Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

مودی کا طرہ امتیاز

المیہ یہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا بری طرح سے سیاسی ’’ کھوبےمیں پھسا‘‘ ہوا ہے۔انتشاری ٹولے کی حکومت کے دوران مخصوص مقاصد کے تحت میڈیا سےحقیقی صحافیوں کاصفایا کرکےجس طرح کی مخلوق کو مسلط کیا گیا،اس سے صرف پروفیشنل ازم کاہی جنازہ نکلا بلکہ خبر اور آگاہی بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ پرانے کاریگروں نے اس خلا سےفائدہ اٹھاتے ہوئےاپنے غیر ملکی آقائوں کی دلالی کو فروغ دیا اور باقی ڈیڑھ بالشتیے جتھوں کی منشی گیری اور اباحیت سے آگے کاسوچنےکی صلاحیت سےہی عاری ہیں۔ اندرون ملک ان کے نزدیک خبر صرف وہ ہے جو لفافہ بند ہو، اور انٹرنیشنل شعورپڑوسی ملک کی اداکارائوں کی نشست وبرخاست اورافیئرز کےحساب سے آگےہانپ جاتاہے۔ مودی کے تیسری باروزارت عؓظمیٰ ہتھیانے کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن اوراس کے بعد پاکستان پر حملے کا ماحول بنایا جا رہا ہے ،مودی کے راتب پرپلتا بھارتی گودی میڈیا زنجیر سے بندھے کتے کی طرح پاکستان پر بھونک بھونک کر ہلکان ہواجارہاہے،اورحد یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی جگہ اس صورتحال کے ایک فیصد کا بھی ادراک موجود نہیں ہے، البتہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ جنہیں بیدار ہونا چاہئے تھاوہ پوری طرح سے مستعد ہیں ، دشمن کی ایک ایک حرکت پر نظر ہے اور پہلے سے بڑا’’سرپرائز‘‘ دینے کی تیاریاں بھی مکمل ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں بے چینی ، معاشرےمیں بڑھتی ہوئی تقسیم اورجغرافیے پر گہری ہوتی ہوئی لکیریں ،مودی کے دم سےنتیجہ خیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سینکڑوں راجواڑوں پر مشتمل ایک غیر حقیقی ملک بھارت کےحصے بخرے ہونے کے عمل کو مودی نے جو مہمیز دی ہے، پاکستان چاہتا بھی تو اس کے پاس اتنے فنڈز ہی نہیں تھے کہ بھارت میں فالٹ لائنز کو اس حد تک استعمال کرسکے۔ یہ مودی کا طرہ امتیاز ہے، اس سے یہ اعزاز کوئی نہیں چھین سکتا کہ اس نے بھارت کو جس تیزی کے ساتھ تقسیم درتقسیم کے راستے پر ڈالا ہے ، کسی دوسرے کے لئے ایسا کرنا ممکن ہی نہ تھا ، باہر سے تو اور بھی زیادہ مشکل ہوتا ۔اس الیکشن میں خطرہ تھا ، مودی اگر الیکشن ہارجاتا ،کانگریس یا کوئی بھی دوسری جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی تو مودی کی ساری محنت پر پانی پھر جاتا ، لیکن مودی کو تیسری بار اقتدار ملنے سے یہ خطرہ ٹل گیا ہے ،بلکہ امید کی لو تیز ہوگئی ہے، زخمی سانپ کی طرح بل کھاتا، زہر گھولتا ہوا مودی بھارت کے وجود کو اتنے زخم لگادے گا کہ وہ خطے کے امن کے لئےخطرہ نہ بن سکے ۔ مودی کی انہی’’ خدمات‘‘ کے نتیجے میں بھارت بھر میں علیحدگی کی آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں ۔ کانگریس لیڈر ڈی کے سریش کا یہ کہنا بہت اہم ہے کہ ’’جنوبی ریاستوں سے وصول کیےجانےوالے ٹیکس بھارت کی شمالی ریاستوں کو دیئےجا رہے ہیں، مرکزی حکومت جنوبی ریاستوں کو فنڈز جاری نہیں کر رہی۔ یہی صورتحال رہی تو بھارت کی جنوبی ریاستیں جلد ہی علیحدہ وطن کے مطالبے کی تحریک شروع کریں گی۔‘‘ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ چتاونی کانگریس دےرہی ہے ، کوئی اور نہیں ۔
کشمیر کبھی بھارت کا تھا نہ ہے نہ ہو سکتا ہے ، لیکن خالصتان کی تحریک جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ،لگتا ہے وہ کشمیریوں سے بھی پہلے اپنا مقصد حاصل کرلیں گے ، اور کشمیریوں کے معاون ثابت ہوںگے ۔یقین نہ آئے تو مغربی ممالک میں خالصتان کے لئےہونے
والےریفرنڈم دیکھ لیں ، کس طرح سے سکھ جوق درجوق حصہ لیتے ہیں ۔ مودی حکومت نے اپنی روش برقرار رکھتے ہوئے سکھوں کی طرح دیگر ریاستوں کو بھی نظرانداز کرنا شروع کردیا ہے، حال ہی میں بھارتی حکومت نے اپریل کے عام انتخابات سے پہلے سال 2024ء اور 2025ء کیلئے ملک کا عبوری بجٹ پیش کیا جس میں جنوبی ریاستوں کو مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے جس پر ان ریاستوں میں ناانصافی پر مودی حکومت کیخلاف احتجاج کیاجارہا ہے۔
خالصتان کی تحریک کو مہمیز دینے میں مودی کا کردار تسلیم نہ کرنا زیادتی ہوگی ، لیکن اس تحریک کی جڑیں مضبوط کرنے کا کام کانگریس نے سرانجام دیا ہے ، کسی بھی قوم کی تاریخ کی عمارت بےگناہوں کے خون سے مستحکم ہوتی ہے اور سکھوں کو یہ بنیاد فراہم کرنے والی کانگریس ہے، جس نے یکم جون سے دس جون 1984 تک کامل دس دن سکھوں کا قتل عام کرکے ثابت کردیا کہ ہندوتوا کے پجاری کسی کے دست نہیں ۔ ان دس دنوں میں بھارتی فوج نے امرتسر میں5ہزار نہتے سکھوں کو گولڈن ٹیمپل ( سکھوں کی عبادت گاہ ) میں قتل کیاجبکہ جن پر عسکریت پسندی کا الزام تھا، ان کی تعداد صرف 492 تھی ۔آپریشن بلیو سٹار نامی یہ قتل عام منظم نسل کشی تھی، جس میں کے ایس پی گل کی قیادت میں بھارتی فوج کے10ہزار ’’دہشت گردوں‘‘ نےحصہ لیا، بھاری توپخانے اور ٹینکوں سے گولڈن ٹیمپل پرحملہ کیاگیا ۔ سنت جرنیل سنگھ بھنڈراوالہ سمیت 5ہزار سکھوں کا قتل عام کیا گیا ۔سکھوں کی ان ہلاکتوں کے بعد پورے مشرقی پنجاب میں ہر طرف سوگ تھا، غم وغصہ تھا ۔ یہی غصہ گولڈن ٹیمپل پرحملے کے چھ ماہ بعد اس وقت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی پر نکلا جنہیں ان کےاپنے دوسکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ انہیں میں ایک بینت سنگھ کا بیٹا سربجیت سنگھ اس بارفرید کوٹ کے علاقے سے ایم ایل اے بن گیا ہے ۔تاریخ کے سینے میں یہ راز بھی محفوظ ہے کہ اندرا گاندھی کی ہلاکت کے بعد پورےبھارت خصوصاً دلی میں پھر سکھوں کا قتل عام کیا گیا ، جس میں تین ہزار سے زائدسکھ ہلاک کر دیے گئے،سینکڑوں زندہ جلا دئیے گئے اور انکی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ایک خالصے دوست کے الفاظ اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرنے کو کافی ہیں کہ’’ پنجاب میں ہر اس نوجوان کو قتل کردیا گیا ، جو پگڑی باندھتا تھا ، نتیجہ یہ کہ لڑکیاں بیاہنے کے لئے لڑکے نہیں ملتے تھے ۔‘‘اسی قتل عام کا نتیجہ تھا کہ سکھوں نےاحتجاجاًسرکاری نوکریوں سے استعفے دئے ، بھارتی حکومت سے ملنے والے اعزازات واپس کر دیے۔ 90 فیصد سکھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا رخ کیا، بعد ازاں انھوں نے اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلایا اور یوں برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا میں سکھ ڈائس پورا مستحکم ہوا ، جو اب بھارت کے لئے وبال جان بنا ہوا ہے ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ کانگریس کے لگائے پودےکو تمام تر اختلافات کے باوجود مودی نے پانی دینے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے ۔کانگریس نے بھارت میں قتل عام کرکے سکھوں کو سمجھایاکہ ان کا بھارت میں ، اور بھارت کے ساتھ رہناممکن نہیں ، اور مودی نےکینیڈا ، امریکہ اور دیگر ممالک میں بھارتی ایجنسی را کے ذریعہ سے ہدف بنا کر انہیں خالصتان کی تحریک کو جلد انجام تک پہنچانے پر مجبور کردیا ہے ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ مودی کا یہ تیسرا عرصہ اقتدار نہ صرف سکھوں کو آزادی کی منزل کے حصول میں معاون ثابت ہوگابلکہ کشمیر کی طرح بھارت کے مسلمانوں اور جنوب کی ریاستوں کو بھی جلدازجلد بھارت کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں سے اتار پھینکنے کا فیصلہ کرنے پر ضرور مجبور کردے گا ۔

یہ بھی پڑھیں