عاصمہ جہانگیر پاکستان کی سول سوسائٹی اور عدالتی تاریخ کا ایک متحرک مگرمتنازعہ کردار رہی ہیں،مذہب،ریاست اورخاندانی ومشرقی اقدارہمیشہ ان کا ہدف رہیں۔ اب ان کے نام پر ہرسال ہونےوالی کانفرنس وہی کردار ادا کر رہی ہے ۔ دو روز قبل لاہور میں آزادی اظہار کے عنوان سے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں آزادی اظہار کے نام پر آزادی اظہار ہی کا قتل کردیا گیا، کھلے عام انسانیت کی تذلیل،توہین اورقتل کرنےوالے اسرائیل کے موقف کو تحفظ دیاگیا ۔ شرمناک امر یہ ہےکہ کانفرنس میں ایک سفیرسےاس کے ملک میں غزہ کے حوالہ سے آواز اٹھانے پر پابندی کے متعلق سوال پر نوجوان کو باقاعدہ زدوکوب کرکے ہال سے نہ صرف نکال باہر کیا گیا ، بلکہ سفیر نے غیر سفارتی لب ولہجہ استعمال کرتے ہوئے ، گلی محلے کے غنڈوں کی طرح کا رویہ اختیار کیا ۔ غزہ کی صورتحال پر سوال اپنی جگہ لیکن ایک سفیر کو میزبان ملک میں ایسا رویہ زیب دیتا ہے؟ کانفرنس کے منتظمین کے لئے یقیناً ان کی اپنی ذہنی غلامی اور نظریاتی کسمپرسی کےسبب سفیر کا رویہ شائد توہین آمیزنہ ہو لیکن پاکستانی قوم یہ توہین برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جو لوگ وزارت خارجہ سے نوٹس لینےکامطالبہ کررہےہیں، وہ حق بجانب ہیں ، ان کی حمائت کرنا قومی غیرت کاتقاضہ ہے۔ اس کے ساتھ ان تمام عناصر کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہئے جو اس حدتک گر چکے ہیں کہ انہیں پاکستان کی سرزمین پر ہونے والی ایک کانفرنس میں غزہ پر سوال بھی برداشت نہیں، حالانکہ ان کے قبلہ وکعبہ امریکہ میں بھی اب غزہ کے شہیدوں کا لہو سر چڑھ کر بول رہا ہے،اوراسرائیل کاپرچم امریکی دانش گاہوں میں بھی جلایاجا رہا ہے ۔
ذہنی غلام اور کاسہ لیس عناصر کی ڈوریاں کہاں سے ہلتی ہیں اور یہ کس کے راتب پر پلتے ہیں، اس کا اندازہ اس سے بخوبی ہوجاتا ہے کہ ایک جانب غزہ کا نام لینے پریہ جان بلب ہوجاتے ہیں تو دوسری جانب دہشت گرد غفار لانگو کی دہشت گرد بیٹی مہ رنگ بلوچ کو بصد احترام اس کانفرنس میں بلایاجاتا ہےاوراسے یورپی یونین سمیت مغربی ممالک کے سفیروں سے ملاقاتوں میں سہولت کاری فراہم کی جاتی ہے ۔ یہ وہی مہ رنگ بلوچ ہے ، جو پاکستان دشمن دہشت گرد تنظیموں کی پراکسی کے طور پر کام کرتی ہے ، ریاست پاکستان کے خلاف زہر اگلتی ہے اور پاکستانی عوام اور امن کے دشمن فراری دہشت گردوں کو لاپتہ قرار دے کر پاکستان اور اداروں کے خلاف نفرت کا پرچار کرتی ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ مہ رنگ اور اس قبیل کی دیگر لڑکیاں کون ہیں ؟ کہاں سے آپریٹ ہوتی ہیں ۔ ایک ایسی کانفرنس جس میں پاکستانی عدلیہ کے شہہ دماغ بھی شریک ہورہے ہوں ، اس میں اس طرح کے ملک دشمن دہشت گردوں کو سٹیج پر بٹھا کر ان کی ملک دشمن گفتگو پر تالیاں پیٹنے والے فکری افلاس کا شکار بھاڑے کے دانشور کیا چاہتے ہیں ؟کس کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں ، اور ان کا مقصد کیا ہے ؟ یہ سمجھنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے ۔ آزادی اظہار کے نام پر ملک دشمنی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ سول سوسائٹی نے اس پر رد عمل دیا ہے ، اور عین کانفرنس کے دوران کانفرنس کے باہر اپنے اس آزادی اظہار کے حق کو استعمال کیا ہے ، جس پر کانفرنس کے اندر پابندی تھی ۔
سول سوسائٹی کے احتجاج کی قیادت کوئی بڑی شخصیت بے شک نہیں کر رہی تھی ، لیکن ان نوجوانوں نے ہنگامی بنیادوں پر جس غیرت ملی کا ثبوت دیا اور کھل کر استعمار کے ان ایجنٹوں کو للکاراہے،یہ قابل تحسین اقدام ہے ۔سول سوسائٹی کے اس احتجاج میں ایک جانب کانفرنس میں غزہ پر بات کرنے سے روکنے کے خلاف احتجاج کیا گیا تو دوسری جانب بلوچستان میں بے گناہوں کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل پر بات کرنے کی اجازت دینےکے بجائےدہشت گردوں کی نمائندہ مہ رنگ کو بلانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ، جبکہ عدلیہ میں سیاست اور سیاست میں عدالتی مداخلت جیسا حساس موضوع بھی احتجاج کا عنوان رہا۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس کی واحد مثبت بات کانفرنس میں جسٹس منصور علی شاہ کا خطاب تھا ۔ بلا شبہ اس خطاب کا ایک ایک لفظ آب زر سے لکھے جانے کے قابل تھا ۔ انہوں نے عدلیہ میں سیاست ، سیاست میں عدالتی مداخلت سے آگے بڑھ کر عدلیہ میں کرپشن ، گروپنگ اور مافیاز تک کے کردار کو بے نقاب کرکے رکھ دیا ۔ جو کچھ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، ملک کا ہر ذی شعور جانتا ہے ، لیکن کوئی اور کہتا تو اب تک توہین عدالت میں اندر جا چکا ہوتا ، لیکن جناب جسٹس کا شکریہ کہ انہوں نے قوم کے خدشات اور سوالات کو زباں عطا کی اور وہ سب کہہ دیا ، جو جانتے سب ہیں لیکن کہنے کا یارا کسی میں نہیں ۔ جسٹس منصور علی شاہ کے ان خیالات سے سر مو بھی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ’’ عدلیہ کو چیف جسٹس حضرات کی ذاتی آرا سے آزادی دلا کر قانون اور آئین کے تابع کرنا ہوگا، نااہل ججوں کو سسٹم سے نکالنا ہوگا اور کسی بھی سفارش پر آنے والے ججوں کا راستہ روکنا ہوگا۔ ‘‘ جسٹس منصور علی شاہ کی تقریر کو پڑھتے ہوئے ماضی پر نظر دوڑائیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کب اور کس نے نظام عدل کو اپنی سوچ اور مفادات کا اسیر بنایا ، اور کون ہے جو آج بھی اسی تسلسل کو جاری رکھنے پر مصر ہے۔ جج تو جج یہاں تو ان کے اقرباء کی خواہشات پر ملک کوسیاسی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنےکے تماشے بھی ہوئے ، ہم نے تو ایک جیسی صورتحال میں ایک ہی بینچ سے وفاق میں اور صوبے میں اس کے متضاد فیصلہ ہوتےبھی دیکھا ہے۔یہ شائد دنیا کی کسی اور عدلیہ میں نہ ہو کہ عدالت میںسماعت سے بھی پہلے صرف جج کا نام سن کر مخصوص سیاسی جماعت نے جس فیصلے کی پیشین گوئی کی ، وہی جاری بھی ہوا ، یہاں نصف گھنٹے کی سماعت میں 6سو دہشت گردوں کی بریت اور ملزموں کو وہ مراعات بھی دئیے جانے کی مثالیں موجود ہیں ، جس کا اس نے مطالبہ ہی نہ کیا تھا ، کس کس بات کو روئیں ، کس کس بات کا نوحہ کہیں ۔۔۔۔ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم ۔
دل مایوس نہیں ہے ، جسٹس منصور علی شاہ کا خطاب امید کی کرن کہی جا سکتی ہے کہ ججوں کے تقرر کے حوالہ سے سپریم کورٹ نے جو کمیٹی قائم کی ہے ، اس کی قیادت انہی کے سپرد ہے ، یعنی قدرت نے نشتر مسیحائی انہی کے دست ہنر مند کے سپرد کردیا ہے، یقیناً وہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے ۔
کرن ہو کتنی نحیف لیکن کرن ہے پھر بھی
وہ ترجماں ہے کہ روشنی کا وجود زندہ ہے