموں کی لائن لگی ہوئی ہے ، جنہیں ایف آئی اے نے گرفتار کیا ہے ، کیا یہ سب غلاظت سوشل میڈیا کے ذریعہ سے نہیں پھیلائی جا رہی؟ جب سوشل میڈیا کے ذریعہ سے دہشت گردی ، قتل وغارت اور ملک دشمنی کے نا قابل تردید ثبوت موجود ہیں ، خود وزرات داخلہ کے پاس ڈھیر لگا پڑا ہے تو کیوں عدالتوں کو گمراہ کرکے، عالمی میڈیا میں ملک کا تماشہ بنایا گیا ۔ پہلے ہی روز کیوں عدالتوں کو نہیں بتادیاگیا کہ یہ دہشت گردی اور شر پسندی کے شواہد ہیں ، ایکس انتظامیہ تعاون نہیں کر رہی اس لئے پابندی لگائی ہے ۔ عدالتیں پاکستان کی ہیں ، سیاسی اختلاف الگ چیز ہے ، فیصلوں کے اختلاف بھی ہو سکتا ہےلیکن یہ عدالتیں دہشت گردوں اورشر پسندوں کو تو سپورٹ نہیں کر سکتیں ۔ایکس پر پابندی کے کیس کو دیکھا جائے تو ہماری بیوروکریسی نے جھوٹ پر جھوٹ بول کر ، پابندی کا انکار کرکےخواہ مخواہ ریاست پاکستان کو مجرموں کے کٹہرےمیں لا کھڑا کیا ، یعنی انہوں نے وہ کیا کہ
شہر کرے طلب اگر تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو
ابھی ایک روز قبل حکومت نے عدالت میں پابندی کی وجہ بتائی اور اسے تسلیم کیا ، عین اسی روز ایکس انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دئے اور پیغام بھیج دیا کہ ’’ پاکستان کے تحفظات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں ۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی چند دہشت گردوں کے اکائونٹ بھی بلاک کردئے ہیں ۔ اگر بابو لوگ یہ سب پہلے کر لیتے تو کیا ہرج تھا ۔
المیہ یہ ہے کہ صرف بیوروکریسی ہی نہیں، ہمارے سیاستدان اور حکمران بھی کسی سے کم نہیں۔ جب تک پانی سر نے نہ گزرجائے ہاتھ پیر ہلانے کو تیار نہیں ۔پورا ملک چیخ رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے لئے قوانین بنائیں ، ان شترہائے بے مہار کو کسی ضابطے،کسی قانون کا پابند بنائیں ،لیکن نہیں ۔ یہ خود روزانہ گالیاں کھاتے ہیں ، سوشل میڈیا پر ان کی تذلیل ہوتی ہے، مجال ہےجو خود کو پڑنے والی گالیوں کے جواب میں ہی قانون سازی کرکے ملک اور معاشرے کو اس طوفان بدتمیزی سے بچانے کی کوئی ادنیٰ سی کوشش ہی کرلیں۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس تک اس معاملہ پر تشویش کا اظہار کر نے پر مجبور ہوگئی ہے،لیکن آثار اب بھی نہیں دکھائی دے رہے کہ پارلیمنٹ اس سلسلہ میں  کوئی راست اقدام کرے گی ، جب تک انہیں مجبور نہ کیا جائے۔ہاں، البتہ اگر اس میں اشرافیہ کے کسی مافیا کا مالی مفاد ہوتا تو پھرتیاں دیکھنے والی ہوتیں ۔
بات احسن اقبال کی بھی درست ہے کہ’’ سوشل میڈیا پر ملک دشمن نظریات کا مقابلہ مضبوط بیانیے سے ہو سکتا ہے‘‘۔ لیکن یہ بیانیہ بنائے گا کون ؟اور چلائے گا کون ؟ حکومت میں تو آپ ہیں جناب! جن اداروں اور وزارتوں کی ذمہ داری ہے کہ بیانیہ بنائیں ، سوشل میڈیا پر شر پسندوں کا مقابلہ کریں ،انہیں توقصیدہ گوئی سے ہی فرصت نہیں ۔ان کا حال تو یوں ہے کہ
لگا کے آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا
اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت
جھکا کے سر کوسبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور ! شوق سلامت رہےشہر اور بہت
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا شر انگیزی میں استعمال صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں پوری دنیا ایک طویل عرصے سے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں نفرت آمیز مواد کی تشہیر کی روک تھام کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار رہی۔امریکہ میں محکمہ انصاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے کوشاں ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ آزادی اظہا رکی کھلی چھٹی دینے والا کینیڈا….. وہاں بھی سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی روک تھام کے لئے پارلیمنٹ میں آن لائن ہارم ایکٹ پیش کردیا گیا ہے ،جس کے تحت انٹرنیٹ پرسوشل میڈیا مواد کے ذریعے شدت پسندی اور متشددانہ دہشت گردی کو ابھارنے سمیت 7 آن لائن جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔چین ، ایران ، سعودی عرب ، کوریاسمیت دنیا کے کئی ممالک اپنے قوانین کے تحت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہےہیں ۔ حیرت مگر یہ کہ ہم کیوں اپنی قومی سلامتی ، سیاسی استحکام ، معاشی ترقی اور امن امان کا تماشہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ہم نے کیوں اپنی نوجوان نسل کو شر پسندوں کے سپرد کر رکھا ہے ، سوچنے کی بات ہے ، بلکہ تحقیقات کی ضرورت ہے کہ کہیں اس سب کے پیچھے پاکستان دشمن عالمی قوتوں اور اداروں کی سرمایہ کاری تو نہیں ؟
عجب سا درد اٹھا ہے سلگ اٹھیں آنکھیں
اے میرے شوق بتا، ہم کہاں سے گزرے ہیں

یہ بھی پڑھیں