Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

معافی کیسی ؟

یقینا ً بہت بڑی تعداد میں ارباب دانش بھی موجود تھے،جو قوم کو حقیقت سے روشناس کروانے کی کوشش میں رہے ، لیکن ہٹلر کی لاف و گزاف نے ایسا سماں باندھا کہ 1944 تک جرمنی میں اکثریت ہٹلر کے حکم پر دوزخ میں بھی چھلانگ لگانے کو تیار تھی،وہ لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے میں کامیاب رہا ، اس نے نہ صرف پوری دنیا کی مت مار کر رکھ دی بلکہ 8 کروڑ انسانوں کی جان بھی لے لی۔لیکن 1945 میں وہی ہٹلر پوری قوم کے لیے گالی بن کر گیا۔پاکستانی کلٹ کا سرغنہ بھی اسی راستے پر گامزن تھا ، موقع اور وقت ملتا تو شائد وہ ہٹلر کا بھی ریکارڈ توڑ دیتا ، ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو پاکستان میں کھلی چھٹی دے کر وہ آغاز تو کر ہی چکا تھا ۔ بد بختی کا عالم تو یہ ہے کہ اپنے کرتوتوں کے سبب اقتدار ہاتھ سے نکل گیا ، ریاستی اداروں نےمریضانہ خود پسندی اور تخریب کارانہ مقاصد میں ساتھ دینے سے انکار کیا تو اداروں اور ریاست کے خلاف ہی بغاوت کر ڈالی ، قوم کا فخر شہداء کے مقابر ، دفاع پاکستان کے مظاہر اور قومی افتخار کی علامتوں تک کو روند ڈالا ۔9 مئی 2023کسی سیاسی جماعت کا احتجاج نہیں تھا ، اندرون اور بیرون ملک بیٹھے شرارتی دماغوں کی مہینوں پر مشتمل منصوبہ بندی کا مظہر ایک مکمل ومنظم بغاوت تھی ، طے شدہ اہداف کو طے شدہ انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ دشمن کا وہی منصوبہ تھا ، جس پر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن آصف زرداری نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے، پاکستان کھپے ( پاکستان زندہ باد) کا نعرہ لگاکر دشمن کی سازش کو مٹی میں ملا دیا ۔اس بار شخصیت پرست کلٹ دشمن کے اندازوں سے بھی زیادہ ان کے لئے کارآمد ثابت ہوا ،احتجاج کی آڑ میںملک میں بغاوت کی کوشش کی گئی، 212 مقامات پر بیک وقت فوجی تنصیبات پر منظم حملے کئے گئے۔سارے عمل کی اس یقین کے ساتھ ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں کہ بغاوت کی کامیابی کی صورت کہیں لوٹ کے مال سے حصے سے محروم نہ رہ جائے ۔
ایک فیصد بھی شبہ نہیں کہ سانحہ 9 مئی ایک طے شدہ منصوبہ تھا۔ جس کا پلان پی ٹی آئی کے مرکزی قیادت نے تیار کیا، عملدرآمد پہلے سے مقرر کردہ کارکنوں کے مخصوص گروپوں نے کیا ۔جس انداز میں اور جس قدر نظم وضبط کے ساتھ یہ سب وقوع پذیر ہوا ، اسے کسی قیمت پر بھی کسی ایک فرد کی گرفتاری کا رد عمل قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اقتدار چھن جانے پر امریکی پروپیگنڈہ فرموں ، سوشل میڈیا اور غیر ملکی مشیروں کے ذریعہ سےسازشی تھیوریوں کا سہارا لیاگیا، اور پھروہ کردیا گیاجو دشمن بھی 75 سال سے نہیں کر سکاتھا۔ یہ ملکی اداروں کی پیشہ وارانہ مہارت تھی کہ شرپسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے دشمن کو خوش کرنے کے بجائے پرامن حکمت عملی سے معاملات کو سنبھالا ، ورنہ بلوائیوں کا مقصد لاشوں کا حصول تھا ، جس میں ناکامی پر وہ آج تک ملول دکھائی دیتے ہیں۔جن مقامات کو شرپسندوں نے نشانہ بنایا ، ان کا نتخاب ہی یہ بتانے کو کافی ہے کہ یہ کوئی سیاسی اشتعال نہیں بلکہ ریاست اور قومی افتخار پر حملہ تھا ، جسے کسی صورت قبول کرنا تو درکنار معاف تک نہیں کیا جا سکتا ۔ اِن واقعات میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) لاہور جلانے اور جی ایچ کیو میں توڑ پھوڑ کے علاوہ میانوالی، مردان اور کراچی سمیت دیگر کئی شہروں میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، پشاور ریڈیو سٹیشن کو بھی جلا دیا گیا جس میں بہت سانادر سامان موجود تھا۔ یہ سٹیشن بین الاقوامی تاریخ اور شہرت رکھتا تھا، اِس سٹیشن میں پہلا ریڈیو ٹرانسمیٹر دوسری عالمی جنگ سے پہلے ریڈیو کے موجد مارکونی نے بذاتِ خود نصب کروایا تھا۔
اس سانحہ کےبعد مسلح افواج نے اپنی روائت کو قائم رکھتے ہوئے احتساب کا ڈنڈا اٹھایا اور ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین افسروں کو نوکری سے برطرف کر دیا ، تین میجر جنرلوں اور سات بریگیڈیئروں سمیت 15 افسروں کے خلاف کارروائی کی گئی ، ایک ریٹائرڈ فور سٹار افسر کی نواسی، ایک ریٹائرڈ فور سٹار افسر کا داماد، ایک ریٹائرڈ تھری اور ایک فور سٹار جنرل کی بیگم کوناقابل ِ تردید شواہد کی بنیاد پر احتسابی عمل سے گزارا گیا ۔ دوسری جانب سول حکام نے اپنی روایئتی عاقبت نا اندیشی کا ثبوت دیا ،جن سول اداروں پر بلوائیوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری تھی ، وہاں پہلے سے ٹھونسے گئے ، کلٹ کے کارندوں کے سبب معاملہ نہ صرف ابھی تک لٹکا ہوا ہے بلکہ اس دلخراش سانحہ کو کامل ایک سال مکمل ہونے کے باوجود شہداء کے لواحقین آج بھی دکھی ہیں ، ان کی آنکھیں نم ہیں ،شہداء کے ساتھیوں غازیوں کے سینے شدت غم سے چھلنی ہیں ، انہیں ملکی قوانین کے تحت اپنے بندھے ہاتھوں کا شدت سے احساس ہو رہا ہے ، وہ امید بھری نگاہوں کے ساتھ پاکستان کی عدلیہ ، مقننہ اور منتظمہ کی جانب دیکھ رہے ہیں ، ان کی آنکھیں سوال کر رہی ہیں کہ ملک کی بقا ء ، امن اور استحکام کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے ، اپنے بچے یتیم کرنے ، اپنے والدین کو بے یار ومدد گار چھوڑدینے والوں کو قوم نے کیا صلہ دیا ؟ قوم ، قوم کے ادارے اس قدر بے بس کیوں ہیں ؟شہداءکی یادگاروں ، مقابر کی توہین کرنے والے آج اعلیٰ مناصب پر فائز کیوں ہیں؟ ، ملک کا ہر ادراہ اس تخریبی گروہ کے ہاتھوں یرغمال کیوں ہے؟ان کی سزا میں ملک کے محترم ادارے حائل کیوں ہیں ؟ حیرت یہ کہ معافی ؟ معافی مانگنے کی آپشن کیوں دی جا رہی ہے ؟ کس بات کی معافی ؟ ریاست کے دفاع پر حملہ ہوا۔۔ صرف معافی؟ ،قوم کے وقار کو روندا گیا ۔۔ صرف معافی ؟، شہداء کے مقابر کی توہین ہوئی ۔۔ صرف معافی ؟ اگر صرف معافی مانگنے سے ان کا جرم ختم ہوسکتا ہے تو جیلوں میں بند لاکھوں مجرموں کا کیا قصور ، انہیں بھی معافی کا آپشن دے دینا چاہئے ، کلبھوشن کا کیا قصور ، اس کے لئے معافی کیوں نہیں؟دفاع وطن پر حملوں کی سزا معافی ہے تو پھر کسی اور جرم میں سزا کا بھی کوئی استحقاق نہیں ہے ۔
اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف

یہ بھی پڑھیں