Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

نفسیاتی مریض

آج کل مصنوعی ذہانت کا بڑ اچرچا ہے، کہا جاتا ہے کہ گھنٹوں کاکام منٹوں میں ہوجاتا ہے ، ریسرچ کے حوالہ سے یہ ٹیکنالوجی بہت کارآمد بتائی جاتی ہے،اختصار کے طور پر اسے’’ اے آئی‘‘ بھی کہا جاتا ہے ،لیکن ہمارا مسئلہ اس سے بھی حل نہیں ہو سکا ۔ سوال تھا ’’ ایسا سیاسی کلٹ دنیا میں کہاں کہاں پایا جاتا ہے ، جس کا واحد بیانیہ اپنے وطن کو گالی دینا ، اپنے وطن کی برائی میں پیش پیش رہنا ، اپنے وطن کے ہر دشمن کے گلے میں پھولوں کے ہارڈالنا اور ہر درست بات پر بھی سیاپا کرنا ہو۔‘‘ سوال کی ترتیب بدل کر دیکھ لی ، الفاظ مختلف استعمال کر لئے لیکن یہ واہیات اے آئی پاکستان کے ایک سیاسی کلٹ کے سوا کوئی نام ہی نہیں لیتی۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ صرف پاکستان ہی ہے، جہاں یہ سہولت حاصل ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیسا چھوت کا مرض ہے کہ جیسے ہی کوئی بندہ اس کلٹ میں شامل ہوتا ہے ، اس کی زبان پر گالی اور فکر میں تخریب در آتی ہے ، چاہے کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ، کتنی ہی ڈگریاں نہ حاصل کر رکھی ہوں۔اچھے خاصے با اخلاق اور تمیز دار بھی جیسے ہی گلے میں ’’دو رنگا ‘‘ پہنتے ہیں ، تمیز اور اخلاقیات سے ناطہ ٹوٹ جاتاہے۔
ابھی کل کی بات ہے ، بھارت نے چندریان نامی سیٹلائٹ خلا میں بھیجی، انہوں نے یہاں طوفان بپا کردیا ،پاکستان ، اداروں، افراد اور سائنسدانوں کے خلاف گالیوں کا طومار باندھا، الزامات کی بوچھاڑ کردی ، بھارت کی تعریف میں وہ قلابےملائے کہ خود مودی بھی سنے تو یقین نہ کرے کہ وہ اتنا اچھا کیسے ہوگیا ۔ اب پاکستان اپنا سیٹلائٹ چاند پر بھیج رہا ہے ، تو وہی کلٹ جو کل تک سیٹلائٹ نہ بھیجنے پر دیواروں سے ٹکریں مار رہا تھا ، اب پاکستان کے سیٹلائٹ بھیجنے پر اسے غشی کے دورے پڑ رہے ہیں ۔دوروز سے سوشل میڈیا پر اک طوفان مچا ہے ،وہی لوگ جو پہلے بھارت کا نام لے کر طعنہ زن تھے ، وہی اب اسے فضول خرچی اور نا معلوم کیا کیا کچھ قرار دیتے ہوئے اتنی بھی شرم کرنے کو تیا رنہیں کہ کل انہوں نے کیا کہا تھا ۔ ان میں صحافی بھی ہیں ، نام نہاد دانشور بھی ، ایکس سروس مین بھی ہیں اور شعور و سماج کے ٹھیکیدار بھی ۔ اس کلاس کا ہمیشہ سے المیہ یہ ہے کہ انہوں نے گالی دینی ہے ، بہانہ جو بھی ہو ۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ معاملہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو یہ بھارت کے حمائتی ،مسئلہ دہشت گردوں اور پاکستان کے درمیان ہوتو یہ دہشت گردوں کے حامی ، موازنہ افغانستان اور پاکستان میں ہو تو یہ افغانستان کے حامی ہوں گے ، یعنی ہر حال میں پاکستان کے خلاف کھڑے ہونا ان کا مقصد ہے۔ معاملہ صرف گالی تک ہی محدود نہیں ، جھوٹ بولنے اور اسے پھیلانے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں، اور پھر اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر کرتے ہیں کہ ’’دیکھا ہم نے فلاں کو اتنی گالیاں دیں کہ وہ چپ ہوگیا ۔‘‘ اخلاقی پستی کا اس سے بڑا اور اجتماعی مظاہرہ کسی نے کہیں نہ دیکھا ہوگا ۔ عجیب لوگ ہیں ، اپنی بد اخلاقی ہی نہیں ، جہالت اور جھوٹ پر بھی فخر کرتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک بھارتی سابق جرنیل کی تحریر نظر سے گذری لکھتا ہے ۔’’ بھارت کو اب پاکستان کے خلاف ابلاغی جارحیت کے لئے بجٹ مختص کرنے ،اور ایجنٹ ہائر کرنے کی ضرورت نہیں ، سادہ سا کام کریں ، ایک لیڈر کی تعریف کرتے رہیں ، ریاست کو گالی دیں ، پاکستانی فوج کے خلاف بات کریں ، آپ کو ایک کے بدلے ہزاروں لوگ مل جائیں گے جو آپ کا بیانیہ پھیلانے اور اپنی ریاست کے خلاف آپ سے تعاون پر تیار ہوں گے ۔‘‘
آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے ایک روز قبل آزادی اظہار کے نام پر دشنام و آزار کی منظم مہم جوئی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ، لیکن معاملہ یہ ہے کہ مرض اب تنیبہ اور ترغیب سے آگے نکل چکا ہے۔ وجہ یہ کہ عدل وانصاف کے مقدس ایوانوں میں بھی اس دشنام فورس کے ہمنوا پائے جاتےہیں ، جو انہیں ہلا شیری دیتے ہیں۔ میڈیا میں بھی بہت سے میر ، جعفر وصادق کے ورثاء ہیں جو اس گالی بریگیڈ اور دشنام فورس کی سرپرستی کرکے غیر ملکی آقائوں سے ’’فیض‘‘ پاتے ہیں ۔اسلام آباد کے چڑی مار جعلی صحافی کا معاملہ ہی دیکھ لیں کہ کل تک جسے کوئی صحافتی ادارہ نوکری دینے کو تیار نہیں تھا ، مہہ رنگ بلوچ کی چمچہ گیری ، عدلیہ اور افواج پر الزام تراشی کے بعد جب سے اسے آزادی اظہار کے نام پر ریلیف ملا ہے ، کس طرح سے اچھلتا پھرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ملک دشمنی ، کذب بیانی ، گالم گلوچ اور شخصیت پرستی کے آزار کا شکار اس نفسیاتی ٹولے کا علاج آخر کیا ہے ؟ جواب بہت واضح ہے کہ اپنی دیواریں اونچی کریں ، قانون سازی کی جائے ، سہولت کاروں کو شٹ اپ کال دی جائے ،مزید کسی رو رعائت اور نرمی کے بجائے ملک اور ملکی اداروں کے خلاف زبان درازی کے مرتکب ہونے والوں کو قانون کے شکنجےمیں کسا جائے ، ایک کو سزا ملے گی تو سو سدھر جائیں گے ۔ حکومت خصوصاً پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سخت ترین قانون سازی کرے ، اونچی مسندوں پر بیٹھ کر ملک کو گالی دینے والوں کو ہیرو بنانے کا سلسلہ روکنے کی خاطر قانون سازی نہ کی گئی تو کل کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔ یہی سیاسی قائدین جو آج تساہل کے مرتکب ہیں ، کل پچھتاوے کا شکار نظر آئیں گے ۔ بہتر یہ ہوگا کہ نفسیاتی مریضوں کے شافعی علاج کا بندوبست کیا جائے ویسے بھی آئین پاکستان کی رو سے ہر شہری کا علاج معالجہ حکومت کی ذمہ داریہے ۔
اس نفسیاتی ٹولے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ملک و قوم کی کامیابیوں کا زیادہ سے زیادہ تذکرہ کرکے انہیں جلنے دیا جائے ۔ پاکستان کے سیٹلائٹ مشن سے اگر کسی کو تکلیف ہے تو ہوا کرے ۔ پاکستان بہرحال آج مبارک باد کا مستحق ہے کہ آج ہم نے چاند کی جانب اپنا قدم بڑھا دیا ہے، ’آئی کیو کیوب قمر ‘‘ نام کی ہماری سیٹلائٹ چین کے ہینان اسپیس لانچ سائٹ سےروانہ ہو چکی،جو چاند کے مدار پر 5 دن میں پہنچے گی۔فخر کی صرف یہ بات نہیں کہ ہماری سیٹلائٹ چاند پر جا رہی ہے اور اب چندا ماما دور کے رشتے دار نہیں رہے ، یہ امر بھی ہمارے ماہرین کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے کہ پاکستان 8ممالک کے درمیان ہونے والا مقابلہ جیت کر سیٹلائٹ بھیج رہا ہے۔ 2022 میں چینی نیشنل اسپیس ایجنسی نے ایشیا پیسیفک اسپیس کارپوریشن آرگنائزیشن (ایپسکو) کے ذریعے رکن ممالک کو چاند کے مدار تک مفت پہنچنے کا منفرد موقع فراہم کیا تھا۔ اس کے رکن ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، چین، ایران، پیرو، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں، سب نے اپنے منصوبے جمع کروائے ، صرف پاکستان کا منصوبہ قبول کیا گیا، دو سال کی محنت کے بعد سیٹلائٹ مکمل کیا جاسکا۔گالی اور جھوٹ کے پروردہ صرف رو سکتے ہیں ، چیخ سکتے ہیں ، سوشل میڈیا پر سیاپا کر سکتے ہیں ۔ اس طرح کی منفرد کامیابی صرف ان کو میسر ہے ، جوملک سے وفادار ہوں اور اپنا ہنر آزمانے کا حوصلہ رکھتے ہوں ، ’’ آئی کیو کیوب قمر ‘‘ پروجیکٹ سے منسلک تمام پاکستانیوں کو مبارکباد ۔

یہ بھی پڑھیں