(گزشتہ سے پیوستہ)
سپریم کورٹ نے یہ بھی فرمایا کہ فلاں نااہل، اس سپریم کورٹ نے اسی مجرم کو کوثر وتسنیم سے نہلا کر پہلے نمبر کا پاکباز بنا دیا۔
سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو پھانسی دی۔ اس سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو غیر منصفانہ کہا۔ کہیں یہ تو نہیں کہ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق فیصلہ جات قانون سازی اور اب پھر اس سے روح پر کپکپی طاری ہوتی ہے۔
26 فروری کو جن اداروں سے رائے مانگی تھی۔ غامدی ازم کو چھوڑ کر تمام اداروں نے متفقہ طور پر 6 فروری کے فیصلہ کو یک قلم مسترد کردیا۔ آپ نے 28 مارچ کو بہت ہی سادہ سا ارشاد فرمایا کہ آرا آچکی ہیں۔ سچی بات ہے وہ ہم نے پڑھی نہیں۔ کہاں کہاں سے کتنا خرچہ اور وقت لگا کر کیس کے لئے لوگ آئے۔ آرا آچکیں لیکن پڑھا نہیں۔ اس سے ان کو کتنی مایوسی ہوئی۔ اس پر غور فرمانے کی استدعا ہے۔
28 مارچ کو آپ کے بینچ کے ایک رکن نے فرمایا کہ عدالت کی معاونت کے لئے مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ کو لے لیا جائے تو فرمایا ضرورت نہیں۔ ان کی رائے آچکی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندہ نے رائے دی کہ فلاں بات کی وضاحت ہوجائے تو اسے رد کردیا گیا کہ تمام مسائل کو یہاں نہیں لایا جاسکتا۔ اپیل میں دیکھیں گے۔ کاش غیر متعلقہ امور کو6 فروری کے فیصلہ کے وقت ہی سوچ لیا جاتا تو یہ مسائل کھڑے نہ ہوتے۔
عزت مآب قبلہ! تین ہفتے کا وقت دیا گیا۔ اب تین ہفتے گزر گئے۔ لیکن تاریخ نہیں عنایت کی جارہی۔ کیا التوا اور تاخیری حربے، لٹکائو اور لمبا کرو پر عمل کیا جارہا ہے۔ کتنا اضطراب وہیجان ہے اس پر توجہ کرلی جاتی۔ دوماہ ہوگئے پوری قوم کی نظریں لگی ہیں کہ رحمت عالمﷺکی ختم نبوت کے تحفظ، ملعون اور باغیان ومنکرین ختم نبوت سے متعلق طے شدہ قانونی امور کو متنازعہ نہ بنایاجائے، ایسے کب ہوگا؟
قادیانیوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات، حضور سرورکائناتﷺ کی ذات، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوۃ، میں ان کو مسلمانوں سے اختلاف ہے‘ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کی شادی، غمی، جنازہ میںشرکت جائز نہیں‘قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمان جو مرزا کو نبی نہیںمانتے سب نان مسلم ہیں‘مرزا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے‘مرزا کو نہ ماننے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں سے اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے‘قادیانیوں کے نزدیک مرزا کا نہ ماننے والا صرف کافر نہیں بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھنا فرض ہے‘مسلمانوں کا نماز جنازہ حتی کہ مسلمانوں کے بچوں کا بھی جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر اللہ قادیانی نے قائد اعظم بانی پاکستان کا نماز جنازہ نہیںپڑھا تھا‘مرزا قادیانی معاذ اللہ محمد رسول اللہ ہے۔
ان قادیانی عقائد کے ہوتے ہوئے ان کے متعلق سمجھنا کہ مسلمانوں سے ان کا معمولی اور سادہ اختلاف ہے یہ کس طرح زیبا ہے؟ اس پر آپ سے تدبر وفکر کی درخواست ہے۔
مسلمانوںکے نزدیک حضور سرور کائنات ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں قادیانیوں کے نزدیک حضور سرور کائناتﷺ کے بعد مرزا قادیانی بھی اللہ کا رسول اور نبی تھا‘مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالمﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہ کرامؓ ہیں جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے زمانہ میں اس کودیکھنے والے صحابی ہیں‘مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالمﷺ کا خاندان اہل بیت ہے۔ جبکہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کا خاندان بھی اہل بیت ہے‘مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالمﷺ کی ازواج امہات المومنین ہیں جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی بیوی بھی ام المومنین ہے‘ مسلمانوں کے نزدیک مدینہ منورہ میں جنت البقیع کا قبرستان مقدس ہے، قادیانیوں کے نزدیک قادیان کا بہشتی مقبرہ بھی مقدس ہے‘ مسلمانوں کے نزدیک حضور سرور کائناتﷺکو نہ ماننے والا مسلمان نہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عالم اسلام کے کل مسلمان جو حضورﷺ کو مانتے ہیں یہ سب مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں‘ مسلمانوں کے نزدیک آخرت کی نجات رحمت عالمﷺکی ذات اقدس کی تصدیق واتباع میں منحصر ہے۔ جبکہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کو مانے بغیر آخرت کی نجات ممکن نہیں‘مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ قابل احترام ہیں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود دوسرا قادیانی خلیفہ کہتا ہے کہ مکہ و مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہوگیا ہے اب اسلام اور روحانیت مرزا قادیانی سے وابستہ ہے اور وہ برکات قادیان میں ہیں‘ مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید اللہ تعالی کا آخری کلام ہے۔ جبکہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی پر بھی کلام اللہ نازل ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے‘مسلمانوں کے نزدیک حدیث رسول اللہ ﷺ مشعل راہ ہے۔ جبکہ قادیانیوں کے نزدیک جو حدیث رسول اللہﷺ، مرزا قادیانی کے کلام کے خلاف ہے وہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لائق ہے۔
قبلہ عزت مآب! ان حقائق کے ہوتے ہوئے قادیانی، قادیانیت جیسے اپنے کفر کو ظاہرا یا خفیہ اسلام کے نام پر پیش کریں۔ قادیانی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر ثابت کریںایسے ہوگا؟ رب محمدﷺکی قسم ایسے کبھی نہیں ہوگا۔ یہ جذباتیت نہیں ایمانی حمیت ہے اس پر سمجھوتہ رحمت عالمﷺ کے منصب خاص اور وصف امتیاز ختم نبوت کو پائمال کرنے کے مترادف ہوگا۔ مسلمان جان دے دے گا۔ اسے برداشت نہیں کرے گا۔ بہت تجربے ہوچکے اب مزید تجربوں کا یہ ملک متحمل نہیں۔ ریویو کی فوری قریبی تاریخ دی جائے۔ فیصلہ دیا جائے جس سے تلافی مافات ہو۔ مزید اسے لٹکانا، تاخیر کرنا بخدا مناسب نہیں۔یہ مطالبہ نہیں درخواست ہے۔ سیدنا عمر فاروق ؓسے برسر منبر سوال کیا جاسکتا ہے تو کسی اور کو اس سے گرانی نہ ہونی چاہیے۔
آخری گزارش! راقم کی 79سال عمر ہے نصف صدی سے زائد عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی، قادیانی کفر بواح کے تعاقب میں گزر گئی۔ میری ان گزارشات سے اہانت کا غیر ارادی پہلو بھی نکلتا ہو تو پیشگی معافی چاہتا ہوں۔ ہاں! جو موقف عرض کیا ہے اس کے لیے یقین کی بلند وبالا چٹان پر خود کو پاتا ہوں۔ تادم واپسی اس پر قائم ہوں۔ یہ دھمکی نہیں اپنے ایمان پر آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں۔ تاریخی اور چمکتے دمکتے فیصلہ سے سرفراز فرمائیے۔