میڈیا کے بکائو کرداروں کی زبانیں کف اڑانے لگیں ، سوشل میڈیا کے نقارخانے میں وطن عزیز کے خلاف گالیوں ، سازشوں اور بہتان طرازیوں کی طومار بندھ جائے تو ارد گرد ضرور دیکھنا چاہئے کہ یہ سب کس بات کو چھپانے کی کوشش ہے اور یہ زرخرید بوزنے کس کو پہنچنے والی تکلیف سے بلبلا رہے ہیں ، لمحہ موجود میں بعض مخصوص کرداروں کا اچانک اچھل اچھل کر مغلظات بکنا بھی بے سبب نہیں، بلکہ بھارتی راتب پر پلنےاور یورپی ممالک سے آپریٹ ہونے والے نام نہاد قوم پرست مگر کشمیر دشمن عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر میں سیدھے سے عوامی مطالبات پر مشتمل احتجاج کوہائی جیک کرنے اور خونیں سانحہ میں بدلنے کی سازش بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھی ، جسے آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت نے بروقت مطالبات کی منظوری کا تھپڑ رسید کرکے ناکام بنا دیاہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ اس پوری مہم کے پس پردہ مودی کی ہندوتوا کی رسوائیاں چھپانے کی کوشش تھی۔مودی کی ہندوتوا اپنے ہی دوستوں بلکہ سرپرستوں کو ڈستے ہوئے پکڑی جا چکی ہے ۔ خبر یہ ہے کہ امریکہ نے تین بھارتی کمپنیوں پر غیر قانونی طریقے سے ڈرون ایکسپورٹ کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پابندیوں کا سامنا کرنے والی ان بھارتی کمپنیوں میں زین شپنگ، پورٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور سی آرٹ شپ مینجمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں ۔ ان میں پورٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ بنیادی طور پر یہ بھارتی را کی فرنٹ آرگنائزیشن ہے ، جو چاہ بہار کی تعمیر میں شامل رہی ہے ، اشرف غنی دور میں امریکیوں کی کامل سرپرستی میں یہ کمپنی افغا4نستان میں بھی کام کرتی رہی ہے،بلوچ اور ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے لئے فنڈز اسی کمپنی کی آڑ میں فراہم کئے جاتے رہے ہیں، جبکہ را کے افسران بھی اسی کمپنی کے کور میں پاکستانی سرحدوں کے قریب رہ کر دہشت گردوں کی معاونت کرتے رہے ہیں ۔اس وقت پاکستان شکایت کرتا تھا تو امریکی سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ، اب بھارت نے اسی کے ذریعہ سے امریکیوں کو ڈسا ہے توانہیں یقینا سمجھ آگئی ہوگی۔ الزام یہ ہے کہ یہ تینوں بھارتی کمپنیاں روس اور یوکرین کی جنگ میں غیرقانونی طریقے سےڈرون سمگل کرنے اور عالمی امن کے مفادات کے خلاف کام کرنے میں ملوث پائی گئی ہیں ۔ یہ شائد دنیا کی انوکھی کمپنیاں ہوں گی کہ ایک جانب امریکہ نےپابندیاں لگائی ہیں تو دوسری جانب ایران نے بھی انہی تینوں کو پابندیوں کا تھپڑ رسید کیا ہے۔ ثابت ہوا کہ بھارت اپنے تمام اتحادیوں کے لیے انتہائی ناقابل اعتبار ثابت ہو رہا ہے۔ حال ہی میں زمبابوے، قطر اور آسٹریلیا میں بھی بھارتی خفیہ ایجنٹ ان ممالک کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہوئے پکڑے جا چکے ہیں ، کینیڈا میں تو پورا دہشت گردی کا نیٹ ورک گرفتار ہو چکا ہے ، زیادہ دور نہیں رہ گیا کہ امریکہ میں بھی گورپتونت سنگھ کے قتل کی سازش کرنے پر بھارتی را کے افسروں کو ہتھکڑیاں پہنائی جائیں گی۔ اس میں شبہ نہیں کہ بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں کے دنیا بھر میں پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کے فوری سدباب کی ضرورت ہے ، لیکن یہ کام اب شائد بھارت کے اپنے سرپرستوں کو ہی کرنا پڑے گا ۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ’’صحارا تھنڈر‘‘ ایک اہم فرنٹ کمپنی ہے جوخطہ میں ہر طرح کی غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ’’صحارا تھنڈر‘‘ کی مدد کرنے والی تین ہندوستانی کمپنیوں میں زین شپنگ،پورٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور سی آرٹ شپ مینجمنٹ(OPC) پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔’’صحارا تھنڈر‘‘ مسلح افواج لاجسٹکس (MODAFL) کا کئی ممالک کو غیرقانونی ہتھیاروں کی فروخت اور سپلائی کا ایک وسیع شپنگ نیٹ ورک ہے۔ ’’صحارا تھنڈر‘‘ نے 2022 سے اشیا کی متعدد کھیپوں کے لیے CHEM نامی ٹریڈنگ کمپنی کو بھی استعمال کیا ہے۔ امریکی انڈرسیکرٹری برائے خزانہ برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس، برائن ای نیلسن نے دہشت گردوں کے اس نیٹ ورک کے بارے میں کہا ہے کہ امریکہ اپنے برطانوی اور کینیڈین شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ عدم استحکام کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کرنے والوں سے نمٹنے کے لیےدستیاب تمام ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔ ’’صحارا تھنڈر‘‘ کا ایران سے بھی تعلق بتایا گیا ہے ۔
بھارت عالمی امن کی صورتحال خراب کرنے کے لیے دہشت گردی میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ، جس کے شواہد اور رپورٹس مختلف اوقات میں منظرعام پر آتے رہتے ہیں ،جب کہ بھارت اسرائیل کےہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی میں بھی براہ راست شامل ہے۔ جنوری 2024 ء میں بھارتی دفاعی کمپنی میونیشنز انڈیا لمیٹڈ کی جانب سے اسرائیل کو گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد فراہم کیا گیا ۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ دی وائر کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کے تحت ایک پبلک سیکٹر انٹرپرائزمیونیشنز انڈیا لمیٹڈ کو جنوری2024 میں اپنی مصنوعات اسرائیل بھیجنے کی اجازت دی گئی۔اڈانی ڈیفنس اور اسرائیل کے ایلبٹ سسٹمز کے درمیان مشترکہ منصوبے میں واقع اڈانی ایلبٹ ایڈوانسڈ سسٹمز انڈیا لمیٹڈ نے 2019 سے 2023 کے درمیان اسرائیل کو بھارتی ایرو اسٹرکچرز اور سب سسٹمز کی شکل میں20 Hermes اور 900 سے زائد ڈرونز اورگولہ بارودفراہم کیا ۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کے تحت ایک نجی بھارتی کمپنی پریمئیر ایکسپلوسیوز لمیٹڈ کو گزشتہ سال غزہ پر اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے دو بار ہ جنگی ہتھیاروں کو برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ۔دی وائر کی رپورٹ کے مطابق 18 اپریل 2024 ء کو میونیشنز انڈیا لمیٹڈ نے اسرائیل سے دوسرے مرحلے میں گولہ بارود اور دیگر ہتھیار برآمد کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔ بھارتی کمپنی میونیشنز انڈیا لمیٹڈ کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی دوسری برآمد کی منظوری بھی زیر غور ہے۔مودی سرکار نے اسرائیل کے ساتھ بہت سے تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بھارت اور اسرائیل نے گزشتہ برسوں کے دوران اسرائیل سے 9.2 ارب ڈالر مالیت کے ملٹری ہارڈ ویئرکا کاروبار کیا ہے، جس میں ریڈار، نگرانی اور جنگی ڈرونز اور میزائل شامل تھے۔ رواں سال بھی اڈانی گروپ کے ڈرون بھارت سے اسرائیل بھیجے گئے تھے جو غزہ میں نہتے مسلمانوں پر استعمال کیےگئے ۔مودی سرکارکی جانب سے اسرائیل کو فلسطین کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی اور نسل کشی کے فروغ کا حامی ہے۔