یوم تکبیر پاکستان کے قومی اتحاد کی علامت ہےاور اس امر کی شہادت بھی کہ ہم شاندار روایات اور قومی مفادات کو ذاتیات پر ترجیح دینے والی ایک غیور قوم ہیں ، شخصیت پرست کلٹ کی پیدائش سے قبل سوچابھی نہیں جا سکتا تھا کہ گھٹیا سیاسی مفادات کی خاطر کوئی اس قدر ذلت کی کالک اپنے چہرے پر ملنا پسند کرے گا کہ ملک اور ملک کے مفادات کے خلاف کھڑا ہوجائے ۔ ایٹمی پروگرام کی نیو ذوالفقار علی بھٹو نے اٹھائی ، بھٹو کا تختہ الٹنے اور پھانسی پر چڑھانے والے ضیاء الحق نے بھٹو کے اس شگوفہ خیال کی پرورش یوں کی بھٹو کی مقرر کردہ ٹیم تک کو نہیں چھیڑا، بلکہ اختیارات اور فنڈنگ میں اضافہ کیا ، بھٹو نے بھی جان دیدی لیکن پاکستان کے اس راز پر زبان نہیں کھولی، ضیا ءالحق کے بعد اس کی دشمن جان بے نظیر آئی ، اس کے بعد اس کےدشمن نوازشریف نے اقتدار سنبھالا ، اقتدار میں آنے والوں نے جانے والوں کی غلطیاں نکالیں نہ ہی ان کے ایٹمی منصوبوں کو چھیڑا ، جانے والوں نے بھی تمام تر سیاسی انتقام جھیلا مگر ملکی مفاد کے خلاف ایک لفظ تک ان کی زبان پرنہیں آیا ۔ غلام اسحاق خان روز اول سے دم آخریں ایٹمی پروگرام سے منسلک رہے ، جب انہیں صدارت سے توہین آمیز طریقے سے اتارا گیا ، تو آج شر پسند کلٹ کے اتالیق کی شہرت رکھنےو الے ایک صحافی نے شرارت کی کوشش کی ، غلام اسحاق سے ایٹمی حوالہ سے کچھ اگلوانے کو اس کے ہاں جاپہنچا ، تسلیم کرتا ہے کہ اس کے اصرار اور اشتعال دلانے پر بھی اس بوڑھے ٹیکنوکریٹ نے صرف ایک جملہ کہا ’’پہلے اس پروگرام کی نگہداشت میری ذمہ داری تھی ، اب کچھ اور لوگ اس کے ذمہ دار ہیں ۔ ‘‘ سرشرم سے جھک جاتا ہے کہ ایسی شاندار روایات اور جاندار اقدار کی حامل قوم کی جڑوں میں یہ کیسا زہر سرایت کرگیا ہے کہ ایک سیاسی آداب سے نا آشنا ، ملکی مفاد ات کے احساس سے تہی دامن شخصیت پرست گروہ صرف اس لئے سب تہس نہس کرنے پر تلا ہے کہ اسے ملک کو تباہ وبرباد کرنے کی کھلی چھٹی کیوں نہیں دی جاتی ، سچ یہ ہے کہ عام پاکستانی ، سیاسی کارکنوں کی اکثریت آج بھی وطن پرست ہے، سیاسی اخلاقیات پر یقین رکھتی ہے اور رواداری کو ہی سیاسی قوت خیال کرتی ہے ۔
یوم تکبیر پر منتج ہونےوالی پاکستان کے جوہری منصوبے کی کامیابی، ایک ایسے حسین تسلسل کا قصہ ہے، جو محض اتفاق نہیں ہماری قابل فخر روائت کا آئنہ دار ہے۔سیاسی قیادت ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہی، لیکن اغیار کے گھیرے کے باوجود کسی ایک کارکن تک کی زبان نہیں پھسلی ، پوری قوم نے اس منصوبے کی حفاظت کی اور سیاسی قیادت نے اسے ایک قومی راز کے طور پر اپنے سینے میں سینت سینت کررکھا جب تک کے ایٹمی دھماکے نہ ہوگئے۔امریکہ ، بھارت اسرائیل ہی نہیں پوری دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دنیا کی سب سے مہنگی ، مشکل اور حساس ٹیکنالوجی حاصل کرنا اور پھر اسے استعمال کرکے ایٹمی ہتھیار بنا جانا یہ پاکستانی قوم کے ان سپوتوں کا کارنامہ ہے ، جن میں سے 99فیصد کے نام بھی کسی کو معلوم نہیں ، مگر وہی اصل ہیرو ہیں ۔ دنیا بھر کی نگران آنکھوں کے سامنے پابندیوں کے باوجود حساس ترین آلات خریدنا اور ان کو پاکستان منتقل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا ۔ اس مقصد کے لیے یورپ ، مشرق وسطیٰ، سنگاپور اورحد یہ کہ بھارت تک میں آئی ایس آئی کے خاص تربیت یافتہ ایجنٹوں کا ایک جال بچھایا گیا، جو حساس آلات مختلف ملکوں سے خریدتا اور انہیں پاکستان منتقل کرتا۔عالمی برادری میں سے جس ملک نے امریکی پابندیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کو اہم ترین ٹریشئم ٹیکنالوجی فراہم کی وہ جرمنی تھا، سفارتکار جمشید مارکر نے لکھا ہے کہ یورنیم افژودگی کا معیار پرکھنے والا آلہ سپکٹرو میٹر اور ٹریشئم ٹیکنالوجی سمیت بہت سارے حساس آلات فروخت کرنے والا ملک جرمنی تھا۔پاکستان کے نادیدہ سپوت انہیں مختلف راستوں سے پاکستان منتقل کرتے رہے،اس مقصدکی خاطرسنگاپور میں ایک فرم بھی بنا رکھی تھی، جس کی آڑ میں سامان خریداجاتا اورپاکستان بھجوایا جاتا ۔ پاکستان کے سپوتوں کا یہ قابل فخر کارنامہ ہے ہے ایک موقع پر بعض مخصوص اشیاء جن جہازوں پر پاکستان منتقل کی گئی وہ گھنٹوں بھارت میں ممبئی ایئر پورٹ پر کھڑے رہےاور وہیں سے فیول لے کر پاکستان اترے ، اس ناقابل یقین اور ناممکن العمل کارنامے کی تفصیلات دنیا کی کسی بھی انٹیلی جنس کو انگلیاں دانتوں میں داب لینے پر مجبور کردیتی ہیں ۔
13 مئی 1998 کوبھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان نے جواب ینے کا فیصلہ کیا تو معاشی حالات اس وقت بھی کوئی بہت اچھے نہ تھے ، لیکن امریکہ کی جانب سے اربوں ڈالر کی پیشکش اور تباہ کردینے کی دھمکیوں کو بھی حکومت نے جوتے کی نوک پر رکھااور 28مئی کو یکے بعد دیگرے 6ایٹمی دھماکے کرکے دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دی ۔ پاکستان نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ اس کے ہدف پر پھینکنے کے سلسلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔شاہین III میزائل بھارت کے ہر حصہ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہمارا بابر III میزائل 700 کلومیٹر تک آبدوز سے زمین اور سمندر میں تارپیڈو کے طور پر کام کرتے ہوئے جہاز یا آبدوز کو تباہ کر سکتا ہے۔ پاکستان نے اپنی بقا کے لئے جو تیاری شروع کی تھیں وہ آج بھی زور شور سے جاری ہے ۔ اس میں جہاں ہم اپنے ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف تک تمام سیاستدانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، وہاں غلام اسحاق کا ذکر نہ کرنا بددیانتی ہوگی ، اس کے علاوہ بہت سے ایسے سائنسدان اور انجینئرز، فورسز کے افسران سمیت وہ تمام خفیہ ہاتھ بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں، جن کا نام تک کسی کو نہیں معلوم، سلام ہے، ان گمنام ہیروزکی عظمت کو سلام ۔ آج اس مرحلہ پر یوم تکبیرمناتے ہوئےواحد پیغام یہ ہے کہ ہماری صفوں میں گھسے ملک دشمن عناصر اور شرپسندوں کو چن چن کر کیفرِ کردار تک پہنچایاجائے، جنہوں نے ملک میں افراتفری ، انتشار اور ملک کےشہیدوں کی بے حرمتی کی اور قوم کےاتحاد واتفاق کو پارہ پارہ کیا ۔