Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بکائو ایمان اور گروی غیرت

لاپتہ غیرت والوں کی لیڈر مہہ رنگ کی تپسیا بھی قبول ہوگئی،اطلاع ہے کہ بھارتی ہینڈلرز نے موصوفہ کو پیشکش کردی ہے کہ وہ چاہے تو کریمہ بلوچ کی طرح کسی بھی مغربی ملک میں سیٹل کروایا جا سکتا ہے ،شنید ہے کہ مہرنگ بھی رنگ بدلنے کو تیار ہے ، لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ کریمہ جب ان کے کسی کام کی نہیں رہی تو ٹورنٹو میں پار لگاکر الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی،اب تو پوری دنیا جان گئی ہے کہ کینیڈا میں کس ملک کی، کس ایجنسی کے دہشت گرد وارداتیں کر رہے ہیں ۔ بھارت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ انسانی درندے صرف اس وقت تک پالتا ہے جب تک اس کے کام آتے ہیں ، البتہ میر جعفر وصادق کی اولاد کا ماما قدیر وہ واحد کردار ہے ، جسے بڑھاپے میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔ بھارت بلوچستان میں کیا کھیل رچا رہا ہے ؟ اور یہ سب وہ کس طرح سے کرتا ہے ؟ اس داستان کی تصدیق خود بھارت کے لئے کام کرنے والے ان کرداروں نے کر رکھی ہے ، جن کی کوئی نیکی کام آگئی ، ضمیر وقت پر جاگ گئے اور انسانیت کے قتل ، اپنوں کی دشمنی اور مادر وطن پر بارود کا کھیل کھیلنے سے باز آگئے ۔ یہ کوئی کم تعداد میں لوگ نہیں ہیں ، 2015سے اب تک قریباً ساڑھے تین سے چار ہزار افراد ہیں ، جنہوں نے بکائو ایمان اور گروی شدہ غیرتوں کا تماشہ دیکھا اور ریاست پاکستان کی قومی مفاہمت کی پالیسی سے فائدہ اٹھاکر اپنے گھروں کو لوٹ آئے ، خوف اور موت کی زندگی ترک کرکے ، ہتھیار ڈالے اور قومی دھارے میں شامل ہوگئے ۔یہ سب پیادے نہیں بلکہ گلزار امام شنبےاور سرفراز بینگلزئی جیسے دہشت گرد تنظیموں کے سربراہ بھی ان میں شامل ہیں ، جنہیں پاکستانی اداروں نے شاندار آپریشن کے ذریعہ بیرون ملک سفر کے دوران گرفتارکرکے نہ صرف اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا عالمی سطح پر لوہا منوایا بلکہ ان بڑے ناموں کو سامنے بٹھا کر نفع نقصان اور سچ سے روشناس بھی کروایا تاکہ ان کے ذریعہ سے بلوچ نوجوان کو دہشت گردی کے جہنم میں دھکیلنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ ورنہ جان جوکھوں میں ڈال کر جسے بیرون ملک سے گرفتار کرکے لایاجا سکتا ہے ، اسے انجام تک پہنچانا کوئی مشکل کام تو نہیں تھا ۔
بلوچستان کےحوالہ سے ریاست کا عمومی رویہ ہمیشہ ہی مکمل صفایا کے بجائے دل جیتنے اوربھٹکے ہوئے لوگوں کو بات چیت سےقومی دھارے میں واپس لانےکارہا ہے ۔ اب کی بات نہیں، ماضی میں بھی یہی پالیسی تھی ،یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جہاں ریاست پاکستان نے ہمیشہ عفو و درگزر کا راستہ اپنایاوہیں بچھو صفت لوگوں نےبھی ڈسنےاورموقع ملتے ہی دہشت گردی دوبارہ شروع کرنےمیں دیرنہیں لگائی ۔ 70کی دہائی میں جب بھارت اور سوویت یونین کی مشترکہ ٹیررفائنانس کےنتیجے میں بی ایل اے بناکر دہشت گردی کا بازار گرم کیاگیا، ریاست کی جوابی کارروائی میں خدابخش مری اور عطااللہ مینگل جیسے بڑے دہشت گرد فرار ہو کر افغانستان چلے گئے، جہاں سوویت حمائت یافتہ رجیم انہیں گود لینے اور پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کو تیار بیٹھا تھا۔جب مجاہدین کی کامیابی سے اسی سوویت رجیم کے اپنے پیرجلنے لگےاوربزعم خود بڑے انقلابی خدابخش مری وغیرہ نے معافی کے لئےترلے لینا شروع کردئے ، تو اس وقت بھی صدر پاکستان ضیاءالحق نے ان کا صفایا کرنے کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور آئندہ دہشت گردی نہ کرنے کے وعدے پر معاف کرکےواپس لایا گیا ۔ آج پاکستان کے ٹی وی چینلز پر بے پر کی چڑیاں طوطے اڑانے والا ایک نام نہاد بڑا نام بھی بھاڑے کےٹٹوکی حیثیت میں میرچاکر خان کے جعلی نام سے بھارتی سرحد پر پکڑا گیا تھا ، بعد میں ضیاالحق حکومت سے دست بستہ معافی مانگ کر رہا ہوا۔خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا جو درمیان میں آن ٹپکا ۔ حقیقت یہ ہےکہ ریاست پاکستان نے بلوچستان میں ہمیشہ مفاہمت کو موقع دیا ،یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی اور بدامنی کے دور میں ہمیشہ ان دہشت گردوں کو پاکستان دشمن غیر بلوچ خصوصاً پنجابیوں کی حمائت بلکہ مدد بھی حاصل رہی ہے ، ماضی کے چاکر خان سے لے کر دور حاضر کے میر جعفروں تک ایسوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔ یہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجابیوں سے نفرت اور پنجاب کے خلاف پروپیگنڈہ بھی صرف عام بلوچ کو گمراہ کرنے کی خاطر ہے تاکہ وہ بلوچوں کے حقوق نگلتے، بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کو شیر مادر کی طرح پیتے نام نہاد بلوچ سرداروں کو پہچان نہ لے، ان کی چوریاں نہ پکڑلے ، ورنہ اپنا عالم یہ ہے ایک دہشت گرد جماعت کے سربراہ کی بھتیجی اور علیحدگی کا چورن بیچنے والے سیاستدان کی اپنی بیٹی ایک پنجابی خاندان کی قابل احترام بہو ہےاور پنجاب میں رہتی ہے۔ یہ تمام بڑے نام جو صبح شام ریاست پاکستان اورپنجاب کو گالی دےکر نفرتیں کاشت کرتے ہیں ، ان میں کوئی ایک بھی نہیں ، جس کی لاہور میں جائیداد نہ ہو یا وہ سال کا زیادہ حصہ پنجاب میں نہ رہتا ہو ۔
بلوچستان میں دہشت گردوں کےحوالہ سےحالیہ مفاہمت کی پالیسی 2015 میں صوبائی حکومت نے’’ پر امن بلوچستان قومی مفاہمتی پالیسی‘‘ کے نام سے منظورکی تھی جس میں صوبے میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کے ارکان کے لیے عام معافی اور بعض صورتوں میں معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ریاستی اداروں کی موجودہ قیادت اس پالیسی کو نافذ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ اس پالیسی کے تحت بلوچستان کے عام شہریوں میں دہشت گردوں کےخلاف شعور بڑھ رہا ہے، ان کا خوف ختم ہو رہا ہے ، وہ لاپتہ غیرت کے حامل لوگوں کی لاپتہ افراد مہم کو بھی سمجھنے لگے ہیں،بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے پاکستانیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقاصد کو بھی جان چکے ہیں ، چند روز قبل خضدار اور دیگر کئی شہروں میں مقامی بلوچ شہریوں کا دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کے لئے نکلنا ایک مثبت تبدیلی ہے جو بتاتی ہے کہ گلزار امام اور سرفراز جیسے دہشت گردوں کو گولی سے مارنے کے بجائے دلیل سے زیر کرنا زیادہ سود مند ثابت ہوا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں