Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

بنیادی حقوق اور مادر پدر آزادی میں فرق

راہ چلتے کوئی بد زبان اگر اپ کو گالی دے تو ممکنہ رد عمل کیا ہو سکتا ہے؟ ایک حل تو یہ ہے کہ جواب میں آپ بھی گالی دیں تاہم مہذب اور شریف انسان دشنام طرازی سے گریز کرے گا۔ دوسرا حل یہ ہے کہ قانونی کارروائی کی جائے البتہ یہ کوئی آسان کام نہیں اس طرز کی کارروائی کے لیے مطلوبہ وقت، مالی وسائل اور متعلقہ قوانین سے آگاہی ہر شخص کو دستیاب نہیں ہوتی۔گالم گلوچ کرنے والے شخص کو تھانے یا متعلقہ حکومتی ادارے تک لے جانا بھی ممکن نہیں ۔ایک حل آپ کے پاس یہ بھی ہے کہ اپ گالی بکنے والے شخص کو بھرے بازار میں اس کی غلط حرکت پہ ٹوکیں اور سماجی دبائو بڑھائیں۔ تاہم اس وقت آپ کیسا محسوس کریں گے جب مد مقابل گالی بکنے کو اپنا بنیادی انسانی حقوق قرار دے کر دشنام طرازی کا جواز پیش کرے؟ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آزادی اظہار رائے کی بھی کچھ حدود و قیود ہیں یا نہیں؟
کیا گالی دینے جیسے قابل مذمت فعل کو اظہار رائے کی ازادی کا لبادہ پہنا کر اخلاقی یا قانونی جواز گھڑا جا سکتاہے؟ کوئی بھی صاحب عقل و فہم شخص اس بے بنیاد جواز کی حمایت نہیں کر سکتا۔ ایک فرد واحد یا کسی طبقے کے بنیادی انسانی حقوق کا دائرہ وہاں تک محدود ہے جہاں سے دیگر افراد اور طبقات کے حقوق کی حد شروع ہوتی ہے۔ اظہار رائے کی ازادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی خاص فرد یا طبقے کو دشنام طرازی کا لامحدود حق دے دیا جائے۔ گو آزادی نقل و حرکت کے بنیادی انسانی حق کی ضمانت آئین دیتا ہے لیکن اس حق کی بنیاد پہ کیا کوئی شخص کسی کی بھی رہائش گاہ، دفتر یا نجی عمارت میں بلا اجازت داخل ہو سکتا ہے؟ یقینا آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق کا استعمال مروجہ ملکی قوانین کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔
ایک مخصوص طبقہ بنیادی حقوق کی آڑ میں مادر پدر آزادی کا طلبگار ہے۔ آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق کو بلا روک ٹوک استعمال کر کے معاشرے میں وسیع تر ابتری پھیلانا چاہتا ہے۔ پریس یا ذرائع ابلاغ کی ازادی کا مطلب یہ ہے کہ ریاست جائز تنقید سمیت سیاسی سماجی معاملات اور متفرق افکار و نظریات کی ترویج پہ کوئی قدغن نہیں لگائے گی۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ میڈیا سے وابستہ افراد کو ملکی قوانین سے ماورا ازادی فراہم کی جائے۔ سوشل میڈیا کے برق رفتار نفوز سے سماج کے رویوں اور انداز فکر میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اخبارات اورنیوزچینلز کےمقابلے میں سوشل میڈیاپلیٹ فارمزپرخبریں بجلی کی رفتار سے پھیلتی ہیں۔ جو حضرات یوٹیوب چینل یا وی لاگ جیسے مشاغل سے وابستہ ہیں ان کی اصلاح کے لیے ایڈیٹر کی پیشہ ورانہ رہنمائی بھی میسر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راتوں رات شہرت کی سیڑھیاں پھلانگنے کے خواہش مند چلبلے اور غیرسنجیدہ خواتین و حضرات پیشہ ورانہ اصولوں اور اخلاقی روایات کو مسلسل پامال کر رہے ہیں ۔
اس طویل تمہید کو اس بحث کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جس کا موضوع وہ قانونی ترمیم ہے جس کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام امن میں لایا جا رہا ہے۔ جو صحافتی طبقات اس اقدام کی مخالفت میں پیش پیش ہیں ان کے دلائل آزادی اظہار رائے کےبنیادی حق پہ استوار ہیں۔ بدقسمتی سے آزادی اظہار رائے کےحق پہ توجہ مرکوز کرتے ہوئے بیشتر صحافتی تنظیمیں اس فساد اور خلفشار پہ توجہ نہیں دے رہے جو کہ ڈھیلے ڈھیلے قوانین کی بدولت معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے شر پسند عناصر سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ جرائم پیشہ طبقات قانونی موشگافیوں کا بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے معصوم شہریوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ بیشتر شہری سائبر کرائم کا شکار بن کے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی لٹا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کی پرائیویسی یا حق رازداری پامال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا ذاتی ڈیٹا ناجائز طریقوں سے ہتھیا کر انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ بیشتر سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مخصوص سیاسی جماعتوں کے بدتمیز حامیوں کی گالم گلوچ کا ہدف بن چکے ہیں۔ خواتین صحافیوں کو بھی کئی مرتبہ سوشل میڈیائی کارندوں کی جانب سے ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ تو وہ جرائم ہیں جن میں فرد واحد کےحقوق پامال کئے گئے ۔ دوسری جانب موثر قوانین کی عدم موجودگی اور مروجہ قوانین کے غیر موثر ہونے کی وجہ سے ریاست دشمن عناصر کی سرگرمیاں بھی سوشل میڈیا پر خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں اپنے سیاہ نظریات کی ترویج کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں ۔ علیحدگی پسند عناصر نا پختہ نوجوان ذہنوں کو زہریلے نسل پرستانہ نظریات کے ذریعے دہشت گردی کی جانب مائل کر رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں بلا روک ٹوک گمراہ کن تشریحات کی ترویج کر کے معاشرے میں شدت پسندانہ رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں۔ بیشتر گرفتار شدہ دہشت گردوں نے یہ چشم کشا انکشافات کئے کہ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کالعدم تنظیموں تک رسائی حاصل ہوئی۔ سوشل میڈیا پہ خودروجنگلی گھاس کی طرح نمودار ہونےوالےخود ساختہ جعلی تجزیہ کاروں نے افواہ سازی کی صنعت قائم کر دی ہے۔ جعلی خبروں اور افواہوں کی یہ فیکٹریاں چوبیس گھنٹے مصروف کار ہیں۔ کردار کشی،ریاست دشمن مواد کی ترویج،دشنام طرازی ، ریاستی اداروں کے درمیان بد اعتمادی ، افواج پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر اور فرقہ ورانہ کشیدگی جیسے زہریلے عنوانات پہ جعلی خبروں کی صنعت پھل پھول رہی ہے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ شتر بےمہار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو قانون کی لگام ڈالی جائے۔ صحافتی تنظیمیں مذمت کے بجائے اپنی مثبت تجاویز حکومت کے گوش گزار کریں۔ مہذب معاشرے قانون کے نفاذ سے مستحکم رہتے ہیں۔ قانون کی غیر موجودگی اور عدم نفاذ سے انارکی اور عدم استحکام جنم لیتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پہ متحرک جرائم پیشہ عناصر کی سر کوبی کے لئے موثر قانون سازی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں