Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

مودی کی شکست اورہمارا کلٹ

(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت کے جنوب مشرقی صوبے جن میں ریڈ کوریڈور کی 9ریاستیں آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ ، تلنگانہ اور مغربی بنگال شامل ہیں ، ان میں سے صرف مہاراشٹر کو بی جے پی کے پاور بیس کی حیثیت حاصل تھی ، بقیہ 8ریاستوں میں اس کا پہلے ہی کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ وہاں دہلی سے آزادی کی تحاریک بہت مضبوط ہیں ۔ اس کے علاوہ شمال مشرق میں اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، منی پور، میزورام، ناگالینڈ اور تریپورہ کی سات ریاستیں جنہیں سیون سسٹرز کہا جاتا ہے ، یہ بھی دہلی سے آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں ، اور یہاں بھی بی جے پی کا پہلے سی ہی کوئی کردار نہیں ہے۔ جنوب مشرق اور شمال مشرق میں اگر کوئی اکا دکا سیٹ مودی کلٹ کی تھی بھی تو اب اس کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ہندی بیلٹ میں بھی ا س کے لئے حالات سازگار نہیں رہے ، جس کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کاخاموش اتحاد ہے ، یہ اتحاد اس لئے بھی موثر رہا کہ باقی بھارت کے مقابلے میں یہاں مسلمانوں کی شرح آبادی زیادہ ہے ، بعض شہروں میں تو یہ شرح 47فیصد تک ہے ، یہاں کے مسلمانوں نے طے کرلیا تھا کہ مودی کلٹ کو ووٹ نہیں دینا، چاہے امید وار کوئی مسلمان ضمیر فروش ہی کیوں نہ ہو ، اس اتحاد کا ذمہ دار بھی مودی خود ہے ، جس نے نا صرف یہ کہ یوگی اور امیت شا سے مل کر مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا تھا بلکہ اس الیکشن مہم میں بھی مسلمانوں کے لئے مسلسل ’’باہر والے ‘‘ کی پھبتی کستا رہا ہے ۔ بابری مسجد کو شہید کرنا ، رام مندر تعمیر کرنا ، دیگر تاریخی مساجد کو شہید کرنے کی تیاریاں ، مدارس کی بندش ، مسلمانوں کے ہجومی قتل کی مہم سے لے کر خواتین کے خلاف توہین آمیز اقدامات اور بدزبانی کا طوفان تھا ، جس نے مسلمانوں کو مجوبر کردیا کہ وہ کسی لیڈر کا انتظار نہ کریں ، اپنے طور پر ہی فیصلہ کریں ، اس خاموش نفرت نے کام کیا اور مودی کا اپنے یوگی سمیت دھڑن تختہ ہوگیا ۔ صرف یوپی ہی نہیں، اپنے دوسرے پاور بیس مہاراشٹر سے بھی جیتنے میں ناکام رہا ہےجو زیادہ خطرناک ہے ، کیونکہ وہاں علیحدگی کے اثرات تیزی سے بڑھیں گے ۔ بھارت کے ان انتخابات کا سب سے حیران کن نتیجہ یہ رہا کہ بھارت کے تین’’ باغی ‘‘ بھی الیکشن جیت چکے ہیں جن میں فرید کوٹ کی مشہور سیٹ سے اندرا گاندھی کے قاتل بینت سنگھ کا بیٹا سربجیت سنگھ اور کشمیر سے جہادی فنڈنگ کے الزام میں قید رشید خان شامل ہیں ۔
مودی کے یوں ہارجانے کے نتائج کیا ہونگے؟ یہ ایک اہم سوال ہے ، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے تو حکومت کا استحکام اہم مسئلہ رہے گا ۔ بی جے پی حکومت تو بنالے گی لیکن اتحادیوں سے مل کر ، اکثریت اتنی کم ہے کہ ایک آدھ ممبر گیا تو حکومت ختم۔ سب سے بڑا اثر یہ پڑے گا کہ بھارت کو ’’شدھ ہندو راشٹر‘‘ بنانے کے منصوبے کا کریا کرم ہوگیا ہے ۔ اس کے لئے دوتہائی اکثریت درکار تھی ، جو اب محال است وخیال است والا معاملہ لگتا ہے ۔ نوکریوں میں مسلمانوں کا کوٹہ ختم کرنے کا شیطانی منصوبہ بھی اپنی موت آپ مرگیا، مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کی آئین سازی بھی دم توڑ گئی ۔ دوسری جانب کشمیر ی جو غیر قانونی بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے عظیم جدوجہد کر رہے ہیں ، ان کا واحد مطالبہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی فراہمی ہے ، نام نہاد بھارتی انتخابات ان کے لئے گوکہ کوئی معنی نہیں رکھتے تاہم اس مرتبہ انہوں نے صرف اس وجہ سے بھارتی انتخابات میں دلچسپی ظاہر کی تاکہ ووٹ کے ذریعے پر امن طریقے سے بی جے پی کو مسترد کرسکیں اور انہوں نے یہ کرکے دکھا بھی دیا ۔ جہادی فنڈنگ کے الزام میں جیل میں قید انجینئر رشید کی شاندار فتح مودی اور اس کے کلٹ بھارتیہ جنتاپارٹی کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ کشمیرمیں اس کی کٹھ پتلیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔ انجینئر رشید حریت پسند ہیں ،غیر قانونی بھارتی قبضے کے ناقد رہے ہیں اور وہ استصواب رائے کا برملا مطالبہ کرتے ہیں ۔کشمیری دماغ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انتخابی نتیجہ کشمیر کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی تاریخ میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اپنے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے الیکشن سمیت ہر دستیاب پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔کشمیریوں نے انجینئر رشید کو ووٹ دے کر دہلی کو واضح پیغام دیا ہے کہ ’’وہ ہماری امنگوں کا احترام کرے اور ہمیں حق خود ارادیت دے، کشمیری اس کا کوئی حربہ بھی کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔‘‘ کس قدر دل چست مماثلت ہے کہ ایک جانب ہمارا کلٹ بھی ان دنوں اپنے زخم چاٹ رہا ہے ، جس نے 5 اگست 2019 کے مودی کے فیصلے پر کہا تھا ’’ جو کشمیر میں اس وقت مسلح جہاد کرے گا ، وہ دشمن ہے ۔ ‘‘ اور کوئ عملی اور سخت قدم اٹھانے کے بجائے دس منٹ کے علامتی احتجاج سے کشمیر پر مودی کے اقدامات کو جواز بخشا اور دوسری جانب 5اگست کو کشمیریوں کے حقوق چھیننے والا مودی کلٹ بھی رسوا ہو چکا ہے ۔
بھارتی الیکشن کے جائزے اور ان نتائج کے بھارت میں ممکنہ اثرات کے تجزیہ کے بعد لازم ہے کہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ مودی کی سرشت کو دیکھا جائے تو اپنی ہر ناکامی کو چھپانے کی خاطر پاکستان کے خلاف محاذ آرائی بڑھانے اور فالس فلیگ آپریشن کے ذریعہ سے انتہا پسند ہندووں کی ہمدردیاں حاصل کرتا رہا ہے ، یہ الیکشن نتائج اس کے لئے اتنی بڑی ہزیمت ہے کہ ان کی وجہ سے اس کے تمام مستقبل کے منصوبے خاک میں مل گئے ہیں ، لہٰذا اس امر کاخطرہ موجود ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کوئی پنگے بازی ضرورکرے گا۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ پلوامہ کی طرح کا کوئی ڈرامہ کرکے ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے ۔ ہماری طرف مجیب بننے کے شوقین اور پاکستان کے خلاف بھارت کے کسی بہت بڑے اقدام کے انتظار میں بیٹھے نمک حرام عناصر کے لئے کوئی اچھی خبریں نہیں ہیں ،اگر مودی پاکستان کارڈ کھیلتا بھی ہے تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دینے کو تیار بیٹھا ہے ، اس سے نا صرف مودی بلکہ یہاں موجود اس کے بہی خواہ بھی ششدر رہ جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں