Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پاکستان کا مقدمہ کون سنے گا ؟

جج صاحب نے فرمایا ’’لاپتہ کرنے والوں کے لئے سزائے موت کا قانون بنایا جانا چاہیے‘‘ درست فرمایا، اختلا ف کی گنجائش ہی نہیں۔ صرف اس لئے نہیں کہ جج کی رائے سے اختلاف توہین عدالت اور قابل گردن زدنی ہے بلکہ اس لئے کہ بات میں وزن ہے۔ جو کوئی کسی جیتے جاگتےآزاد انسان کو غائب کر دے،لاپتہ کر دے،اٹھا کر لے جائے،ایک پورے خاندان کو اذیت کا شکار بنا دے،بوڑھے والدین کے کلیجے کو ہاتھ ڈالے، معصوم بچوں کے اذہان و قلوب کو خوف سے بھردے، اسے یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ مزید ایسی وارداتیں کرتا پھرے، قانون سازی ہونی چاہئے ، قانون سازی کی بھی کیا ضرورت ہے، سیدھا سزا دی جائے ۔ سوال لیکن یہ ہے کہ جو پورے ملک کی سلامتی دائو پر لگادے،جو ملک دشمن ایجنسیوں کی گود میں کھیلتے ہوئے جھوٹ اور فریب سے معاشرے میں آگ لگا دے،فساد پھیلاتے ہوئے کئی لوگوں کی جان لینے کا سبب بن جائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ وہ لوگ جو مسلسل ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں،جو دشمن کے آلہ کار بننے،اس کے پروپیگنڈے کی زبان بننے سے بھی گریز کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان کا علاج کیا ہے؟ کون کرے گا؟
اسی اسلام آباد میں کچھ ماہ قبل، انہی عدالتوں کی اجازت بلکہ شہہ سے ایک تماشہ لگا ،جو کئی روز تک چلتا رہا۔ ملکی سلامتی کے دشمن د ہشت گرد ٹولے کی نمائندہ،ثابت شدہ دہشت گرد کی بیٹی، ایک دوسرے دہشت گرد کی بیٹی کے ہمراہ بیٹھ کر ریاست پاکستان کو گالیاں دیتی رہی۔ دہشت گردوں کی ترجمانی کرتی رہی،بعض لوگوں کے لاپتہ ہونے پر ریاست اور ریاست کے اداروں کو مورد الزام ٹھہراتی رہی ،اس کا صرف سائونڈ سسٹم بند کرنے پر بھی معزز،محترم عدالت نے نوٹس لیا، ریاست کے اداروں سے جواب طلبی کی۔ بعد میں ثابت ہوا کہ جن لوگوں کو یہ’’ دہشت گرد زادی‘‘ معصوم شہری کہتی رہی وہ انسان نہیں ، انسان کے روپ میںخونخوار درندے تھے ، جنہیں لاپتہ قرار دیا گیا تھا وہ منظر سے غائب تو تھے لیکن انہیں ریاستی اداروں نے لاپتہ نہیں کیا تھا،اپنی مرضی سے دہشت گردوں کے کیمپوں میں موجو د تھے، بعد میں دہشت گردی کرتے ،خون بہاتے، لاشیں گراتےمارے گئے ، ان کی لاشیں انہی کرداروں نے وصول کیں جو عدالتوں کی اجازت سے اسلام آباد میں دہائیاں دیتے رہے تھے۔سوال یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کسی نےایکشن لیا ؟ ان کے حق میں فیصلے کرنے، انہیں ہیرو بنانے اور ان کے معاملے میں ریاستی اداروں کا مذاق اڑانے والوں سے کسی نے پوچھا ؟ان کے بارے میں کیا قانون سازی ہونی چاہیے، ہونی بھی چاہئے یا نہیں ؟
عدلیہ کا احترام واجب ۔ یہ کوئی رسمی جملہ نہیں ، اصول ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا علی کرم اللہ وجہہ جیسے جلیل القدر انسانوں نے اپنے اپنے عہد میں عدالتوں کے سامنے سر جھکا کر ،ملزم کے برابر بیٹھ کر اور اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو تسلیم کرکے بتادیا ہے کہ عدلیہ کے احترام ہوتا کیا ہے ۔ مغربی دنیا کی روایات کو بھی عدلیہ کو مقدس ماننے میں کوئی اختلاف نہیں ۔ چرچل سے منصوب ایک مشہور زمانہ قول بار بار دہرایا جاتا ہے کہ ’’اگر عدالتوں میں انصاف مل رہا ہے تو ریاست کو کوئی خطرہ نہیں‘‘ ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا جاسکتا کہ کسی جج کی توہین تو رہی ایک طرف رائے سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے ،لیکن ایک سوال مزید کہ چرچل کے قول کے تناظر میں کیا ہماری ریاست محفوظ ہے؟ اس کا جواب جسٹس منصور علی شاہ کی لاہور میں کچھ دن قبل کی تقریرمیں موجود ہے، ہم کچھ عرض کریں گے تو شکائت ہوگی ۔
بصد احترام، بصد ادب یہ افتادگان خاک جاننا چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے ، ملک کے خلاف بولنے، ریاست کا تمسخر اڑانے ، جھوٹ بول کر، افواہیں پھیلاکر افراتفری پیدا کرنے والوں سے لے کر دہشت گردی کے کیمپوں میں بیٹھ کر خود کو لاپتہ قرار دینے والوں تک سب ہی ’’محترم‘‘ ہیں، انہیں تمام انسانی حقوق حاصل ہیں ، انہیں ہر طرح سے قانونی معاونت دستیاب ہے،جو پکڑا جائے،آزادی اظہار کا ہیرو قرار پاتا ہے ، اوقات چاہے دو ٹکے کی نہ ہو ، ان کی فوراً شنوائی ہوتی ہے، وزیراعظم سے لے کر پولیس اورریاست کے دیگر اداروں تک کو مجرم قراردے دیا جاتا ہے، یہ سب درست ، کوئی اعتراض ،کوئی سوال ممکن ہی نہیں ، البتہ ان ’’محترم و معزز ‘‘لوگوں کے ہاتھوں مارے جانے والے لوگوں کے بارے میں بھی تو کوئی قانون سازی ہونی چاہئے یا نہیں؟ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور، دربدر ہونے والےشہداء کے ورثاء، بوڑھے والدین، غیر محفوظ اور عمر بھر کے لئے محتاج ہو جانے والے بچوں کے لئے بھی کوئی قانون ہے یا نہیں؟ ان کے مجرموں سے کم از کم باز پرس کا ہی کوئی نظام؟
چھوڑیں ان خاک نشینوں کو ، رزق خاک ہونا ان کا مقدر تھا، رزق خاک ہوئے۔۔۔ لیکن یہ ریاست؟ یہ ملک؟ یہ معاشرہ؟ جس کےدم سے ادارے قائم ہیں،عدالتیں وجود رکھتی ہیں، اس کی سلامتی پر حملہ آور ہونے والوں ،دشمن کادست وبازو بننے والوں کے لئے بھی کوئی قانون ، کوئی سزا، یا کم ازکم کوئی باز پرس؟۔۔۔ ہے یا نہیں؟ اس لاوارث ملک کے لئے بھی کوئی قانون ہے یا نہیں،اس کا مقدمہ کون سنے گا؟ اسے انصاف کون دے گا؟

یہ بھی پڑھیں